تازہ ترین : 1

پاکستان کس کا ہے

حُسین جان:

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے میری ایک کزن جو کہ انتہائی مہلک بیماری کی آخری سٹیج پر تھیں اور لاہور کے سروسز ہسپتال کے ایک وارڈ میں داخل تھیں۔ ایک دن رات کو بیماری نے اپنا زور پکڑا تو اُن کا بیٹا ڈاکٹر کے کمرئے میں بھاگا گیا اور اُن سے التجا کرنے لگا کے جلدی سے وارڈ میں تشریف لائیں اور میری امی کو چیک کرلیں ، ڈاکٹر صاحب اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے اور چائے نوش فرما رہے تھے۔

بجا ئے یہ کہنے کے میں ابھی آتا ہوں ڈاکٹر صاحب نے بچے کو ڈانٹ کر کمرئے سے نکل جانے کو کہا اور ایک ایسا جملہ بھی ادا کیا جس کا گمان کوئی اس مسحا سے کر بھی نہیں سکتا کہنے لگا میں کیا کرؤں اگر تمہاری ماں مر تی ہے تو مرئے۔ بیچارا لڑکا اپنا سا منہ لے کر کمرے سے باہر باہر آگیا اور پھر ڈاکٹر کا کہنا واقعی سچ ہو گیا اُس کی ماں مر گئی بالکل ویسے ہی جیسے قصور کی بوڑھی عورت جناح کے نام سے بنائے گئے ہسپتال میں ٹھنڈے فرش پر جان کی بازی ہار گئی۔


کیونکہ یہ پاکستان تو ڈاکٹروں کا ہے جب دل کرئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
گرمیوں کی بات ہے میرے گھر کے بجلی کے بل میں کوئی گھڑبڑ تھی لہذا بل لے کر مطلقہ ایس ڈی او کے پاس پہنچا کہ بل ٹھیک کروا لوں ۔اسی دوران واپڈا اہلکار ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو گھرئے دفترمیں داخل ہوئے۔ اس شخص پر بجلی چوری کا الزام تھا۔ اُس نے اپنی روادا کچھ یوں سنائی کہ دو مہنے کا بل اکٹھے ادا کرنے کے اُس کے پاس پیسے نہیں تھے۔

لہذا واپڈا اہلکار اُس کا بجلی کا میٹر کاٹ کر لے آئے تھے۔ گھر میں بوڑھا بیمار والد اور ایک شیر خوار بچہ بھی موجود تھا ۔ اُس شخص نے جیسے تیسے مانگ تانگ کر بل کے پیسے اکٹھے کیے اور بینک جا پہنچا بدقسمتی سے بینک کا وقت ختم ہو چکا تھا ۔ مایوسی سے گھر واپس آگیا ۔ کبھی بوڑھے والد کو دیکھتا کبھی چھوٹے بچے کو دیکھتا جن کی گرمی کی وجہ سے حالت بہت بری ہو رہی تھی ۔

اُس نے سوچا صبح بل جمع کروا تو دینا ہے کیوں نے ڈرایکٹ تار لگا کر ایک عدد پنکھا چلا لے، شومئی قسمت ابھی تاریں لگائے دو گھنٹے ہی گزرئے تھے کے واپڈا کے "مستند"اہلکار آدھمکے اور صبح اُس کو پکڑ کے ایس ڈی او صاحب کی "عدالت"میں پیش کر دیا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ شخص آفیسر کے پاؤں پکڑ تا رہا اور بوڑھے والدین کا واسطہ دیتا رہا لیکن "فرض شناس"افسر کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی اور اُس نے حکم دیا کے اس کو پولیس اسٹیشن لے جاؤ اوراس کے خلاف بجلی چوری کا مقدمہ درج کروا دو۔

اگلے دن حکومتی جلسے میں بجلی کے کھمبوں میں کنڈے لگے ٹیلی ویثر ن پر پوری قوم نے دیکھے لیکن کوئی فرض شناس واپڈا اہلکار نظر نہیں آیا ۔
کیونکہ یہ پاکستان واپڈا والوں کا ہے۔
میں اُسے بچپن سے دیکھ رہا ہوں اُس نے شادی بھی نہیں کی اپنی زندگی سیاست کے لیے وقف کر دی۔ سیاست ہی اُس کا اُڑنا بچھونا تھا ہم نے اپنی آنکھوں سے اُس کو پولیس سے مار پڑتے دیکھا ۔

لیکن وہ اپنی دھن کا پکا تھا۔ وہ گلی گلی جاتا اپنے لیڈر کے حق میں لوگوں کو احتجاج کے لیے راضی کرتا ۔ آمر کے آگے نہ جھکنے کی قسمیں کھاتا۔ وہ سارا سارا دن اپنی پارٹی کے لیے کام کرتا رہتا ۔ پوری کالونی اُسے جانتی ہے۔ جتنا کام اُسنے کیا وہ ایک بڑئے عہدے کا حقدار تھا مگر جب وقت آیا تو پارٹی نے اُسے دودھ میں مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا
کیونکہ یہ پاکستان سیاستدانوں کا ہے۔


کسی کیس کے سلسلے میں اُسے سیشن کورٹ جانا پڑا کسی عدالت میں جانے کا یہ اُس کا پہلا تجربہ تھا ۔ جج صاحب ابھی تشریف نہیں لائے تھے لہذا وہ عدالتی کمرے میں دوسروں کے ساتھ ایک کرسی پر بیٹھ کر جج صاحب کا انتظار کرنے لگا۔ اسی دوران ایک وکیل صاحب اُس کے ساتھ والی کرسی پر آکر بیٹھ گئے۔ پھر سب نے کھڑئے ہو کر جج صاحب کا استقبال کیا۔ اسی دوران ایک اور وکیل صاحب بھی تشریف لائے جو اُس لڑکے کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے وکیل صاحب کے شناسا تھے۔

لہذا وکیل میری آنکھوں کے سامنے اُس کالے کوٹ والے نے لڑکے کو نووارد وکیل صاحب کے لیے جگہ خالی کرنے کا حکم دیا لڑکے نے احتجاج کیا کہ وہ پہلے سے بیٹھا ہوا ہے۔ بس بیچارے کا اتنا کہنا تھا کہ وکیل صاحب کپڑوں سے باہر ہو گئے اور ساری تعلیم اور وکالت کو ایک طرف پھینک کر لڑکے کو مارنا شروع کر دیا ۔ حال میں دوسرے وکلاء بھی بیٹھے تھے۔ بجائے کہ وہ اُس وکیل صاحب سے معاملے کی بابت پوچھتے اُنہوں نے بھی لڑکے کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔

بے چارا ساری عدالتی کاروئی چھوڑ کر اور بہت مشکل سے جان بچا کر مفرور ہو گیا۔ اس سارے واقعے کے دوران جج صاحب اپنی کرسی پر تشریف رکھے رہے لیکن لڑکے کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ بعد میں تمام وکلا فخر سے ایک دوسرئے کو بتا رہے تھے کے میں نے کتنی لگائیں اور میں نے کہاں کہاں لگائیں۔
کیونکہ یہ پاکستان تو وکلا کا ہے نا۔
ایس پی صاحب نے پوچھا کہ آپ لوگوں کا کیا معاملا ہے۔

پہلے فریق نے عرض کیا کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ہمیں مارا پیٹا گیا اور اُلٹا ہم پر ہی پرچہ کاٹ دیا گیا۔ پھر ایس پی صاحب فریق دوئم کی طرف متوجہ ہوئے اور شناسائی مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا جی آپ بتایں ،اسی دوران ایک فون کال آئی جس پر تمام وقوع کی تفصیل دوہرائی گئی، ایس پی صاحب نے فریق دوئم کو بتایا آپ کا نقطہ نظر مجھ پر واضح ہو گیا ہے لہذا آپ جاسکتے ہیں ۔ اور فریق اول کے لوگوں کو دھتکار کر دفتر سے نکال دیا گیا۔
پاکستان تو پولیس کا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : بدھ جنوری
Hussain Jan

کالم نگار : حُسین جان

حُسین جان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے