تازہ ترین : 1

لہو رنگ جنت۔۔۔ کشمیر

سید شاہد عباس:

سکھ راج اور انگریزوں کے باہمی گٹھ جوڑ کی وجہ سے جنت نظیر، کشمیر آج خوں رنگ چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ حریت پسندوں کی دوسری نسل بھی اپنے حصے کی جہدو جہد کر کے عمر کی آخری بہاریں دیکھ رہی ہے۔ یہ سفر مشکل ضرور رہا ہے لیکن حریت کے پروانوں کی یہ امید ضرور ہے کہ ان کی دھرتی پہ بھی آزادی کا سورج طلوع ضرور ہو گا۔ ایسا سورج جو امن کا سندیس لے کے آئے گا جو اپنی روشنی بکھیرتے ہوئے اس دھرتی کے سینے میں خون کے بجائے سنہرے دور کا پیغام لے کے آئے گا۔


مثلِ جنت خطے پہ ظلم کی داستان تو نصف صدی سے زائد کا قصہ ہے لیکن پچھلی تین دہائیوں سے اس داستان نے خون کا خراج دینا شروع کر دیا ہے۔اور اب تم 60 ہزار سے زائد شہدا اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ زندگی بھر کے لیے معذور ہو جانے والوں کا شمار کرنا بھی شاید ممکن نہیں ہو گا۔ لیکن حیران کن طور پر اقوام عالم مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

اور ایک ایسا دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں جس کا فائدہ انہیں تو ہو لیکن مسلمان اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
1990ء سے پاکستان میں سرکاری سطح پر یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد یہی تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ ساتھ پیغام آزادی پوری دنیا میں پہنچایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے 5 فروری تو ہر سال آتا ہے لیکن ہم اس دن کو عالمی سطح پر پیغام پہنچانے کا ذریعہ نہ بنا سکے۔

5فروری کے دن ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں۔ تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے آزاد کشمیر جانے والے راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ زنجیر بنانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ اور انہیں ہرگز تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن یہ ہی عہد کافی نہیں ہے۔

مسلہ کشمیر پہ عالمی سطح پر گرد پڑتی جا رہی ہے اس گرد کو جھاڑنا ہے۔ اور اس مسلے کو ایک عالمی مسلے کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔ اس کے لیے انفرادی سطح پر کوششوں کی ضرور ت ہے۔
کشمیر کاز کو نقصان اس مسلے کو صرف پاکستان و ہندوستان کا مسلہ سمجھ لینے سے ہوا۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہم نے بھی پاکستان کے اندر ہی احتجاج کو کافی جانا اور اسی پہ اکتفا کر لیا جس سے بھارت شیر ہو گیا۔

اور کھلے عام انسانی حقوق کو پامال کرنا شروع کر دیا۔ اس کوئی اس کے ہاتھ روکنے والا نہیں تھا۔ کیوں کہ عالمی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کو کشمیریوں کی حمایت سے زیادہ اہم گردانتی ہیں۔ اور عالمی طاقتیں ہرگز یہ نہیں چاہیں گی کہ اس خطے میں امن ہو اور یہاں ترقی ہو۔
دنیا بھر میں اس وقت پاکستانی و کشمیری انفرادی و اجتماعی سطح پر مسلہء کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادار کر رہے ہیں۔

ان میں ہی ایک یوتھ فورم برائے کشمیر ہے جس کے روح رواں سابق چیئر مین سینٹ سومرو صاحب اور مشہور صحافی احمد قریشی ہیں۔ اس فورم کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ مقبوضہ وادی سے بھی بہت سے نوجوان اس فورم کا حصہ ہیں اسی لیے اس فورم کی افادیت بڑھ گئی ہے۔ یہ فورم نہ صرف مقبوضہ وادی اور پاکستان میں فعال ہے بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اس کے رضا کار کشمیر کے مسلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادار کر رہے۔

اس فورم کو حسان اور اس جیسے دیگر بہت سے نوجوان رضاکاروں کی خدمات حاصل ہیں۔ جو دن رات ایک کر کے مسلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈال رہے ہیں۔
یوتھ فورم برائے کشمیر اور اسی طرح کے دیگر بہت سے گروپ پوری دنیا بالخصوص اقوام متحدہ کو یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ مسلہ ء کشمیر کا واح حل استصواب رائے ہے اور اس میں کچھ ایسا تقاضا بھی نہیں کیا جا رہا جو ناممکن ہو۔

کیوں کہ مسلہ ء کشمیر جب بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا وہاں تسلیم کیا تھا کہ کشمیری عوام کے فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اگر اقوام متحدہ عالمی سامراج کی باندی بننے کے بجائے حقیقی معنوں میں پوری دنیا کے ممالک کی نمائندہ تنظیم بننے کا حق ادا کرتے ہوئے صرف اپنی منظور کی گئی قراردادوں پر ہی عمل کروائے تو کشمیر کا مسلہ فوراً حل ہو سکتا ہے۔

لیکن اس مسلے کے حل میں تاخیر سے جہاں بھارت کی عیار ی و مکاری ظاہر ہوتی ہے وہاں اقوام عالم کا دوہرا معیار بھی عیاں ہوتا ہے۔
عالمی دنیا مشرقی تیمور کے لیے تو اپنے فیصلے نافذ کرواتی ہے ۔ لیکن کشمیر کے معاملے پر آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں ریفرینڈم کا سوال ابھرے تو اس معاملے میں اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے اس ریفرینڈم کی نہ صرف حمایت کرتے ہیں بلکہ تمام وسائل بروئے کار لائے جاتے تا کہ یہ ریفرینڈم احسن طریقے سے مکمل ہو سکے۔

لیکن جب بات کشمیر کی آتی ہے تو عالمی ادارے بھارتی ذہنیت کے عکاس بن جاتے ہیں۔اور کشمیروں کے حقِ خود ارادیت کی حمایت سے مجرمانہ پہلوتہی اختیار کرتے ہیں۔ کیا کشمیر اس دنیا سے الگ کوئی خطہ ہے ؟ یا کشمیری عوام مریخ سے اتری کوئی مخلوق ہیں جن پر اس دنیا کے اصول و ضوابط لاگو نہیں ہوتے؟
5فروری کا دن نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن ہے بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک پیغام کا دن ہے کہ کشمیر کا مسلہ ء اس وقت صرف زمین کا معاملہ نہیں رہا۔

نہ ہی یہ کوئی علاقائی مسلہء رہا ہے۔ بلکہ مقبوضہ وادی اس وقت دو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک سلگتی ہوئی چنگاری ہے۔ ایک ایسی چنگاری جس نے اگر آگ پکڑ لی تو اس میں جلنے والے صرف کشمیری نہیں ہوں گے ۔پاکستان و بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں ۔ اور اسی وجہ سے اس مسلے کا فوری حل نہ صرف پاکستان و بھارت کے مفاد میں ہے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں بھی ہے۔ کیوں کہ دونوں ممالک اس وقت مسلہء کشمیر کی وجہ سے سرحدوں پہ آمنے سامنے کھڑ ے ہیں اور خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ مجرمانہ غلفت اس خطے کو ایک ان دیکھی تباہی کی طرف دھکیل دے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : جمعرات فروری
Syed Shahid Abbas

کالم نگار : سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے