صوبے میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے بھرپوراقدامات اٹھارہے ہیں،پرویزخٹک، کمشنرز ..
تازہ ترین : 1

صوبے میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے بھرپوراقدامات اٹھارہے ہیں،پرویزخٹک، کمشنرز بجلی چوری کی روک تھام اور بروقت بل ادائیگی و بقایاجات کی وصولی میں واپڈا ملازمین سے ا تعاون کریں،چند کنڈا ماروں اور بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کے لوگوں کو دینا اور انہیں اضافی لوڈ شیڈنگ کا نشانہ بنانا انتہائی بے انصافی ہے ،وفد سے گفتگو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔یکم جنوری ۔2014ء)خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے صوبے بھر کے کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر بجلی چوری کی روک تھام اور بروقت بل ادائیگی و بقایاجات کی وصولی میں واپڈا ملازمین سے پورا تعاون کریں انہوں نے واپڈا ملازمین پر بھی زور دیا ہے کہ خیبر پختونخوا سے تعلق اور ایک بڑے قومی ادارے سے وابستگی کے باعث وہ یہاں ناروا و ظالمانہ لوڈشیڈنگ کی روک تھام میں کردار کریں کیونکہ یہ ہم سب کا صوبہ ہے کسی شہر یا گاؤں کی ہزاروں کی آبادی میں چند کنڈا ماروں اور بجلی چوروں کی سزا پورے علاقے کے لوگوں کو دینا اور انہیں اضافی لوڈ شیڈنگ کا نشانہ بنانا انتہائی بے انصافی اور کاروباری و پیشہ ورانہ جرم بھی ہے جس سے واپڈا ملازمین کو گریز کرنا چاہئے وہ آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو ورکرز یونین کے پچاس رکنی وفد سے باتیں کر رہے تھے جس نے مرکزی چئیرمین گوہر علی تاج کی زیرقیادت ان سے سی ایم سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی اور اپنے بعض مسائل و مطالبات سے انہیں اگاہ کیا وفد نے لوڈ شیڈنگ سے متعلق ارکان اسمبلی اور شہریوں کا واپڈا ہاؤس کے سامنے احتجاج پر اعتراف کیا کہ یہ انتہائی پرامن و منظم تھا تاہم لوڈشیڈنگ قومی مسئلہ بن چکا ہے جو انکے بس میں نہیں تاہم مختلف علاقوں میں صارفین کے احتجاج سے واپڈا ملازمین براہ راست متاثر ہوتے ہیں اسلئے صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ وہ مرکز سے بھی بجلی کے اس پیداواری صوبے کو ریلیف دینے کی اپیل اور عوام و حکومت سے پورا تعاون کرینگے وفد نے وزیراعلیٰ کو واپڈا ہاؤس بھی مدعو کیا تاکہ واپڈا افسران و ملازمین سے ملاقات میں لوڈ شیڈنگ سے متعلق وضاحت ہو اور صوبائی حکومت و عوام کے خدشات، تشویش اور بدگمانیوں کو دور کیا جا سکے جسے انہوں نے بخوشی قبول کرتے اور واپڈا ملازمین کے صوبائی حکومت سے متعلق تمام جائز مسائل کے حل کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ واپڈا ہاؤس ضرور آئینگے تاہم پرویز خٹک نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ صوبے کے عوام پر لائن لاسز اور اضافی بلوں کی صورت میں بوجھ ڈالنے کے علاوہ شدید ضرورت کے اوقات میں ٹرانسفارمر پر لوڈ بڑھنے اور جلنے کے سبب اضافی تکالیف کا سامنا بھی رہتا ہے حالانکہ اخلاص کی بدولت اس کا تدارک آسان ہے اگر واپڈا کی طرف سے تھری فیز لائن کو بیلنس کیا جائے تو ٹرانسفارمر شدید گرمی میں بھی نہیں جلیں گے اور واپڈا ملازمین و صارفین کو دنوں و ہفتوں میں انکی مرمت اور گرمی و سردی جھیلنے کی زحمتوں سے بھی نجات مل جائے گی اسی طرح اگر واپڈا ڈسٹری بیوشن کا نظام بہتر بنائے اور اسے بڑھتی آبادی اور صارفین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر آئندہ زمانے کا بوجھ سہارنے کے قابل بنائے تو فنی خرابی کے کئی مسائل از خود حل ہوجائیں گے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ لائن لاسز کی کئی وجوہات میں بڑی وجہ بجلی پولوں اور لائنوں کا درختوں اور گیلے مقامات سے گزرنا اور ارتھ نہ ہونا بھی ہے جو بجلی کے دشمن ہیں اور توانائی کے بے دریغ ضیاع کا باعث بنتے ہیں اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے انہوں نے گلہ کیا کہ بجلی کے ٹرانسمشن نظام کو اپ گریڈ کرنے کیلئے انہوں نے پیسکو کی وساطت سے پی ایس ڈی پی میں چار ارب روپے کی سکیم جمع کرائی مگر وفاق نے منظوری نہیں دی حالانکہ ادارے اپ گریڈیشن سمیت آئندہ کی ضروریات اور منصوبوں کی بلامانگے تکمیل خود کرنے کے پابند ہوتے ہیں اسی طرح ہم مرکز سے توقع رکھتے ہیں کہ بھاشا ڈیم پر وقت مقررہ میں کام شروع نہ ہو سکا تو وعدے کے مطابق اس کیلئے مختص سترہ ارب روپے میں سات ارب روپے چشمہ اپ لفٹ سکیم، چترال میں آبپاشی نظام اور دیگر اہم منصوبوں کیلئے ہمیں دے گی انہوں نیکہا کہ یہ ہمارا ملک اور صوبہ ہے اور یہاں کے عوام کو بلا امتیاز ریلیف کی فراہمی سب کا یکساں فرض ہے یونین ملازمین نے اپنی سطح پر وزیراعلیٰ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/01/2014 - 21:36:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں