ہنگو، سرکاری اسکول پرخودکش حملہ ،طالب علم جاں بحق
تازہ ترین : 1
ہنگو، سرکاری اسکول پرخودکش حملہ ،طالب علم جاں بحق

ہنگو، سرکاری اسکول پرخودکش حملہ ،طالب علم جاں بحق

ہنگو(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 6جنوری 2014ء)ہنگومیں سرکاری اسکول پرخودکش حملہ ، ایک طالب علم جاں بحق۔ کالعدم لشکر جھنگوی نے خودکش حملے کی ذمہ دار قبول کرلی ۔ حملہ آور نے ہنگومیں سرکاری اسکول کے گیٹ کے سامنے خودکش دھماکاکیا، جس سے ایک طالب علم جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ ابراہیم زئی میں گورنمٹ بوائز اسکول پرکیا گیا۔

خودکش حملہ آوارمسافر کوچ سے وہاں پہنچا اور اسکول کے سامنے خود کو اڑالیا۔واقعہ میں اسکول کے باہر کھڑا نویں جماعت کا طالبعلم جاں بحق ہوگیا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ،جی ٹی روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردی ہے۔ دوسری جانب کالعدم لشکر جھنگوی کے ترجمان علی سفیان نے نامعلوم مقام سے جیو نیوز کو فون کرکے ہنگواسکول پرخودکش حملہ کی ذمہ دار قبول کرلی ہے۔

وقت اشاعت : 06/01/2014 - 11:46:15

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • Amir Nawaz Khan Says : 06/01/2014 - 14:30:07

    دہشت گردوں کا سکولوں کی تباہی اور سکول دشمنی کا رویہ بتاتا ہے کہ وہ طالبان نہیں جاہلان ہیں. سکول دشمنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اسلام اور پاکستان دونوں کے مخلص نہیں اور نہ ہی ان کو پاکستانی عوام میں دلچسپی ہے بلکہ یہ تو اسلام ،پاکستان اور عوام کے دشمن ہیں کیونکہ یہ ہمیں ترقی کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتے۔ سکولوں کو جلانے اور طالب علموںپر حملوں کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم دہشت گردوں کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان کی غیر طالبان ،بریلوی مسلمان اکثریت پر مسلط کریں۔ خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. طالبعلموںاور اساتذہ اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں