سیکر ٹر ی الیکشن کمیشن کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مختلف تا ریخوں پر تحلیل کرنے ..
تازہ ترین : 1

سیکر ٹر ی الیکشن کمیشن کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مختلف تا ریخوں پر تحلیل کرنے کے بیان کا چیف الیکشن کمشنرنوٹس لیں ، قومی ا ور صوبائی اسمبلیاں مختلف تاریخوں میں تحلیل کرنے سے صوبائی حکومتوں کو الیکشن میں دھاندلی کا موقع مل جائیگا‘ ایسا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی جماعتوں کو مساوی الیکشن لڑنے کے حق کی خلاف ورزی ہوگی ‘قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی پنجاب حکومت فعال رہی تومسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پنجاب میں دھاندلی کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوجائیگا، پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کا سیکر ٹر ی الیکشن کمیشن کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 1جنوری2013ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سیکر ٹر ی الیکشن کمیشن کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مختلف تا ریخوں پر تحلیل کرنے کے بیان پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم سے ان کے بیان کا نوٹس لیتے ہوئے شکایات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے‘ قومی ا ور صوبائی اسمبلیاں مختلف تاریخوں میں تحلیل کرنے سے صوبائی حکومتوں کو الیکشن میں دھاندلی کا موقع مل جائیگا‘ ایسا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی جماعتوں کو مساوی الیکشن لڑنے کے حق کی خلاف ورزی ہوگی ‘قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی پنجاب حکومت فعال رہی تومسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پنجاب میں دھاندلی کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوجائیگا۔

منگل کو جاری اپنے بیان میں عمران خان نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کرانے کے حوالے سے دئیے گئے بیان پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے کہاہے کہ قومی اور صوبائی اور صوبائی اسمبلیوں کو مختلف تاریخوں پرتحلیل کرنے کا فیصلہ صوبائی حکومتوں کو عام انتخابات کے نتائج کو متاثرکرنے کا موقع فراہم کریگا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے صوبائی حکو متوں کو الیکشن سے قبل ہی دھاندلی کا مو قع مل جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ ایسا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور سیاسی جماعتوں کو مساوی الیکشن لڑنے کے حق کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ کتنا عجیب ہے کہ مرکز میں نگران حکومت کا اعلان صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے 25دن پہلے کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدم سے پنجاب کے نتائج مرکز میںآ ئندہ حکومت کا فیصلہ کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی پنجاب حکومت فعال رہی تومسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پنجاب میں دھاندلی کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوجائیگا۔عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم سے سیکرٹری الیکشن کمیشن کے بیان کا فوری نوٹس لے کر شکایات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/01/2013 - 13:23:37

اس خبر پر آپ کی رائے‎