بند کریں
جمعرات مارچ

میلادالنبیﷺ کے تقاضے

پروفیسر رفعت مظہر :

آج یومِ ولادتِ رسولﷺ ہے ۔ یہ دِن ہرسال بڑے احترام سے منایا جاتاہے اور ہرمسلمان آقا پراپنی عقیدتوں کے پھول نچھاور کرنے کی تگ ودَو میں مگن نظرآتاہے ۔جلسے ،جلوس اورریلیاں نکلتی ہیں،محافلِ نعت سجتی ہیں اور فضائیں حبِ رسول سے عطربار ہوجاتی ہیں ۔میلادکی محافل میںآ قا کی شان بیان کی جاتی ہے اوررات کوچراغاں ہوتاہے جس سے پوراپاکستان بقعہٴ نوربن جاتاہے ۔

اِس دِن تو یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے پوری قوم عشقِ رسول میں ڈوب چکی ہو لیکن حیرت انگیزطور پر اگلے ہی دن ہم زندگی کی پرانی ڈَگرپر لوٹ آتے ہیں یعنی ”وہی ہے چال بے ڈھنگی ،جو پہلے تھی سو اب بھی ہے“۔ کسی کویہ بھی یادتک نہیں رہتا کہ ہماراتو ایمان ہی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتاجب تک ہمارے عشق کایہ عالم نہ ہوجائے کہ آقاﷺ ہمارے ماں باپ ،عزیز،رشتے دار حتیٰ کہ دُنیا کی ایک ایک چیز سے پیارے نہ ہوجائیں ۔

یہ کیسا عشقِ رسول ہے جو صرف ایک دِن ہی قائم رہتاہے اور یہ کیسی محبت ہے جس میں ہم اپنے محبوب کی سنت پرعمل کرنامحض اِس لیے چھوڑدیتے ہیں کہ ہمیں” جدیدیت“بہت مرغوب ہے ۔ ہمیں ذرا رُک کریہ سوچناہوگا کہ کہیں ایسا تونہیں کہ ہم محض اِس لیے مسلمان کہلاتے ہوں کہ ہم مسلم گھرانے میں پیدا ہوگئے ،اگر کسی ہندوکے گھرمیں پیداہوتے تو ہندوہوتے اور اگرعیسائی کے گھرپیدا ہوتے توعیسائی ۔

ہمیں یہ بھی سوچناہوگا کہ کیاہماراایمان مطلوب و مقصودِربی کے مطابق ہے یا پھر ہم نے اپنی مرضی کے ایسے ایمان گھڑرکھے ہیں جو دنیوی زندگی میں ہمارے لیے منافع بخش ہوں ۔ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرناہوگا کہ کہیں ہماراایمان محض حمدونعت اورجذباتی نعروں تک محدود تونہیں اورکہیں ایساتو نہیں کہ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
مَن اپنا پرانا پاپی ہے ،برسوں میں نمازی بن نہ سکا
ہمیں اپنے مَن میں ڈوب کریہ سراغ بھی لگاناہوگا کہ کہیں ہم ذات پات ،رنگ ونسل اورفرقہ واریت کے اسیر تونہیں اوربقول اقبال کہیں ایسا تونہیں کہ
یوں تو مرزا بھی ہو ،سیّد بھی ہو ،افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ، بتاوٴ تو مسلمان بھی ہو
یادرکھیے کہ ربّ ِ جباروقہار نے عالم بے عمل کے لیے دوہری سزا مقررکرکھی ہے اورواضح کردیا گیاہے کہ جاننے والے اورنہ جاننے والے ہرگز برابرنہیں ۔

اگرایک عالم کی جزا ربّ ِ کریم کے ہاں بہت زیادہ ہے توعالم بے عمل کی سزابھی اُتنی ہی سخت ۔ہمارے معاشی ومعاشرتی رویوں سے توصاف ظاہرہوتا ہے کہ ہم سبھی کچھ ہیں لیکن مسلمان نہیں کیونکہ ہم تو مسلمان ہونے کی اُس اولین شرط پربھی پورا اترنے سے قاصرہیں جومیرے آقا نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمائی اورساتھ ہی یہ گارنٹی بھی دے دی کہ اگراِس شرط پرپورا اتروگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ۔

یہ شرط قُرآن وسنت کومضبوطی سے تھامے رکھناہے لیکن اِس دَورِجدید کی کشش نے ہمیں تارکِ قُرآن بنادیاجس کی بناپر ہم نے سنتِ رسولپر عمل کرنا چھوڑدیا ۔ایک مسلمان کی جنسِ گراں مایہ توایمان پرمضبوطی سے قائم رہناہے لیکن ہمارا ایمان تو اتنا متزلزل ہے کہ ہم محض ٹامک ٹوئیاں مارتے اوراپنی مرضی کاایمان گھڑتے رہتے ہیں ۔حبّ ِ رسول کے سبھی دعوے دارلیکن فرقہ واریت کاناسور جابجا ،شیعہ سُنّی جھگڑے گلی گلی اور ایک دوسرے کی گردن مارنے کوہمہ وقت تیار۔


میرے آقا تواُس بیمار عورت کی عیادت کوبھی چلے گئے جوہر روزآپ پرکوڑا پھینکتی تھی ۔لیکن ہم ایسے کم نصیب کہ اگرپڑوس میں مَرگ ہوجائے توبچوں کو صرف یہ تلقین کرتے ہیں کہ ٹی وی کی آوازآہستہ کردو پڑوس میں مرگ ہوئی ہے ۔سانحہ پشاورنے بیشمار ماوٴں کی کوکھ اجاڑکے رکھ دی ۔پوری دنیانے اِس کَرب کومحسوس کیا ،نریندرمودی جیسے اسلام اورمسلمان دشمن نے بھی اِس کَرب کومحسوس کرتے ہوئے پورے ہندوستان کے سکولوں میں دومنٹ کی خاموشی کااعلان کردیا اوربرادر اسلامی ملک ترکی نے توسوگ میں ایک دِن کے لیے اپناجھنڈا سرنگوں کردیا ،لیکن ہم ؟۔

۔۔ہم سے تواتنا بھی نہ ہوسکا کہ نئے سال کی خوشیاں منانے اورہلّاگُلا کرنے سے بازرہتے حالانکہ اسلامی معاشرے میں تو ”ہیپی نیوایئر“کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں۔یہ رسمِ بَدتو اہلِ مغرب کے ہاں پائی جاتی ہے اورمیرے آقا نے سب سے زیادہ ممانعت کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیارکرنے سے فرمائی ہے ۔آقا کا فرمان ہے ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیارکی ،وہ انہی میں سے ہے “۔

یوں تو ہم عشقِ رسولﷺ کے بڑے داعی ہیں اور حرمتِ رسولﷺ پہ مرنے مارنے کوتیار ہوجاتے ہیں لیکن سنتِ رسول پہ عمل کرنے سے گریزاں ہی رہتے ہیں ۔ہماراتو یہ عالم ہے کہ جو اُم الخبائیث سے مُنہ کا ذائقہ بدلنے کی بات کرے وہ ”عظیم“لکھاری اور تجزیہ نگار گرداناجاتاہے ۔جو مُنہ ٹیڑھاکرکے انگریزی میں بات کرے ،اقوامِ مغرب کی سی شباہت اختیارکرے اورمفکرینِ یورپ کی مثالیں دے اُس سے ہم فوراََ متاثرہوجاتے ہیں ۔

جو خواتین آزادیٴ نسواں اور حقوقِ نسواں کی آڑمیں دین کامذاق اُڑاتی ہیں وہ الیکٹرانک میڈیاکو سب سے زیادہ مرغوب ہیں۔اور اُن کی دریدہ د ہنی پرکوئی روک ٹوک نہیں۔سمجھ میں نہیں آتاکہ آخر آزادیٴ نسواں کی علمبردار خواتین کامطالبہ کیاہے؟ ۔اگریہ حقوق کی بات کرتی ہیں تو یہ حقوق توچودہ سوسال پہلے دینِ مبیں نے عطاکر دیئے اوراتنے عطا کیے کہ سوائے اسلامی معاشرے کے اور کوئی معاشرہ عطاکر ہی نہیں سکتا ۔

حکمت کی کتاب میں درج کردیا گیا”اِن عورتوں کے بھی معروف طریقے پرایسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق اِن پرہیں(البقرہ228 )۔ سب سے پہلے دینِ مبین نے ہی عورت کومکمل انسان تسلیم کیاا ور سورة النساء کے مطابق مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کا حکم دیا۔جس بیٹی کوزندہ دفن کردیا جاتاتھا اُسے ”اللہ کی رحمت“قراردیا اورنیک بیوی کودنیا کی بہترین متاع۔

جس آزادی کا پرچارآزادیٴ نسواں کی علمبردار یہ خواتین کرتی ہیں وہ تومادرپدر آزادی ہے ۔مغرب کے ایجنڈے پرکام کرنے والی یہ خواتین ویسی ہی جنسی آزادی چاہتی ہیں جیسی مغرب میں موجودہے ۔جس جنسی بے راہروی کی یہ علمبردارہیں ،اُس میں تو ”حرامی بچے“ہی جنم لے سکتے ہیں جس پراہلِ مغرب کوتو کوئی ندامت نہیں ہوتی لیکن دینِ مبیں ایسے مردوزن کو سنگسارکرنے کا حکم دیتاہے ۔

اسلامی تعزیرات کویہ ”سیکولر“وحشیانہ فعل قراردیتے ہیں اورحیرت ہے کہ مسلمان بھی کہلواتے ہیں ۔ حقیقت یہی ہے کہ قُرآن کے ایک حرف سے انکاربھی پورے قُرآن سے انکارکے مترادف ہے ۔اسی لیے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجانے کاحکم ہے ۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم دین کے کچھ حصّے اپنالیں اورکچھ چھوڑ دیں ۔جس طرح فرقانِ حمیدکے احکامات کی پابندی ہرمسلمان پرفرض ہے اسی طرح سنتِ رسولﷺ کی پیروی کے بغیرکوئی بھی شخص مسلمان کہلانے کامستحق ہے نہ سچاعاشقِ رسولﷺکہلوانے کا ۔میلادالنبی کا جشن منانے والو! یہ جشن مناوٴاور بھرپورطریقے سے مناوٴکہ اسی میں حبِ رسولﷺ مضمرہے لیکن محض جشنِ میلادالنبی ہی نہیں ،حبِ رسول کے تقاضے اوربھی ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-01-04

کالم نگار     :     پروفیسر رفعت مظہر

رفعت مظہر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، روزنامہ نئی بات اور اُردو پوائنٹ کیلئے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔

پروفیسر رفعت مظہر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-