فیصلوں کیلئے ریفرنڈم کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے‘عمرعبداللہ
تازہ ترین : 1

فیصلوں کیلئے ریفرنڈم کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے‘عمرعبداللہ

سرینگر (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 7جنوری 2014ء)مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ فیصلوں کیلئے ریفرنڈم کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے- عام آدمی پارٹی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے فوجی انخلاء اورکالے قوانین کے خاتمے کے لئے ریفرنڈم کی نہیں سیاسی عزم اور بہادر لیڈر کی ضرورت ہے،اہم،مشکل اور نازک فیصلے لیتے وقت سیاسی لیڈر کا بہادر اور پر عزم ہونا بنیادی شرط ہے۔

سمکلی ویب سائٹ پر تحریر کردہ اپنے ایک ٹویٹ میں عمر عبداللہ نے لکھا ہے جموں وکشمیر میں تعینات سیکورٹی فورسز کی تعداد کو کم کرنے اور افسپا کی مرحلہ وار واپسی یا منسوخی عمل میں لانے کیلئے ریفرنڈم کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کیلئے ایک ایسے سیاسی لیڈر کی ضرورت ہے جو بہادری ،عزم اور قوت ارادی کے تحت فیصلہ لے سکے۔انہوں نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز کی تعداد میں کمی کے حوالے سے عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر نے جو تجویز پیش کی ہے،ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے،ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فوج و فورسز کی تعداد میں کمی اور افسپا کی مرحلہ وار واپسی کا فیصلہ بہادر سیاستدان ہی لے سکتا ہے۔

عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں مزید تحریر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومتوں کو اچھی گورننس یا حکومت سازی کے ساتھ ساتھ اہم فیصلے لینے کیلئے ہی منتخب کیا جاتا ہے۔عمر عبداللہ کے بقول جب جمہوری طور کسی حکومت کو عوام کا منڈیٹ دیا جاتا ہے تو ایسی حکومتیں اچھی حکومت سازی کے ساتھ ساتھ اہم فیصلے بھی لیا کرتی ہیں ، فیصلوں کیلئے ریفرنڈم کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہم اور نازک فیصلے لیتے وقت سیاسی لیڈر کا بہادر اور پر عزم ہونا بنیادی شرط ہوتی ہے اور جس سیاسی لیڈر میں ایسی خوبیاں ہوں وہ مشکل فیصلے بھی لیا کرتا ہے۔وزیر اعلی نے مزید برآں افسپا کی منسوخی یا واپسی سے متعلق اپنے مطالبے اور موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بھی کوئی بہادر سیاستدان ہی لے سکتا ہے کہ جموں و کشمیر میں کب مرحلہ وار بنیادوں پر افسپا کی واپسی یا منسوخی عمل میں لائی جائے۔

وقت اشاعت : 07/01/2014 - 13:51:13

اپنی رائے کا اظہار کریں