تازہ ترین : 1

آپ کوکیوں نکالا۔۔؟

عمر خان جوزوی:

اللہ سے معافی مانگنے کی مہلت ختم اورتوبے کادروازہ بندہونے کے بعدتوبہ توبہ کرنے کاکیافائدہ۔۔؟اللہ کی بے آوازلاٹھی لگنے کے بعدتوفرعون بھی توبہ توبہ کرتارہالیکن پھروقت ہاتھ سے نکل چکاتھا۔۔انسان واقعی بہت بڑاظالم ہے ۔۔اس کے اختیارمیں جب تک ہوتاہے یہ طاقت واقتدارکے نشے میں مدہوش ہوکرشیطان کے کندھے پرچڑھتارہتاہے لیکن جب معافی تلافی کے تمام دروازے بندکردےئے جاتے ہیں پھریہ راہ راست پر دوڑنے کی ہرممکن کوشش کرتاہے لیکن اس وقت پھرکوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

۔سابق وزیراعظم نوازشریف پرسارے درابھی بندنہیں ہوئے ۔۔اس رحیم وکریم رب کادرآج بھی کھلاہے لیکن کئی ٹھوکریں کھانے کے باوجودمیاں جی اپنی غلطیوں ۔۔کوتاہیوں۔۔گناہوں اوربطورحکمران اپنے ہاتھوں سے سرزدہونے والے کرتوتوں پرغورکرنے کی بجائے ،،مجھے کیوں نکلا،،کی صدابلندکرکے ایک بارپھراقتدارحاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔۔ گلی گلی اورمحلے محلے میں ،،مجھے کیوں نکالا،،پوچھتے پھرنے کی بجائے اگرسابق وزیراعظم صرف ایک رات تہجدکے وقت اٹھ کرتنہائی میں اپنے شفیق وکریم رب کے سامنے یہ سوال رکھتے کہ اے میرے پروردگار،،مجھے کیوں نکالا،،توشائدنہیں یقینناًانہیں وہاں سے کوئی ٹھوس جواب مل جاتامگرافسوس وہ آج اس ملک کی گلیوں اورمحلوں میں ان لوگوں سے اپنے نکالنے کی وجہ پوچھ رہے ہیں جنہوں نے انہیں نکالاہی نہیں ۔

۔اللہ کی لاٹھی واقعی بے آوازہے ۔۔یہ جس پرلگتی ہے اس کے پھرعرش سے فرش پرگرنے میں کوئی ٹائم نہیں لگتا۔۔اللہ خودفرماتے ہیں کہ میرے اورمظلوم کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔۔مظلوم کی ایک ،،آہ ،،بھی عرش کوہلاکے رکھ دیتی ہے۔۔نوازشریف کسی ایک فرد۔۔گھراوردرکے مالک نہیں تھے ۔اللہ نے انہیں 20کروڑعوام کاوزیراعظم بنادیاتھا۔۔بطوروزیراعظم انہوں نے 20کروڑرعایاکی کوئی خبرلی ۔

۔؟کیانوازشریف کی حکمرانی میں 20کروڑعوام کوبرابرانصاف ملا۔۔؟خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق  نے تویہاں تک فرمایاکہ اگردریائے فرات کے کنارے کوئی کتابھی بھوک سے مرے قیامت کے روزاس کی پوچھ بھی حضرت عمرسے ہوگی ۔۔ میاں صاحب دنیاسے ،،مجھے کیوں نکالا،، کاسوال پوچھ کرآپ خودکوتماشاکیوں بنارہے ہیں ۔۔کوئی آپ کونہیں بتائے گاکہ آپ کوکیوں نکالا۔

۔آپ صرف ایک منٹ کے لئے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے رات کی کسی تنہائی میں اپنے ماضی کوکریدیں ۔۔آپ ،،مجھے کیوں نکالا،،کی بجائے اپنے آپ سے صرف یہ پوچھیں کہ میری حکمرانی میں اس ملک کے اندرکوئی معصوم بچہ بھوک سے بلک بلک کرتونہیں مرا۔۔؟ میری وجہ سے کسی نے پیسے پورے اداکرنے کے باوجودآٹے کے نام پرچوکرتونہیں کھائے۔۔؟میرے ہاتھوں سے کوئی سرکاری ملازم نوکری سے برطرف ہوکرکسی گھرکاچولہاتوٹھنڈانہیں ہوا۔

۔؟میری حکمرانی میں کسی ماں کے لخت جگرکوپولیس مقابلے میں پھڑکایا تونہیں گیا۔۔؟میری وجہ سے توکہیں غریب لوگوں نے خودکشیاں اورخودسوزیاں نہیں کیں۔۔؟میری حکومت میں انصاف اورمددکے انتظارمیں بوڑھے۔۔جوان اوربچے لحدمیں تونہیں اترے۔۔؟میاں جی ۔۔وہ اللہ جس نے آپ کوایک دونہیں تین باروزیراعظم بنایاوہ فرماتے ہیں کہ میں اپناحق معاف کردیتاہوں لیکن لوگوں کے حقوق معاف نہیں کرتا۔

۔تین بارملک پرحکمرانی کرکے کیاآپ نے ہزاروں اورلاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کوان کے حقوق دےئے۔۔؟اسلام آبادمیں سنگ مرمرسے بنے وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کرعیش وعشرت کی زندگی گزارناکون پسندنہیں کرتا ۔۔؟کون نہیں چاہتاکہ وہ وزیراعظم بن کرموج مستیاں نہ کریں ۔۔صدراوروزیراعظم بنناتوآسان ہے لیکن لوگوں کوان کے حقوق نہ دینے اورعوام میں برابر انصاف نہ کرنے پرپھرجب کسی پانامہ اورہنگامہ کے بہانے عرش سے فرش پرپھینکاجاتاہے پھردل کوبڑاکرنااوربرداشت کرنابہت مشکل ہوتاہے۔

۔میاں جی شائدکہ آپ کویادنہ ہولیکن اپنے دوراقتداراورحکمرانی کے دوران آپ سے ایساکوئی جرم۔۔گناہ اورظلم ضرورسرزدہواہے کہ جس کی وجہ سے آپ کونکالاگیا۔۔ہم مانتے ہیں کہ آپ نے اپنی حکمرانی میں اس ملک کے اندرموٹرویزکے جال بچھائے۔۔میٹرواورشیٹروبھی بنائی۔۔توانائی کے کئی تاریخی منصوبے بھی آپ کی حکومت میں مکمل ہوئے ۔۔ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ آپ نے حج اورعمرے بھی کئے ۔

۔لیکن میاں جی۔۔ اس ملک میں ہزاروں اورلاکھوں نہیں کروڑوں لوگ ایسے رہتے ہیں جوخط عربت سے بھی نیچے زندگی گزاررہے ہیں ۔۔لاکھوں ایسے ہیں جن کے پاس پہننے کے لئے کپڑا۔۔کھانے کیلئے روٹی اورسرچھپانے کے لئے سایہ بھی نہیں ۔۔کیاآپ نے بطوروزیراعظم ان کی ایک دن بھی کبھی کوئی خبرلی ۔۔؟میاں صاحب اس ملک میں تھرپارکرجیسے علاقوں میں روزانہ درجنوں اورسینکڑوں لوگ صحت سمیت دیگربنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث ایڑھیاں رگڑرگڑموت کوگلے لگارہے ہیں کبھی آپ نے ایسے لوگوں کے لئے بھی کچھ کیا۔

۔؟ اپنے شہزادوں کے لئے توآپ نے رائیونڈشریف سمیت پورے ملک میں تاج محل بنائے لیکن آپ ایک منٹ کے لئے سوچیں توسہی کیاآپ نے اپنی حکمرانی میں کبھی کسی غریب کے لئے ایک جھونپڑی بھی بنائی ۔۔؟کیاآپ کی بادشاہی میں انصاف تلاش کرتے کرتے بے شمارلوگوں کے سروں کے بال سفیداوروجودخاک آلودنہیں ہوئے ۔۔؟آج ایک بارپھرآپ ان غریبوں جن کے سروں پرآپ نے کئی سال تک حکمرانی کی کے لئے آسمان سے تارے توڑکرلانے کی باتیں کررہے ہیں لیکن اپنی حکومت میں آپ ان کیلئے آسمان توبہت دوراقتدارسے بھی کچھ توڑکرلائے۔

۔؟میاں جی۔۔ یہ آپ کاقصورنہیں یہ تو اس ملک کی روایت اورہمارے سیاستدانوں کی عادت ہے کہ جب ان کواقتدارسے دوہاتھ اوردوپاؤں نکالاجاتاہے تویہ پھرعوام کوبیوقوف بنانے کے لئے نئے سرے سے مداریوں والوں کام شروع کردیتے ہیں ۔۔لیکن آپ تو اس ملک کے ایک شریف حکمران رہے ہیں ۔۔ماناکہ شرافت کے لبادے میں آپ سے عوام کی حق تلفیوں سمیت کئی گناہ سرزدہوئے لیکن پھربھی مداریوں والاکام آپ کے ساتھ سوٹ نہیں کرتا۔

۔اس لئے آپ چوکوں اورچوراہوں پرمجمعے لگاکر،،آسمان سے تارے،،توڑکرلانے کے دعوے اووعدے کرنے کی بجائے اپنی ذات اورصفات میں ،،مجھے کیوں نکالا،،کاجواب تلاش کریں ۔۔ویسے بھی جوشخص تین بارملک کاوزیراعظم بن کرغریب عوام کے لئے کچھ نہ کرسکے ان کی زبان سے پھر انہی غریب عوام کے لئے آسمان سے تارے توڑکرلانے کی باتیں اچھی بھی نہیں لگتی۔۔میاں جی۔

۔ باقی دراگرآپ کے لئے بندہوچکے ہیں تواللہ کادرآج بھی کھلاہے ۔۔آپ دوبارہ اقتدارکے حصول کے لئے سردیواروں سے ٹکرانے کی بجائے اللہ سے رجوع کرلیں ۔۔وہاں سے معافی ملنے کے بعدنہ صرف آپ کودوبارہ اقتدارمل جائے گابلکہ آپ کو،،مجھے کیوں نکالا،،کاجواب بھی مل جائے گا۔ میاں جی۔۔ ابھی لوگوں کے ہاتھوں کے بنائے درآپ پربندہوئے ہیں اوران کابندہوناکوئی بڑی بات نہیں کیونکہ یہ آج یاکل دوبارہ کھل ہی جائیں گے لیکن ایک بات یادرکھیں اگراللہ کابنایاہوادرایک باربھی بندہوگیاتوپھروہ کبھی بھی نہیں کھلے گا۔

اس لئے فوج ۔۔عدلیہ اورسیاسیوں کے پیچھے ہاتھ دھوکرپڑنے کی بجائے دل سے رات کی تنہائیوں میں اپنے روٹھے رب کومنانے اورراضی کرنے کی کوشش کریں ۔۔وہ رب اگرراضی ہوگیاتوپھردنیاکے یہ لوگ اقتدارآپ کی جھولی میں ڈالنے کے لئے خودبخودراضی ہوجائیں گے لیکن اس کے لئے اس رب کومنانااورراضی کرناشرط ہے ورنہ اس طرح ماراماراپھرنے سے آپ کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : جمعرات جنوری
Umer Khan Jozvi

کالم نگار : عمر خان جوزوی

عمر خان جوزوی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے