دنیا میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد اب ایک ارب کے قریب پہنچ گئی
تازہ ترین : 1

دنیا میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد اب ایک ارب کے قریب پہنچ گئی

نیویارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 8جنوری 2014ء) نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد اب ایک ارب کے قریب پہنچ گئی ہے۔امریکن میڈیکل جرنل کے جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں محققین نے بتاتا کہ اضافے کی وجہ آبادی کا بڑھنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی گذشتہ 50 سالوں میں دگنی ہوئی ہے۔روس اور انڈونیشیا سمیت کچھ ممالک میں تقریباً 50 فیصد سے زیادہ مرد ہر روز سگریٹ نوشی کرتے ہیں تاہم سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کی مجموعی شرح میں کمی دیکھی گئی 1980 کے مقابلے میں یہ شرح مردوں میں دس فیصد کم ہوئی ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح چار فیصد کم ہوئی۔

محققین نے بتایا کہ دنیا بھر میں حکومتوں کو سگریٹ نوشی کے رجحان کو کم کرنے کے لیے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔ حکام کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ سگریٹوں پر ٹیکس میں اضافہ، ان کے پیکٹوں پر صحت سے متعلق تنبیہی پیغامات اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانیعت جیسے اقدامات پر غور کریں۔یاد رہے کہ گذشتہ برس برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ کے ڈبے پر شائع ہونے والی خطرناک تصاویر کا سگریٹ نوش نوجوانوں پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔

برطانیہ نے 2008 میں سگریٹ کے ڈبے پر مرض زدہ پھیپھڑوں اور دل کے آپریشن کی تصاویر متعارف کروائی تھیں تاہم سٹرلنگ یونیورسٹی کی طرف سے اٹھائیس سو بچوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان تصاویر کا 11 سے 16 سال کے نوجوانوں پر سگریٹ نوشی ترک کرنے کے حوالے سے تقریباً کوئی اثر نہیں ہوتا تاہم ان خطرناک تصاویر کا سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں اور تجربے کے لیے سگریٹ نوشی کرنے والوں پر اثر ہوا تھا۔

گذشتہ سال اور رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یورپ میں ہونے والی تمام اموات میں سے دس فیصد کا باعث پھیپھڑوں کی بیماری کے باعث ہوتی ہیں اور اس کا بڑا سبب سگریٹ نوشی ہے۔ رپورٹ میں میں کہا گیا تھا کہ تمباکو نوشی ’یورپ میں صحت کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے،اور تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے سرطان، سی او پی ڈی اور دل کی رگوں کی بیماریوں کی ایسی سب سے بڑی وجہ ہے جس سے بچا جا سکتا ہے۔2000 سے برطانیہ کا ادارہ صحت این ایچ ایس لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کے لیے مفت مشورے اور کونسلنگ فراہم کر رہا ہے۔

وقت اشاعت : 08/01/2014 - 12:58:58

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں