بند کریں
جمعرات مارچ

ذبیح اللہ بلگن کے کالم

پچھلے کالم - مزید کالم

مانو بلی اور پاکستان

ذبیح اللہ بلگن :

میں نے پاکستان سے محبت کرنا اپنی بلی سے سیکھا ہے ۔ ممکن ہو میری اس بات سے آپ حیران ہوئے ہوں مگر اسے تسلیم کر لیجئے کیونکہ حقیقت یہی ہے ۔ہماری پالتو بلی جسے ہم پیار سے “مانو“کہتے ہیں گھر کے ہر فرد کی محبتیں وصول کرتی ہے ۔اگرچہ میں عرصہ دراز سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مقیم ہوں مگر اس کے باوجود میں نے اپنے گاؤں جلال بلگن سے اپنا رشتہ کمزور نہیں ہونے دیا ہر ہفتے نہ سہی مہینے میں دو بار ہی سہی گاؤں ضرور جاتا ہوں ۔

”مانو“سے میرے رومانس کا آغاز ایسے ہی کسی وزٹ سے ہوا تھا ۔ یہ رومانس اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ میں تمام اہل خانہ کی مخالفت کے باوجود اسے اپنے ہمرا لاہور لے آیا ۔وہ مانو جو گاؤں میں چہکتی پھرتی تھی اور ہر کسی سے اٹکھیلیاں کرتی تھی لاہور میں آکر کسی ٹریجڈی فلم کا کردار نظر آنے لگی اور ہر وقت اداسی اور مایوسی کی عملی تصویربنی رہتی ۔

میں نے اس کا دل لبھانے کی ہر ممکن کوشش کر ڈالی مگر سرخرو نہ ہو سکا ۔ پنجابی ٹپے ماہیے اور کبھی کبھی انگریزی گانے بھی اس کی سماعتوں کی زینت بنانے کی کوشش کی مگر ”مانو“کی اداسی دور ہونے میں نہ آئی ۔ یہ کیفیت جاری تھی کہ والدہ ماجدہ نے اس کی اداسی کا سبب بھانپ لیا اور مجھے کہنے لگیں بیٹا ! اسے تم نے اس کے دیس سے دور کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اس نئے ماحول میں آسودگی محسوس نہیں کرتی۔

میرا بیٹا اب کی بار گاؤں جاؤ تو ”مانو“کو ساتھ لے جانا اور اسے وہیں چھوڑ دو جہاں سے اس نے زندگی کا آغاز کیا ہے۔اسے گاؤں کے کچے پکے مکانوں میں جو سکون ملتا ہے وہ شہر کے مخملی قالینوں سے میسر نہیں ۔والدہ کا حکم تھا اور ”مانو“کی حالت پر بھی ترس آرہا تھا سو میں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور گاؤں لے گیا ۔ گاؤں پہنچ کر جیسے ہی میں نے گاڑی کا دروازا کھولا اس نے چھلانگ لگائی اور اچھلتی کودتی ایک طرف کو بھاگ نکلی ۔

مجھے کبھی بھی بلیوں کی زبان سے واقفیت نہیں رہی تاہم میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ میرا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دعائیں بھی دے رہی ہوگی ۔
پارلیمانی سیکرٹری پنجاب جناب مسعود لالی نے مجھ سے ایک بار استفسار کیا تھا کہ ذبیح ! تم ا ب تک کتنے ممالک کی سیر کر چکے ہو ؟ ۔ تب میں نے جواب میں عرض کیا تھا اب تک مجھے 30ممالک میں جانے کا موقع ملا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ میں نے یورپ کی چکاچوند روشنیوں کو بھی دیکھا ہے اور افریقی ممالک کی تاریکیوں کا مشاہدہ بھی کیا ہے ۔مجھے سری لنکا کی گنجان گلیوں سے گزرنے کا موقع بھی ملا ہے اور میں نے وسطی اشیائی ممالک کی کشادہ شاہراؤں کو بھی پاؤں تلے روندھا ہے ۔ امریکہ کے ملٹی پل ویزوں سے لطف اندوزی بھی لی ہے اور برطانیہ کی سرد شاموں سے آسودگی بھی حاصل کی ہے ۔

مگر آپ تسلیم کر لیجئے کہ میں جب جب بھی پاکستان سے باہر گیا میرا حال گاؤں جلال بلگن کی ”مانو“سا رہا ۔ اپنے وطن اور دیس سے جانوربھی جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں تو پھر میں کیوں نہیں ۔ مجھے شدید حیرت ہوتی ہے جب پاکستان کے کوچوں اور بازاروں میں وطن عزیز کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ۔ درحقیقت یہ جذبات اپنی دھرتی اور مٹی کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ اس نظام کے خلاف ہوتے ہیں جو وطن عزیز کے باسیوں کا استحصال کر رہا ہے ۔

نظام اور سسٹم کی خرابی نے اہلیان وطن کو وطن بیزار بنا دیا ہے اور اس کی تمام ذمہ داری اہلیان سیاست اور ان مقتدر قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو گاہے بگاہے مسند اقتدار سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں ۔ قیام پاکستان کی پہلی اڑھائی دہائیوں میں جو میسر تھا اسے ہم نے بڑی بے دردی سے کھویا ہے۔ سوختہ بختی یہ ہے کہ احساس زیاں سے محروم حکمرانوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان ثبت ہو گیا ہے کہ وطن عزیز کی پاسبان یہ کس ڈگر پر چل نکلے ہیں ؟۔

جغرافیائی ، مذہبی ، اخلاقی ،سماجی ، سیاسی اور نظریاتی حدوں کی پامالی نے اہلیان پاکستان کو صاحبان اقتدار سے سخت مایوس کیا ہے ۔ وگرنہ کیا وجہ ہے کہ جس پاکستان میں چھوٹے بڑے59دریا بہتے ہوں اور اس ملک میں 2420میگا واٹ سے لے 5800میگا واٹ تک بجلی کا شاٹ فال پیدا ہوجائے۔ریاست کے پاس تربیلہ ڈیم،منگلا ڈیم،واسک ڈیم ،وندر ڈیم اور کوہاٹ ڈیم جیسے پانی زخیرہ کرنے کے مراکز ہوں اور اس کے شہریوں کو بیس بیس گھنٹے طویل لوڈ شیڈنگ کا عذاب سہنا پڑے ۔

1968میں پاکستان کی قومی ائیر لائین” پی آئی اے“ دنیا کی دوسری بڑی ائر لائین قرار دی جائے اور آج پاکستان کے شہری حج اور عمرہ جیسا مقدس سفر کرنے کیلئے بھی ستر سے اسی ہزار کا ٹکٹ خریدنے پر مجبور ہوں۔1960کی دہائی میں گورنمنٹ کالج نے ایشیاء کی پہلی ہائی ٹیک فزکس لیب بنائی ہو اور آج پچاس سال بعد اس ملک کے تعلیمی ادارے تعلیم فروش مراکز کے طور پر شہرت رکھتے ہوں اورملکی طلباء کی قابل زکر کی تعداد میڈیکل اور انجینئر نگ کی تعلیم کیلئے ہمسایہ ملک چین اور روسی ریاستوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو۔

1960میں پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک ہو جس نے خلا میں سیٹلائٹ ”رہبر اول“بھیجا ہو اور آج پچاس سال بعد اس کے مسافر طیاروں کے پاس پرواز کیلئے تیل بھی موجود نہ ہو۔80کی دہائی میں پاکستان سیلکان بنانے والا ملک ہو اور آج اس سے نفع کمانے کی بجائے اسے پس پشت ڈال دیا جائے۔1970میں پاکستان بال پوائنٹ بنائے اور آج اس کے طلبا وطالبات برادر ملک چائنہ کے بال پوائنٹ استعمال کریں۔

پاکستان نیو کلیئر ٹیکنالوجی میں 20ارب ڈالر سرمایہ کاری کرے اور آج اس سے نفع کمانے کی کوئی تجویز زیر غور نہ ہو۔اس پاک دھرتی کے تھرکول ذخائر کے تیل کی قیمت سعودی عرب اور ایران کے تیل کی مجموعی قیمت سے زیادہ ہو اور اس کے شہری 77روپے فی لیٹر پٹرول خریدیں۔ اہلیان پاکستان کی بد حالی کی ذمہ داری اس دھرتی پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس دھرتی پر حکومت کرنے والے ان افراد پر عائد ہوتی ہے جو وطن عزیز کے سینے میں چھپے خزانوں کو عوام کے مفاد میں استعمال نہیں کرنا چاہتے ۔

جعلی ٹھیکوں اور ریکوڈک پرمٹوں میں کروڑوں ڈالرز کمیشن کھانے والے یہ صاحبان اقتدار درحقیقت عوامی استحصال کے حقیقی ذمہ داران ہیں ۔مکرر عرض کرتا ہوں اپنے دیس اور مٹی سے جانور بھی پیار کرتے ہیں ۔خدارا اپنی مٹی اور دھرتی سے پیار کیجئے اور وہ نظام جس نے وطن عزیز کے وسائل کو یرغمال بنا رکھا اسے بدلنے کی جدوجہد کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-09-05

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-