تازہ ترین : 1

نجومی سیاست اور ”متوقع“ عام انتخابات2018

اشفاق رحمانی:

متوقع الیکشن 2018 سے پہلے بننے والے ”نگران“ سیٹ اپ سے پہلے بہت سارے”سیاست دان“ اپنی اپنی اس وقت کی ”ہم خیال“ پارٹیوں میں”بلامقابلہ“ داخل ہو رہے ہیں۔ن سے ق، ق سے ن اور ن لیگ اپنے ہی ”لیڈرز“ کو عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کو ”نا اصافی‘کہہ رہے ہیں۔ ایسے ہی سیاسی ماحول میں پاکستان مسلم لیگ (ف) اور” جی ڈی اے“ کے سربراہ پیر پگارا ( جن کو بہت سارے غیر سیاسی لوگ ”بھی“ سیاست دانوں کا”پیر“ سمجھتے ہیں ) کے مطابق جنوبی پنجاب والوں کو” صوبہ“ ملنا حق ہے، سندھ کی طرح پنجاب میں بھی سیاسی اتحاد بنانا چاہتے ہیں۔

ادھر بلخ شیرمزاری سے ملاقات کے بعد پیر پگارا کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب والوں کوصوبہ ملنا حق ہے ”ہم“جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے پر یکجہتی کا اظہارکرتے ہیں۔ اگر جنوبی پنجاب صوبہ بن جائے تو بہاولپور کو صوبے کا ہیڈکوارٹر بنا دیا جائے۔ پچھلے چار سال سے نوازشریف سے فون پر بھی رابطہ نہیں ہوا۔ نوازشریف کا فون آیا تھا لیکن گھر پر نہیں تھا، اگر شہبازشریف چائے پینے کراچی آئیں گے تو انکار نہیں کروں گا۔

”نواز شریف “ کے لئے عدالت سے کیا فیصلہ آتا ہے مجھے نہیں پتا، اگرنوازشریف کو سزا ہوجاتی ہے تو تب بھی مسلم لیگ کی حکومت دیکھ رہا ہوں۔ وفاق کی مضبوطی کے لیے ہمیشہ کردارادا کیا۔ صوبہ جنوبی پنجاب کا نعرہ اپنی محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے لگایا ہے۔ ایسے ”سیاسی“ ماحول میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ”بھی“ کسی سے کم نہیں، کہتے ہیں”چیونٹوں کے پر نکل آئے ہیں“ کچھ لوگ مجھے سیاست سے آؤٹ کرنے آئے ہیں ،میاں نوازشریف اور شہباز شریف بھی اگر میرے ساتھ حساب کتاب کر لیں تو میرا” قرض“ ان پر ہو گا ان کا مجھ پر نہیں، نواز شریف کو اب بھی اگر میری ”وفاداری“ کا احساس نہیں ہے تو پھر کبھی نہ ہو گا،مشکل وقت ہماری غلطیوں کی وجہ سے آیا، پارٹی بچ گئی تو نواز شریف بھی بچ جائیں گے،میں پارٹی میں موجود ہوں اور اپنے” موقف پر قائم ہوں“چوہدری نثار علی خان کے مطابق مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہااور خدمت کی سیاست کو حلقہ میں روشناس کرایا,میں نے اس حلقہ میں مسلم لیگ کو زندہ رکھا ورنہ مجھ سے پہلے اس حلقہ میں مسلم لیگی امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جاتی تھیں اور یہاں مسلم لیگ کو ”زندہ“ کیا۔

میں عرصہ 34 سال سے مسلم لیگ اور نواز شریف کے ساتھ ہوں اور ہمیشہ وفاداری نبھائی ،میں نے ہمیشہ ”خدمت کی سیاست“ کی ،سیاست میں کبھی ”مال“ نہیں بنایا۔پاکستان اس وقت مشکل ترین حالات سے گذر رہا ہے،سنگین حالات کے باوجود ہم ذاتی لڑائیوں میں لگے ہوئے ہیں ،عزت کردار سے ملتی ہے عہدے سے نہیں۔ واہ جنرل ہسپتال اس علاقہ کے لیے بہت بڑا تحفہ ہے اور یہ دو سال کے قلیل عرصہ میں تیار ہوا ہے اور اس پر 1.8ارب روپے لاگت آئی ہے,فی الحال اس کا پہلا فیز مکمل ہو ا ہے اور یہ آج کے بعد فوری طور پر آپریشنل ہو جائے گا۔

پاکستان کے عوام کی سب سے بڑی ضرورت صحت اور تعلیم کی سہولیات ہیں۔واہ جنرل ہسپتال کی کے لیے زمین کا ”عطیہ “ سابق چیئرمین پی او ایف بورڈ جنرل (ر) احسن محمود نے کر کے اس کی تعمیر کو ممکن بنا یا۔سیاسی ”حالاتِ حاضرہ“ کے بعد اب کچھ ذکر ہو جائے”نجومی سیاست“ کا جس کا ذکرپاکستان کی پہلی سوشل میڈیا نیوز ایجنسی میڈیا ڈور کی تحقیقاتی ٹیم نے کیا،ایجنسی نے یہ انکشاف ایک عالمی شہرت یافتہ ماہر علم نجوم اور دست شناس کے حوالے سے کیا ہے، رپورٹ کے مطابق (جس سے ”ووٹرز“ کا متفق ہونا ضروری نہیں، اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نااہل کئے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم صفدر اعوان(مریم نواز شریف) اپنے میکے اور سسرال سمیت پاکستان بھر سے قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے 6حلقوں سے کاغذات نامزدگی حاصل کریں گی جبکہ انہیں حلقوں میں سے پنجاب کے2حلقوں سے ان کے صاحبزادے جنید صفدر اور ان کے شوہر صفدر اعوان بھی”احتیاتاََ قومی اسمبلی کے دو حلقوں کیلئیکاغذات نامزدگی حاصل کریں گے۔

یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مریم صفدر کو الیکشن کمیشن کی طرف سے مبینہ طور پرکسی بھی حلقے کی کلیرنس نہیں ملے گی کیونکہ ان پر بھی مبینہ طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال،اثاثہ جات کی بیرون ملک منتقلی اور ”صادق و امین“ کی آئینی شق پر پورا نہ اترنا شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیٹوں پر اپنے بیٹے اور شوہر کے بھی کاغذات حاصل کئے جائیں گے۔

میڈیا ڈور کی تحقیقاتی ٹیم نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اگر عام انتخابات2018میں ہو جاتے ہیں تو ن لیگ ”پنجاب“ سے وزارت اعلیٰ کا قلم دان بھی ”کھو“ دے گی جو پاکستان تحریک انصاف ”کی رہنما“ کو جیت کی خوشی میں”تحفے“ میں دئیے جانے کا امکان ہیجو سردار ایاز صادق اور کلشوم نواز شریف کے مد مقابل بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

ادھر میاں شہباز شریف لاہور کے دو اور پنجاب و قومی اسمبلی سمیت کل5حلقوں سے” انتخابی اکھاڑے“ میں اتریں گے تاہم”بھاری“ اکثریت میں کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کی لاہور کی سیٹ کو ترجیح دے کر ایک نشست اپنے بیٹے”سلیمان شہباز“ کو گفت کر دیں گے جو ضمنی الیکشن میں جیت کر ”پنجابی سیاست“ کر سکتے ہیں تاہم خادم اعلیٰ ایک نشست”ضمنی الیکشن“ کیلئے اپنی بیٹیوں میں سے بھی کسی کو دے سکتے ہیں۔

سیاسی انکشافات اپنی جگہ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ شریف خاندان میں آئندہ اگر کوئی سیاست میدان میں اپنے ”حریف“ کو بری طرح چیت کر سکتا ہے تو وہ صرف میاں محمد شہباز شریف ہی ہیں۔میڈیا ڈور نے ایک دست شناس نجومی کی پشین گوئی بھی شامل کی ہے جس کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن الیکشن 2018 میں نئے کھلاڑیوں کے ساتھ بغیر ”شیر“ کے الیکشن میں حصہ لینے کی بھی حکمت عملی تیار کر چکی ہے۔

کرپشن و بدعنوانی کے مبینہ الزامات کی زد میں پاکستان مسلم لیگ ن کے 22 قومی و صوبائی وزرا بھی متوقع الیکشن میں کاغذات نامزدگی کی کلیرنس کیلئے”پر“ تول رہے ہیں تاہم الیکشن کمیشن کی طرف سے ان کو ”او کے“ چٹ نہیں مل سکے گی۔کیونکہ اب ”قانون“ کی شق ”ووٹرز“ نے بھی پڑھ رکھی ہیں۔ادھر بلاول بھٹو زرداری صوبائی اسمبلی کی 2 اور قومی اسمبلی کی 2سیٹوں پر ”بھاری“ اکثریت سے کامیاب ہو کر باقاعدہ”سیاست دان“ بن جائیں گے جبکہ سابق صدر پاکستان اورسیاست کے”پروفیسر“ آصف علی زرداری عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : اتوار اپریل
Ashfaq Rehmani

کالم نگار : اشفاق رحمانی

اشفاق رحمانی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے