جب تک سنی تحریک ہے انشاء اللہ ہم نیا مشرقی پاکستان نہیں بننے دیں گے، سربراہ پاکستان ..
تازہ ترین : 1

جب تک سنی تحریک ہے انشاء اللہ ہم نیا مشرقی پاکستان نہیں بننے دیں گے، سربراہ پاکستان سنی تحریک، ربیع الاول کے بعد سنی تحریک مہنگائی اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور تحریک کا آغاز کیا جائے گا،محمد ثروت اعجاز قادری

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5 جنوری ۔2014ء) پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ جب تک سنی تحریک ہے انشاء اللہ ہم نیا مشرقی پاکستان نہیں بننے دیں گے۔اگر طاقت کی زبان کی بات کی جائے گی تو میرے قائد کے سپاہی اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکا، سعودیہ اور دیگر ممالک کے ادارے بناتے ہیں۔

آج اس ملک میں آئین توڑنے والے عدالتوں، پاکستان، عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو گالی دینے والوں سے قانون ڈرتا ہے اور ان ہی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں۔آج ہمارے ادارے اتنے بے بس ہیں کہ وہ دہشتگرد تنظیم اہلسنت و جماعت جو سپاہ شیطان کی شاخ ہے اور وہ نام بدل کر کام کررہی ہے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کرسکتی۔ اس دہشتگرد تنظیم پر پابندی عائد کی جائے۔

ربیع الاول کے بعد سنی تحریک مہنگائی اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ 11 ربیع الاول کو بھی ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اور 12 ربیع الاول تک ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔نواز شریف کے پاس 12 کروڑ میلادی کے لئے وقت نہیں ہے لیکن اس کے پاس 2 کروڑ فسادی کے لئے وقت ہے ۔

ہمارا عزم اور خواب ہے کہ اس ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ اس ملک سے طبقاتی نظام کا خاتمہ کرنا ہے۔ تعلیم کو عام کرنا ہے۔ ہم چہرے نہیں نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ہمارے ملک میں چیف آرمی اسٹاف بناتے وقت اس کا سیاسی اثر و رسوخ کیوں دیکھا جاتا ہے۔ اگر سوچ کو نہیں بدلا گیا تو ہم کھبی ان دہشتگردوں سے آزاد نہیں ہوں گے۔ پاکستان سنی تحریک عوامی تحریک کی 6 جنوری کی ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ایس ٹی کے تحت نشتر پارک کراچی میں منعقدہ ”پاکستان بچاؤ جانثاران مصطفیﷺ کانفرنس“ سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس سے ممتاز عالم دین ڈاکٹر محمد آصف اشرف علی جلالی، پاکستان سنی تحریک کے سنئیر رہنما محمد شاہد غوری،رباب علی سومرو، محمد علی جتک، علامہ رضا خان ، شاداب رضا قادری، نور احمد قاسمی، صاحبزادہ شاہ اویس نورانی صدیقی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

جبکہ کانفرنس میں مفتی غلام دشتگیر، محھد زاہد حبیب قادری، علماء کرام، مشائخ عظام کے علاوہ ارکان رابطہ کمیٹی سنی تحریک نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ آج کی یہ کانفرنس اپنے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہ ربیع الاول شریف کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم نے اس کا آغاز تحفظ ناموس رسالتﷺ سے راولپنڈی سے کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اڈیالہ جیل میں غازی ممتاز قادری سے ملاقات کی اور انہوں نے مجھے تحائف بھی پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک ممتاز قادری کا فیصلہ نہ ہوا تو اس کا فیصلہ اب سنی خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہود اور کانگریسی ملا آج پاکستان کے ٹکڑے کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ان ہی طاقتوں کے خلاف ہم نے شہادتوں کا سفر شروع کیا ہے اور ہمارا یہ سفر ان طاغوتی قوتوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ آج ہماری خارجہ پالیسی امریکا، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ادارے بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اس ملک میں آئین توڑنے والے عدالتوں، پاکستان، عوام، پارلیمنٹ اور عدلیہ کو گالی دینے والوں سے قانون ڈرتا ہے اور ان ہی سے مذاکرات کئے جاتے ہیں اور اگر طاقت کی زبان کی بات کی جائے گی تو میرے قائد کے سپاہی اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے بھی نہیں ڈرتے۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ ہمارا عزم اور خواب ہے کہ اس ملک کو فلاحی ریاست بنانا ہے۔ اس ملک سے طبقاتی نظام کا خاتمہ کرنا ہے۔ تعلیم کو عام کرنا ہے۔ ہم چہرے نہیں نظام بدلنا چاہتے ہیں۔ ایک آمر کا تو حساب ہوتا ہے۔ جس آمر نے 1999 نے لسانیت کو ہوا دی اور دہشتگردوں کو جلا بخشی اور یہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو سب اچھا اور حکومت سے باہر تو سب کچھ بڑا ہوجاتا ہے۔

چیف آرمی اسٹاف بناتے وقت اس کا سیاسی اثر و رسوخ کیوں دیکھا جاتا ہے۔ اگر سوچ کو نہیں بدلا گیا تو ہم کھبی ان دہشتگردوں سے آزاد نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کے زبان، مذہب، لسان، مسلک کی بنیاد پر ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیئے۔ سنی تحریک فرقہ واریت، لسانیت اور مسالک سے بالاتر ہوکر عوام کی فلاح کی بات کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سنی تحریک کو واچ لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج حکومت ایک قادری سے پریشان ہے، اگر 12 کروڑ صوفیا عظام کو ماننے والوں نے قادری کا ہاتھ تھام لیا تو پھر کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس 12 کروڑ میلادیوں کے لئے وقت نہیں ہے لیکن اس کے پاس 2 کروڑ فسادی کے لئے وقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس کافروں کے لئے اے پی سی کرنے کا وقت ہے لیکن ہمارے لئے کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا آج اوقاف، نظریاتی کونسل دہشتگردوں کے پاس ہے۔ حکومت اور عدالتوں کا نظام دہشتگردوں کے پاس ہے آج تک عدالتوں نے نشتر پارک اور سنی تحریک کے قائد کے قتل کا سوموٹو نہیں لیا لیکن اب نئے چیف جسٹس آف پاکستان سے امید ہے کہ وہ سانحہ نشتر پارک پر سوموٹو ایکشن ضرور لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دہشتگرد تیار ہوتے ہیں ان کے سربراہوں کو بلا کر ان سے مذاکرات کئے جائیں گے تو پاکستان میں امن کیسے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت، ادارے دہشتگردوں کے ہاتھوں بے بس نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کا کیس، اصغر خان کا کیس ریویو ہوسکتا ہے تو سانحہ نشتر پارک کا کیس کیوں ریویو نہیں ہوسکتا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ آج حکومت دبا کر نوٹ چھاپ کر غربت کے خاتمے کے لئے غریب کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جس طریقے سے دہشتگردی پروان چڑھ رہی ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصلحت پسندی ہمارے ارباب اختیار کی رگوں میں پہنچ چکی ہے اور انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ انہوں نے کہ جب تک سنی تحریک ہے انشاء اللہ ہم نیا مشرقی پاکستان نہیں بننے دیں گے۔ ہم عوامی تحریک کی 6 جنوری کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں۔ آج اس ملک میں سیاسی جماعتوں کے درمیان نورا کشتی چل رہی ہے۔ ہم نے کراچی آپریشن کی حمایت کی انہیں ویلکم کہا اور اس شہر سے دہشتگردی، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحفظ نظریہ پاکستان نامی کالا قانون بنایا گیا ہے۔ حکومت بتائے آج کسی ایک دہشتگرد کو تحفظ نظریہ پاکستان کے تحت گرفتار کیا گیا ہو تو بتائے۔ ڈراؤن حملوں کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں اور ان کے خلاف ہیں۔ لیکن جو مولانا ڈیزل اور مولانا سمیع الحق نے دنیا سے دہشتگرد جمع کئے گئے ہیں یہ کس کھاتے میں ہیں۔ ان کو یہاں سے نکالوں تو نیٹو کی فوجیں خود ہی یہاں سے چلی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ آج اس ملک میں کچھ قوتیں اس ملک میں امن نہیں چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بلدیاتی انتخابات کو ربیع الاول کی وجہ سے آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا تو اس کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ 12 کروڑ سنیوں کو اب اپنے تحفظ اور اس ملک کی بقا اور سالمیت کے لئے جاگنا ہوگا۔ ہم اس ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی 66 سال کی تاریخ میں ایک بھی دہشتگرد کا تعلق سنی یا اہلسنت میں سے نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ادارے اتنے بے بس ہپیں کہ دہشتگرد تنظیم اہلسنت و جماعت جو سپاہ شیطان کی شاخ ہے اور وہ نام بدل کر کام کررہی ہے۔ اس دہشتگرد تنظیم پر پابندی عائد کی جائے۔ ربیع الاول کے بعد سنی تحریک مہنگائی اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی اور تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 11 ربیع الاول کو بھی ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا جائے اور 12 ربیع الاول تک ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن میں سورہ معائدہ میں ہے کہ جو فساد فی العرض ہو ان کا ایک ہاتھ، ایک پاؤں کاٹ دیا جائے۔ حکومت بتائے کہ انہوں نے اس ملک میں فساد پھیلانے والے کتنے لوگوں کے ہاتھ اور پیر کاٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دو ملکوں کی لڑائی پوری اسلامی ممالک میں لڑی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں ایک طرف فسادی اور میلادی کے مابین جنگ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سنی تحریک میڈیا کوریج سے نہیں بلکہ مدینہ والے اور اولیا کرام کے فیضان سے چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کچھ میڈیا کے مالکان عالمی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر محمد آصف اشرف علی جلالوی نے کہا کہ کائنات کا امن رسولﷺ کی غلامی میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہلسنت کا لقب وہی استعمال کرسکتے ہیں جو اس بات کو تسلیم کرتے ہوں کہ آقا و مولا محمد مصطفیﷺ کو ہر ایک گھڑی کا علم تھا اور وہ تمام حالات کا علم رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اہلسنت کا لقب استعمال کرنے والے پہلے رسولﷺ کے غیب کا علم ہونے کا یقین کریں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر کی پوری تاریخ امام احمد رضا فاضل بریلوی کی تاریخ ہے۔ اہلسنت کی نشانی یہ ہے کہ وہ قبروں والوں کو زندہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالتﷺ پر پہرا دینا آج ہماری تمام کی حقیقی ذمہ داری ہے۔ جانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ پاکستان کو 65 سال قبل ہمارے علماء کرام اور مشائخ عظام نے حاصل کیا اور اس کا نام بھی اکابرین نے رکھا ہے کسی کانگریسی ملا نے نہیں حاصل کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے اس ملک کی اس وقت ترجمانی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا آئین بھی اہلسنت کے علماء و مشائخ نے ترتیب دیا ہے۔ اس آئین کی جس کسی نے دھجیاں اڑانے کی کوشش کی تو اس کے تحفظ کے لئے بھی سنی ہپی باہر نکلا تھا۔ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ جس دور میں فتنہ قادنیت ہوا اور گستاخی رسول کرنے کی سازش کی گئی تو اس وقت بھی ان کو نخیل اہلسنت کے اکابرین نے ہی ڈالی تھی اور قادنیوں کو کافر قرار دلوایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں بھی اہلسنت کے اکابرین نے اپنا کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک سازش کے تحت ہم پر مغرب کا لٹریچر تھاپا جارہا ہے۔ اس کی وجہ ہماری مدارس اور علماء اہلسنت سے دوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز قادری عالم اسلام کا ہیرو ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں بیٹھے حکمرانوں کے لیے ممتاز قادری ایک تماچا ہے۔ کسی کے باپ میں ہمت نہیں کہ اس ملک میں تحفظ ناموس رسالتﷺ کے قوانین میں ترمیم کرسکے۔ انہوں نے کہ ایسی سازش کی گئی تو اس ملک کے 18 کروڑ عوام ممتاز قادری بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جلوس پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کی کوشش کرنے والوں کا ہم جلوس نکال دیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 05/01/2014 - 20:58:34

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں