صوبے میں متعارف کیا جانے والا مقامی حکومت کا نظام سیاسی خودمختاری کاحامل ہوگا،پرویزخٹک ..
تازہ ترین : 1

صوبے میں متعارف کیا جانے والا مقامی حکومت کا نظام سیاسی خودمختاری کاحامل ہوگا،پرویزخٹک ، تشکیل شدہ قوانین،آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم یقینی بنائیں گے ،بلدیاتی نظام کو صوبائی حکومت پر کبھی بھی انحصار نہیں کرنا پڑیگا، وزیراعلی خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7 جنوری ۔2014ء)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے صوبے میں متعارف کیا جانے والا مقامی حکومت کا نظام،آئین کے مطابق انتظامی،مالیاتی اور سیاسی خود مختاری کا حامل ہوگا۔پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے وفد جس کی قیادت اس کے مرکزی صدر علی بخاری کر رہے تھے ،سے پختونخواہاؤس میں ملاقات کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ اس سلسلے میں نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے نفاذ کیلئے کی گئی قانون سازی آئین کی روح،جمہوریت کے اصولوں اور انتخابی مہم کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈرافٹ کی گئی ہے۔

دوسروں کے ساتھ ساتھ جنرل سیکرٹری یوتھ ونگ سید قاسم علی شاہ،سید حسن مجتبیٰ اور راجہ نعیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ مشرف کے بہت زیادہ تشہیر کردہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے پروگرام کے برعکس جس میں اضلاع کو منتقل کئے جانے والے وسائل صرف ضلعی اور لوکل گورنمنٹ کے ملازمین کی تنخواہوں تک محدود تھے،خیبر پختونخوا حکومت ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ اضلاع سے نیچے تحصیل،یونین کونسل اور حتیٰ کہ گاؤں کی سطح تک کے بلدیاتی اداروں کو منتقل کر رہی ہے تاکہ نچلی سطح پر لوگوں کو بااختیار بنانا یقینی بنایاجائے جبکہ دوسری طرف فلور کراسنگ کے بارے میں سخت قانون بنایا گیا ہے تاکہ جمہوریت اور جمہوری اصول مضبوط ہوں۔

پرویز خٹک نے کہا کہ تشکیل شدہ قوانین،آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم یقینی بنائیں گے اور بلدیاتی نظام کو صوبائی حکومت پر کبھی بھی انحصار نہیں کرنا پڑے گا اور بلدیاتی نظام کی آزادی اور خود مختاری یقینی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قانون نے صوبائی ولوکل گورنمنٹ کے علاوہ ڈسٹرکٹ ،تحصیل،یونین کونسل اور ویلج کونسل کے کردار،اختیارات اور ذمہ داریوں کی واضح طور پر تشریح کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس قانون کے نفاذ سے یونین کونسلوں کا ترقیاتی بجٹ دس گنا تک بڑھنے کی توقع ہے۔ وزیر اعلیٰ نے پشاور میں صفائی اور دوسری شہری خدمات کے بارے میں بتایا کہ ایک طرف صفائی مہم مستقل طور پر جاری ر ہے تو دوسری طرف اس کے مستقل حل کیلئے ایک آزاد اور خود مختارکمپنی تشکیل دی گئی ہے۔یہ خدمات بین الاقوامی شہرت کی حامل فرموں کے حوالے کی جائیں گی تاکہ جدید مشینری کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنے اور اس کی تربیت ہماری اپنی افرادی قوت کو دی جائے۔

انہوں نے انکشاف کیاکہ پشاور کے ماس ٹرانزٹ سسٹم کا مطالعہ آخری مراحل میں ہے اور تکمیل کے بعد ایک ایسا سسٹم متعارف کرایا جائے گاجس سے صوبائی دارالخلافہ پشاور میں ٹریفک کارش کنٹرول ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ پشاور کے تاریخی قدیم شہرکے احیاء پرکام ہو رہاہے اور اسے جلد مکمل کر لیاجائے گا۔

وقت اشاعت : 07/01/2014 - 17:51:31

اپنی رائے کا اظہار کریں