خیبرپختونخوا میں سائنسی بنیا دوں پر جرائم کی تفتیش اور دہشت گرد کی واقعات کیلئے ..
تازہ ترین : 1

خیبرپختونخوا میں سائنسی بنیا دوں پر جرائم کی تفتیش اور دہشت گرد کی واقعات کیلئے قائم محکمہ پو لیس کا انتہا ئی اہم ادارہ فورنسک سائنس لیبارٹری زبوں حالی کا شکا ر

پشاور ( رحمت اللہ شباب ۔اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6 جنوری ۔2014ء) خیبر پختون خواہ میں سائنسی بنیا دوں پر جرائم کی تفتیش اور دہشت گرد کی واقعات کیلئے قائم محکمہ پو لیس کا انتہا ئی اہم ادارہ فورنسک سائنس لیبارٹری زبوں حالی کا شکا ر ہے اور ائندہ چند ما ہ میں خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت بند ہو سکتا ہے ۔لیبارٹری کے اندرونی ذارائع سے مو صولہ اطلا عات اور مصدقہ شہا دتوں سے معلوم ہوا ہے کہ سال 1976میں قائم اس لیبا رٹری میں 1980 تک 85افراد پر مشتمل ما ہرین کا عملہ کا م کر تا رہا جو کہ کم ہو کر اب صرف دس افراد پر مشتمل ہے ۔

رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ اس وقت خیبر پختون خواہ میں صرف بارہ اضلا ع تھے جبکہ ابھی کل اضلا ع کی تعداد اس سے دگنی ہو گئی ہے اور جرائم کی شرح میں بھی کئی سو گنا اضافہ ہو چکا ہے مثلا ًاس وقت مقدمات کی تعداد صرف 2000تھی لیکن اب یہ تعداد 70,000سے بھی تجا وز کر گیا ہے ۔ اس ادارے میں جتنے بھی ماہرین تھے ان میں سے اکثر ریٹا ئر ہو گئے جبکہ باقی بھی ریٹائرمنٹ کی طبعی عمر پوری کر چکے ہیں اور گذشتہ بیس سالوں میں اس ادارے میں کو ئی تعینا تی نہیں ہو ئی ہے اور نہ اس کیلئے کو ئی جدید الات خریدے ہیں حالانکہ ہا ئیکورٹ اور لوئر عدلیہ اسن کی شہا دتوں پر اور رپورٹو ں کو مدنظر رکھ کر مجرموں کو سزائیں دیتی ہیں ۔

اسی ہی لیبارٹری کی کارکر دگی کی وجہ سے اکثر بڑے بڑے مگر مچھ قانون کے شکنجے سے شہا دتوں کی عدم دستیا بی کی وجہ سے صاف بچ نکلتے ہیں ۔اس لیبارٹری کی حالت زار کی وجہ سے صوبائی اسمبلی نے سال 2007میں ایک قرارداد بھی پا س کی تھی لیکن افسران کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اب تک کو ئی پیش رفت عمل میں نہیں ائی ہے ۔ ۔ اس لیب کی حالت پر ترس کھا کر یو این ڈی پی اور دیگر اداروں نے اس کو متعدد مرتبہ فنڈز کی فراہمی کی پیش کش بھی کی جس سے بو جوہ کو ئی فائدہ نہیں اٹھا یا گیا حالانکہ سندھ اور پنجا ب میں اس قسم کی لیبارٹریوں کو کئی ملین فنڈز دیکر ان کو ملک کی بہترین لیبارٹریز بنا ئے گئے ہیں ۔

اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر میں واقع پولیس چوکی نمبر 2کے قریب قائم اس لیب کو بغیر کسی خاص وجہ کے حیات اباد میں زرعی بنک کے عمارت میں منتقل کیا گیا جہاں ما ہرین کے مطابق یہ انتہا ئی غیر محفو ظ یو گئی ہے ، ایسی بھی اطلا عات ہیں کہ اس لیبارٹر ی کی تبدیلی پر تقریبا ً چار ملین کی خطیر رقم خرچ ہو چکی ہے ۔اور ا س میں بھی موجود دور کی جدید الا ت تفتیش بیکا ر ہو چکے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق اس لیبا رٹیری کو اگر جنگی بنیا دوں پر درست نہ کیاگیا تو بہت جلد یہ لیب بند ہو سکتی ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 06/01/2014 - 20:30:23

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں