پیشگی خبردار کیے بغیر ڈرون طیاروں سے بم گرانا کہاں کا انصاف ہے ،سرتاج عزیز ،ڈرون ..
تازہ ترین : 1
پیشگی خبردار کیے بغیر ڈرون طیاروں سے بم گرانا کہاں کا انصاف ہے ،سرتاج ..

پیشگی خبردار کیے بغیر ڈرون طیاروں سے بم گرانا کہاں کا انصاف ہے ،سرتاج عزیز ،ڈرون حملے کرنیوالے قبائلی روایات اور بدلا لینے کے اصول سے آگاہی نہیں رکھتے ، مشیر خارجہ ،امریکہ نے زیادہ تر ہائی ویلیو ٹارگٹ حاصل کرلئے ہیں ،میزائل حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، طالبان کے ساتھ مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، رابطے بحال کیے جا رہے ہیں، تفصیلات نہیں بتا سکتا ،تقریب سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء)وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پیشگی خبردار کیے بغیر ڈرون طیاروں سے بم گرانا کہاں کا انصاف ہے ،ڈرون حملے کرنیوالے قبائلی روایات اور بدلا لینے کے اصول سے آگاہی نہیں رکھتے ، امریکہ نے زیادہ تر ہائی ویلیو ٹارگٹ حاصل کرلئے ہیں ،میزائل حملوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے بدھ کو انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں اکبر ایس احمد کی کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ڈرون حملوں نے قبائلی علاقوں کے مسائل کو گھمبیر بنا دیا ہے ، ڈرون حملے کرنے والے قبائلی روایات سے آگاہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ڈرون حملوں میں بیشتر ہائی ویلیو ٹارگٹ حاصل کر چکا ہے ڈرون حملوں کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ اسٹرٹیجک مذاکرات کیلئے رواں ماہ امریکہ جا رہا ہو، ڈرون حملوں کا معاملہ امریکی قیادت کے سامنے اٹھاوں گا۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات ابتدائی مرحلے میں ہیں، رابطے بحال کیے جا رہے ہیں، تفصیلات نہیں بتا سکتا۔

ماضی میں قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے سے نقصان ہوا۔ امریکی حمکت عملی کی وجہ سے قبائلی عوام مخالف ہوئی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈرون روکنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کا قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کا فیصلہ غلط تھاقبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے سے حالات خراب ہوئے اور قبائئلی نظام تہس نہس ہوگیا۔

سرتاج عزیز نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ نے پاکستان کے مسائل کو پیچیدہ ترین بنادیا ہے، نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کا ساتھ دینے پر قبائلی عوام پاکستان کے خلاف ہوگئے۔سرتاج عزیز نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں ماضی فوج بھیجنے کے مقاصد کچھ اور تھے تاہم موجودہ حالات میں ریاست کی رٹ قائم کرنے کیلئے فوج بھیجی جاسکتی ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/01/2014 - 21:33:35

اپنی رائے کا اظہار کریں