ٹرمپ اور ہم

حُسین جان:

ٹرمپ کے بیان پر ساری قوم کا خون جوش مار رہا ہے۔ لوگوں کا بس نہیں چل رہا کہ ٹرمپ کو کان سے پکڑ کر گلی گلی گھسیٹیں۔ ہمارے ہاں ایک رواج ہے کہ جب کوئی چھوٹا موٹا چور یا لڑکی کو چھیڑتا ہوا کوئی لونڈا پکڑا جائے تو اُس کا منہ کالا کر کے گلے میں جوتیوں کی مالا ڈال کر کوچے کوچے میں چکر لگاوایا جاتا ہے۔ بعض کی قسمت اگر زیادہ بری ہو تو گدھے کی سواری بھی کرنی پڑتی ہے۔

لیکن جب کبھی کوئی بڑا چور یا طاقتور بندہ پکڑا جائے تو سب اُس کے حق میں بول پڑتے ہیں کہ موصوف تو گھر سے دہی لینے گیا تھا وہ بھلا ایسا کام کیسے کر سکتا ہے۔ ایک صاحب نے آرمی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو جواب خارجہ والے دیں گے جبکہ خواجہ سعد رفیق کو ہم۔ بہت سے لوگوں کے لیے آرمی پر تنقید کرنے کا یہ اچھا موقع ہے ۔ اُن کے بقول امریکہ سے جتنی بھی مدد یا معاوضہ آتا رہا ہے وہ آرمی استعمال کرتی رہی ہے۔


اگر ملک میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوجائے اُس پر بھی آرمی کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے پاکستانی لبرل طبقہ ملک میں انتشار پھیلانے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ حقیقت اس کی کچھ بھی ہو ۔ ملک میں انتشار کی زمہ داری تمام لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ کرپشن کی بات کریں تو شائد ہی کوئی ایسا بندہ نظر آئے جس میں کرپشن کا کیڑا موجود نہیں۔

کرپشن پر سب سے زیادہ لیکچر صحافیوں کی طرف سے دیے جاتے ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ یہی صحافی لاہور کے پریس کلب کے الکیشنز میں کیسے دست و گریبان تھے۔ یہ کیا تھا اقتدار کی جنگ تھی۔ سب کی نظر فنڈز پر ہوتی ہے ۔
خیر ٹرمپ کی طرف آتے ہیں اُس نے پاکستان پر جو الزامات لگائیں ہے اُن کا جواب تو حکومت ہی دے سکتی ہے۔ لیکن اس سے عام آدمی میں کافی مایوسی پائی جاتی ہے۔

ٹرمپ نے صرف ہماری حکومت یا آرمی کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ پورے ملک کے باسیوں پر تنقید کی ہے۔ اُس نے پوری قوم کو چوروں کی صف میں کھڑا کر دیاہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت اورآرمی بیٹھ کر گزشتہ سالوں کا سارا حساب کتاب نکالے اور امریکہ کے منہ پر مارے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ہم امریکہ سے جنگ کریں ہاں خود کو خودار ثابت کرنے کے لیے اب کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اخبارات میں تو ہم نے بیان دے دیے ہیں کہ امریکہ ہماری سڑکیں، ہوائی اڈے وغیرہ استعمال کرتا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں کی تفصیل کو پبلک بھی کیا جائے اسی سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا۔
ہمارے ہاں ایک بات بہت تواتر سے کہی جاتی ہے کہ ہر کام عوام کی منشاء اور عوام کی عدالت ہی سے ہو گا۔ اور عوام کو ہر معاملے میں اعتماد میں لیا جائے گا۔

لیکن عملی طور پر اس میں کوئی حقیقت نہیں ۔ یہ تمام فیصلے اشرافیہ کی مرضی و منشاء کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ کیا عوام کو بتایا جائے گا کہ امریکی فنڈ کہاں خرچ کیے گے کون کون اس سے مستفید ہوا۔ ہمارے ہاں اگر دیکھا جائے تو تمام اداروں کے افسران بڑئے بڑے گھروں میں رہتے ہیں۔ سرکاری محکمے کے افسر کا مطلب امیر آدمی۔ کیا کبھی کسی نے یہ کھوجنے کی کوشش کی ہے کہ یہ لوگ امیر کیسے بنے۔

جس افسر کو دیکھو پراڈو لیے گھومتا نظر آتا ہے۔ ملکی قرضہ آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ آخر یہ قرصہ دینا کس نے ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں کو بڑھا بڑھا کر ایسے قرضے عوام کے خون سے نکالے جا رہے ہیں۔
جس طرح عالمی سطح پر سیاسی صورتحال بگڑی ہے ہماری حکومتوں نے اس پر سنجیدگی سے سوچنا گوارہ نہیں کیا۔ انہوں نے سوچا کہ لیبا، مصر، یمن ، افغانستان اور اب ایران یہی ملک انتشار کی زد میں آہیں گے۔

اگر سنجیدگی سے اس معاملے پر بھی سوچ و بیچار کیا ہوتا تو مشکل حالات سے بہتر طریقے سے نپٹا جا سکتا تھا۔ مگر یہ لوگ اپنی عیاشیوں اور اپنی اپنی اولاد کو امیر بنانے کے سوا کوئی کام نہیں کرتے۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو بہت جلد یہ ہوا ہمارے ملک کا رُخ بھی کرسکتی ہے ۔ وہ لوگ جو خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ہم ایک متحد قوم ہیں ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

ہمیں تو انڈیا ہی آنکھیں دیکھانے سے باز نہیں رہتا ہم نے سپر پاور کا کیا مقابلہ کرنا ہے۔ سیاستدانوں اور اشرافیہ نے اس ملک کے عوام کو دیا ہی کیا ہے جو یہ بڑئے بڑئے بم کا مقابلہ کریں گے۔
اگر قوم کو اپنے حق میں ہموار کرنا ہو تو عوامی مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ ترکی میں کیسے حالات آئے لیکن عوام نے اُن پر قابو پا لیا اُس کی سب سے بڑی وجہ حکمرانوں کا عوام کے لیے بہتر کام کرنا تھا۔

کرپشن ہر جگہ پر ہوتی ہے لیکن اُس کی کوئی حد بھی ہونی چاہیے ہمارے ہاں کرپشن کی کوئی حد نہیں۔ بس اپنے اپنے خاندان کو بھرتے جاؤ۔ ایسے میں امریکہ کیا دُنیا بھی ہمیں چور سمجھتی ہے۔ مشرف کے زمانے میں تو کیسے کیسے کارٹون چھاپے گئے۔ عالمی سطح پر ہم قومی تشخص کھو بیٹھے ہیں۔ اس کو بحال محنت اور ایمانداری سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ جب دُنیا کو پتا ہو گا کہ پاکستان ایک ایماندار اور محنتی قوم ہے تو کوئی بھی ہماری طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : جمعرات جنوری
Hussain Jan

کالم نگار : حُسین جان

حُسین جان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے