5 نومبر2013 تک 206 ارب کے نوٹ چھاپے، اسحاق ڈار کا اعتراف
تازہ ترین : 1

5 نومبر2013 تک 206 ارب کے نوٹ چھاپے، اسحاق ڈار کا اعتراف

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ یکم جنوری 2014ء) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ گزشتہ 5 برس میں معیشت کی صورتحال انتہائی خراب ہوئی، نگران حکومت نے بھی معیشت میں سیاست کا استعمال کرکے ملک کو نقصان پہنچایا، انہوں نے ٹیرف بڑھایا مگر اس پرعملدرآمد نہیں کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے خصوصی اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ملک کی معاشی صورتحال پر اپنی بریفنگ میں کہا کہ 1999 میں پاکستان کے ذمے 2ہزار 946 ارب روپے قرض تھا جو 2013 میں پاکستان کے ذمے قرض 15 ہزار ارب تک پہنچ گیا، معاشی بحران سے نکلنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کی معیشت ایک دن میں خراب یا بہتر نہیں ہوسکتی، 2007 کے عالمی معاشی بحران سے نکلنے کے لئے دنیا کو 5 سال لگ گئے۔

نگران حکومت نے معیشت میں سیاست کا استعمال کرکے ملک کا نقصان کیا، نگران حکومت نے ٹیرف بڑھایا مگر اس پرعملدرآمد نہیں کیا، اگر ماہانہ بنیادوں پر ٹیرف کو بڑھایا جاتا تو ملکی معیشت پرایک دم سے بوجھ نہ پڑتا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی توملک کی مجموعی پیداوار 3 فیصد تھی۔ گزشتہ سال پاکستان میں کم ترین 12.6 فیصد سرمایہ کاری ہوئی۔

موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو بجٹ خسارہ 8.8 فیصد تھا لیکن اب ہم اسے 8 فیصد تک لے آئے ہیں، مالی خسارے کو پورا کرنے کے لئے ہم نے ماضی میں بھی بچت کی پالیسی اپنائی اور 1999 میں ڈیوٹی فری گاڑیاں درآمد کرنے کاوی آئی پی کلچر ختم کیا، اب بھی ہم اسی راستے کو اپنائے ہوئے ہیں ،وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں 40 فیصداوروزرا کے اخراجات میں 30 فیصد کمی کی گئی، اس کے علاوہ وزیراعظم اور وزرا کا صوابدیدی فنڈ بھی مکمل طور پر ختم کردیا گیاہے۔

وزارت خزانہ نے خود مختاراداروں کو 45 دن میں غیرضروری اخراجات ختم کرنیکی ہدایت کردی ہے، دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں میں 2 ارب سالانہ بچت ہوگی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت نے 5 نومبر2013 تک 206 ارب کے نوٹ چھاپے۔ بجلی کی طلب اور رسد میں کمی کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں، موجودہ لوڈشیڈنگ نہروں میں بھل صفائی کے باعث ہے، ہم نے گردشی قرضوں کو 60 روز میں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 45 روز میں ہی اسے ادا کردیا جس سے سسٹم میں ایک ہزار 700 میگا واٹ بجلی داخل ہوئی، گردشی قرضوں کی مد میں ادا کی گئی تمام رقم کا پورا حساب وزارت خزانہ کی ویب سائیٹ میں موجود ہے۔
وقت اشاعت : 01/01/2014 - 15:00:31

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں