عراق،فورسزاورالقاعدہ جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 22فوجیوں سمیت 34ہلاک،جنگجوؤں ..
تازہ ترین : 1

عراق،فورسزاورالقاعدہ جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 22فوجیوں سمیت 34ہلاک،جنگجوؤں کے ٹھکانوں پرشیلنگ اور حملے ،قبائلیوں اورفورسزکا القاعدہ کے خلاف مشترکہ آپریشن جاری، انبار صوبے پر جنگجوؤں کے فضائی حملوں کی ویڈیو جاری،رمادی اورفلوجہ میں لوگوں نے خودکو مسلح کرلیا،لیفٹیننٹ جنرل کی گفتگو

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6 جنوری ۔2014ء)عراقی صوبہ الانبار میں فورسز اورالقاعدہ جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں 22فوجی اور12انتہاپسند ہلاک ہوگئے،فورسزنے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پرشیلنگ اورفضائی حملے کیے،فورسزمقامی قبائل کے ہمراہ رمادی اورفلوجہ میں پیش قدمی کررہی ہیں اوردودن سے علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے تاہم ابھی تک کوئی واضح کامیابی نہیں مل سکی،القاعدہ کے خلاف کامیابی کے لیے فورسزمقامی قبائلیوں کو ہوائی تحفظ اور سپلائی کی نگرانی کر رہی ہے،فلوجہ اوررمادی کے شہریوں نے بھی خود کو مسلح کرنا شروع کردیا،قبل ازیں عراقی وزارت دفاع نے انبار صوبے پر کیے گئے فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی ، ان ویڈیوز میں زیادہ تر وہ مناظر ہیں، جو جنگی طیاروں نے بمباری کے وقت ریکارڈ کی تھیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز عراقی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہاگیا کہ عراقی فوج نے مادی اور فلوجہ پر القاعدہ سے وابستگی رکھنے والی سنی ملیشیا کے کنٹرول کو ختم کرنے کے لیے شیلنگ اور فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں فوجیوں سمیت 34 افرادکے مارے جانے کی اطلاعات ہیں، عراقی فوج نے انبار صوبے کے صوبائی صدر مقام رمادی کے گرد و نواح میں انتہا پسندوں کو پسپا کرنے کی کارروائی شروع کر دی،رمادی شہر سے دو حکومتی اہلکاروں نے اپنے نام مخفی رکھتے ہوئے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ اِس دوران ہونے والی لڑائی میں 22 فوجیوں سمیت 12 سویلین کی ہلاکت ہوئی ۔

اہلکاروں کے مطابق کئی انتہا پسند بھی حکومتی اور قبائلیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ رمادی شہر کے بعض حصوں میں عراقی فوج کے داخل ہونے کا بھی بتایا گیا ۔ سرکاری ٹیلی وژن پر انبار پر جاری فوجی کارروائی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رشید فلیح نے کہاکہ فلوجہ اور رمادی سے انتہا پسند جنگجووں کو نکال باہر کرنے کے لیے دو سے تین دن درکار ہوں گے۔

عراقی فوج کے جنرل کے مطابق رمادی اور فلوجہ میں فوجی آپریشن کی قیادت قبائلی کر رہے ہیں کیونکہ وہ علاقے سے خاصی واقفیت رکھتے ہیں۔ جنرل رشید فلیح نے کہاکہ ان قبائلیوں کو ہوائی تحفظ اور سپلائی کی نگرانی کر رہی ہے۔انتہا پسندوں کے قبضے میں آئے ہوئے شہر فلوجہ کے اندر مقامی لوگوں نے خود کو مسلح کرنا شروع کر دیا اور ان میں کچھ ایسے گروپ بھی ہیں، جو عراق میں امریکی فوج کے خلاف بھی مسلح کارروائیوں میں شریک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی طور پر عراق فوج کو شہر میں داخل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ حکومتی فوج اورالقاعدہ کے مخالف قبائلیوں نے فلوجہ شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 06/01/2014 - 21:40:41

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں