ڈپٹی سیکرٹری سراج فاطمہ نے سیکرٹری کے خلاف سندھ اسمبلی میں وال چاکنگ کرادی،اسپیکر ..
تازہ ترین : 1

ڈپٹی سیکرٹری سراج فاطمہ نے سیکرٹری کے خلاف سندھ اسمبلی میں وال چاکنگ کرادی،اسپیکر آغا سراج درانی نے قائمقام سیکریٹری اسمبلی کے خلاف وال چاکنگ کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ۔ اپ ڈیٹ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7 جنوری ۔2014ء) سندھ اسمبلی بلڈنگ کے اندر منگل کو وال چاکنگ کردی گئی ۔ یہ وال چاکنگ سندھ اسمبلی کی خاتون ڈپٹی سیکرٹری سراج فاطمہ نے کی اور یہ نعرے تحریر کئے کہ سندھ اسمبلی کے قائم مقام سیکرٹری کو ہٹایا جائے اور میرے خلاف نا انصافی بند کی جائے ۔ وال چاکنگ گراوٴنڈ فلور پر سیکرٹری اور دیگر افسروں کے دفاتر کے باہر کی گئی ۔

اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری مخدوم شفیع کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کردی اور کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ وال چاکنگ کرنے والے کی نشاندہی کرے اور اس کے خلاف کارروائی کرے ۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سید حسن شاہ اور قمر حیدر عابدی شامل ہیں ۔ اسپیکر نے سندھ اسمبلی کے چیف سکیورٹی افسر یوسف جونیجو اور دیگر چار سکیورٹی اہلکاروں کو معطل کردیا ہے ۔

آغا سراج درانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلڈنگ کے اندر اس طرح کی وال چاکنگ اس مقدس ایوان کے تقدس کی پامالی ہے ۔ آج اگر یہ واقعہ ہوا ہے تو کل کوئی دھماکہ خیز مواد رکھ کر چلا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آئی جی سندھ کو خط لکھا ہے کہ وہ سندھ اسمبلی کو فول پروف سکیورٹی فراہم کریں لیکن انہوں نے اس بات پر توجہ نہیں دی ۔ اب انہیں ریمائنڈر بھیجا جائے گا ۔

اگر انہوں نے اس پر کارروائی نہ کی تو انہیں اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے سامنے بلایا جائے گا ۔ خاتون ڈپٹی سیکرٹری سراج فاطمہ نے کہاکہ میرے ساتھ نا انصافیاں ہوئی ہیں ۔ میری ترقی کو روکا گیا ہے ۔ میرے دفتر کے باہر ”نیم پلیٹ “ گر گئی تھی ، میرے بار بار کہنے کے باوجود دوبارہ نہیں لگوائی گئی ۔ میرا تعلق ایم کیو ایم سے ہے اور سیکرٹری سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی کے ہیں ۔

سراج فاطمہ نے کہا کہ یہ وال چاکنگ میں نے کی ہے ۔ میں دیکھتی ہوں کہ مجھے کون ہٹاتا ہے ۔ میں اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف عدالت میں جاوٴں گی ۔ بعد ازاں اسپیکر کی ہدایت پر یہ وال چاکنگ مٹا دی گئی ۔ اس حوالے سے جب سندھ کے سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو کا ردعمل معلوم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وال چاکنگ تو مٹ جاتی ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ دیواروں میں پتھر اور کنکر بھی ہوتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈرخواجہ اظہارالحسن نے کہا کہ اس واقعہ پر افسوس ہوا ہے ۔ اسمبلی بلڈنگ کا اپنا تقدس ہے ۔ واقعہ کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ذمہ داری کا تعین ہونا چاہئے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 07/01/2014 - 21:19:11

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں