الطاف حسین کی تقریر پر سیاسی رہنماؤں کا شدید رد عمل
تازہ ترین : 1

الطاف حسین کی تقریر پر سیاسی رہنماؤں کا شدید رد عمل

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5جنوری۔2014ء) متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کی جانب سے سندھ ون اور سندھ ٹو کے بیان پر سیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کرکے پاکستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا برطانیہ سے کراچی میں جلسہ سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیں حقوق نہیں دے سکتی تو سندھیوں کے لئے سندھ ون اور دوسروں کے لئے سندھ ٹو پر مشتمل علیحدہ صوبے بنادیئے جائیں جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیر مین بلاول بھٹو زرداری کا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ نو ففٹی ففٹی، نو نمبر ون نمبر ٹو، صرف سندھ دہرتی ہی رہے گی، مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں، کھپے کھپے پاکستان کھپے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے لئے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا، انکل الطاف آپ کی جماعت آپ سے جھوٹ بو ل رہی ہے۔اکستان تحریک انصاف کی مرکزی ترجمان شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی آواز بند کرے، الطاف حسین پاکستان میں انتشار پھیلا رہے ہیں، ایم کیو ایم کے قائد ایک دن بیان جاری کرتے ہیں اور دوسرے دن مکر جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں کارروائی کے لئے درخواست دے گی۔ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی آمد کے بعد کراچی میں بوری بند لاشوں کا سلسلہ شروع ہوا، الطاف حسین کی جانب سے سندھ کو علیحدہ کرنے کی بات سے محب وطنوں کی نیندیں اڑ گئیں ہیں۔سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ علیحدہ صوبے کے مطالبے پر ایک نیا ملک نہیں بننے دیں گے، سندھ قوم پرستوں کی ہڑتال کی حمایت کرتے ہیں۔

وامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا الطاف حسین کے بیان پر کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد ماں کو ون اور ٹو میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ون اور ٹو تو سندھ کو توڑنے کی ہی بات ہے، الطاف حسین کے بیان کے خلاف کل ہر صورت میں ہڑتال کی جائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عرفان اللہ مروت کا کہنا تھا کہ سندھ میں رہنے والے تمام لوگ آپس میں بھائی بھائی ہیں ، الطاف حسین کے دل کا میل ان کی زبان پر آگیا ہے۔

وقت اشاعت : 05/01/2014 - 20:54:03

اپنی رائے کا اظہار کریں