تازہ ترین : 1

نوازشریف کاآخری انجام ۔۔؟

عمر خان جوزوی:

ہم نے اپنے بڑوں سے ایک نہیں کئی بار سناہے کہ زندگی جس طرح بھی ہو گزرجائے گی ۔سفرکتناہی لمباکیوں نہ ہوایک دن ختم ہوہی جائے گالیکن انجام چاہے زندگی کاہویاسفرکا۔۔اس کے اثرات وثمرات کبھی ختم نہیں ہوتے۔۔زندگی کاانجام اچھاہواتواگلے جہان میں بیڑہ پار اور دنیاوی سفرکاانجام اگر اچھارہاتوپھردنیاکی پوری زندگی ہی کامیاب۔اس لئے اپنے رب سے ہمیشہ اچھے انجام کی دعامانگنی چاہئے اوراگرحالت نزع کی ہوپھرتواچھے انجام کی ڈبل دعامانگنی چاہئے تاکہ سرپرآنے والاانجام کہیں وبال نہ بن جائے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی وزیراعظم ہاؤس سے بیدخلی اورشریف خاندان کے ماتھے پر،،چور،،کے لگنے والے داغ کے بعدبے جابیان بازیوں اورقومی اداروں پرالزامات کی بوچھاڑسے مسلم لیگ ن اورن لیگ کی وفاقی حکومت اس وقت نزع کی حالت میں داخل ہوچکی ہے ۔ن لیگ اور لیگی حکومت کی اس وقت حالت اس چوزے کی طرح ہے جومرغی سے بچھڑکرایک ایسی بندگلی میں چوں چوں کررہاہے جہاں نہ صرف گلی کے چاروں طرف بڑے بڑے منہ اورموٹی تازہ آنکھوں والے شکاری شکارکے لئے تیارکھڑے ہیں بلکہ اوپرفضاء میں بھی کوے ۔

۔عقاب۔۔بازودیگردشمن پرپھیلائے مسلسل پروازکررہے ہیں ۔۔اس صورتحال میں جس طرح اس چوزے کابچناممکن نہیں ۔۔عین ہی اسی طرح آج ن لیگ اورلیگی حکومت کی بچنے کی بھی کوئی سبیل دکھائی نہیں دے رہی ۔کیونکہ پہلے توصرف ایک تحریک انصاف ن لیگ اورلیگی حکومت کاشکارکرنے کیلئے راہیں تلاش کررہی تھی لیکن اب تو انتخابات کے قریب آتے ہی پیپلزپارٹی ۔۔

جے یوآئی۔۔جماعت اسلامی۔۔ایم کیوایم سمیت دیگرسیاسی جماعتیں اورپارٹیاں بھی لیگی چوزے کے شکارکے لئے نکل پڑی ہیں ۔۔ایسے میں جلدہویابدیرنوازشریف کی طرح لیگی حکومت کابھی دھڑن تختہ ہوجائے گایا کردیاجائے گا۔اس سے پہلے کہ لیگی حکومت کسی تیر۔۔پتھر۔۔سونامی یاکسی مجلس کے ہاتھوں مظلومانہ طریقے سے شکارہوکربھیانک انجام سے دوچارہوجائے ۔

۔ن لیگ کواس نزع کی حالت میں اچھے انجام کی دعائیں مانگنے کے ساتھ کچھ ایمرجنسی دوائیں لینے کاسلسلہ بھی شروع کردیناچاہئے تاکہ ن لیگ سے،،بدقسمت حکومت،، والی یہ روح آسانی سے نکل سکے۔۔ماناکہ نوازشریف اورن لیگ کی حکومت نے ملک بھرمیں موٹروے بنانے کے ساتھ بہت سارے اچھے کام کئے ہوں گے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوازشریف اورن لیگ مرکزمیں اپنی حکومت ہونے کے باوجود جنوبی پنجاب اورخیبرپختونخواکے ہزارہ ڈویژن میں عوام کااعتمادحاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔

جنوبی پنجاب اورہزارہ میں تحریک انصاف۔ ۔پیپلزپارٹی ۔۔جے یوآئی ۔۔اے این پی اورجماعت اسلامی نے بھی کوئی بڑے تیرنہیں مارے نہ ہی کوئی خاص ترقیاتی کام کئے لیکن اس کے باوجودجنوبی پنجاب اورہزارہ کے لوگ آج بھی صرف نوازشریف اورن لیگ کواپنی ترقی میں رکاوٹ قراردے کران کواپنی پسماندگی کاذمہ دارسمجھتے ہیں ۔۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب اورہزارہ کے لوگوں نے اپنی وسعت سے بھی بڑھ کرہمیشہ نوازشریف کوپیاردیا۔

۔کوئی سیاستدان اپنے حلقے کے علاوہ اگرملک کے کسی اورحلقے یاکونے سے الیکشن میں حصہ لے تووہاں کے لوگ انہیں امپورٹڈ۔۔خانہ بدوش۔۔کرایہ دارنہ جانے کن کن ناموں سے پکارتے ہیں لیکن نوازشریف نے ایک نہیں دوبارہزارہ کے ضلع ایبٹ آبادسے قومی اسمبلی کاالیکشن لڑااوردونوں باربھاری اکثریت سے ہزارہ کے عوام نے انہیں کامیاب بھی کرایا ۔۔الیکشن کے علاوہ بھی میاں پرجب بھی کوئی مشکل وقت آیاتوانہوں نے ہزارہ کے عوام کوہی پھر اپنے سنگ پایا۔

اسی وجہ سے اب کی باربھی جب وہ وزیراعظم ہاؤس سے خالی ہاتھ الٹے پاؤں نکالے گئے تو انہوں نے لاہوریااسلام آبادکی بجائے ہزارہ سے ہی عوامی رابطہ مہم کاآغازکیا۔۔ہزارہ کے عوام نے توہرموقع پرنوازشریف اورن لیگ کاساتھ دیا لیکن ہزارہ کے عوام کی بے مثال محبت اورلازوال سیاسی تعاون کے بدلے نوازشریف نے ہزارہ اورہزارہ کے غریب عوام کوپسماندگی۔

۔مایوسیوں۔۔پریشانیوں اورامتحانوں کے سواکیا دیا۔۔؟نوازشریف چاہتے توجنوبی پنجاب اورہزارہ دونوں کونئے صوبوں کادرجہ مل سکتاتھا۔۔نوازشریف کچھ کرتے توہزارہ میں اےئرپورٹ بننے سے آج ہوامیں جہازاڑتے۔۔فیکٹریاں اورکارخانے لگتے۔۔بڑے بڑے پارک بنتے۔۔روزگارکے دروازے کھلتے۔۔پسماندگی کے منحوس سائے سالوں اورمہینوں نہیں دنوں میں ہٹتے لیکن افسوس اقتدارکی رنگینیوں اوروزیراعظم ہاؤس کے دلربامناظرمیں نوازشریف ہربارجنوبی پنجاب اورہزارہ کے عوام کویادکرنا بھول گئے۔

۔جس کی وجہ سے وہ لوگ جودل اورجان سے بھی زیادہ نوازشریف اورن لیگ سے محبت وپیارکرتے تھے آج وہ نفرت کااظہارکرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔۔وہ ہزارہ جہاں کے پہاڑوں کے علاوہ شہروں میں بھی شیرکابسیراہوتاتھاآج اس ہزارہ کے شہروں کے ساتھ پہاڑوں میں بھی نوازشریف ،،قاتل ہزارہ،،کے نعرے لگ رہے ہیں۔۔صوبہ ہزارہ کے قیام کون لیگ نے 2013کے انتخابی منشورمیں شامل کیاتھالیکن اقتدارمیں آنے کے بعدن لیگ اورنوازشریف ہزارہ کوسرے سے ہی بھول گئے۔

۔نوازشریف تواقتدارسے رخصت ہوئے لیکن ن لیگ کی حکومت اب بھی موجودہے۔۔نوازشریف چاہے تواب بھی صوبہ ہزارہ سمیت جنوبی پنجاب میں سرائیکی کو صوبہ بنایاجاسکتاہے۔نوازشریف اقتدارسے ضرورگزرے لیکن وقت ابھی نہیں گزراہے۔۔ن لیگ کے پاس ہزارہ اورجنوبی پنجاب کے عوام کے دل جیتنے اوراپناانجام اچھابنانے کاموقع اب بھی ہے ۔۔نااہل شخص کوپارٹی سربراہی کااہل بنانے کے لئے اگرآئینی ترمیم منظورہوسکتی ہے توپھرصوبہ ہزارہ اورسرائیکی صوبے کے قیام کے لئے ترمیم کیوں پاس نہیں ہوسکتی ۔

۔؟بندگلی میں کھڑی اوروینٹی لیٹرپرآخری ہچکیاں لینے والی لیگی حکومت کے پاس عوام کے دل جیتنے کااس سے بہترموقع کوئی نہیں ہوگا۔۔ نوازشریف اگرایبٹ آبادجلسے کے دوران ہی پارٹی منشورمیں شامل صوبہ ہزارہ کے حوالے سے ہزارہ کے عوام کوکوئی خوشخبری سنادیتے تواس سے اس کااپنابوجھ اورغم بھی معمولی نہیں کافی حدتک ہلکاہوجاتامگرافسوس کہ اپنے سیاہ کرتوتوں اورذاتی مفادات کے کھیل کے باعث وزیراعظم ہاؤس سے خالی ہاتھ نکلنے کے بعدبھی وہ ،،میں،،سے آگے نہیں نکل سکے ۔

ایبٹ آبادجلسہ بھی ،،مجھے کیوں نکالا،،تک محدودرہاجس سے ہزارہ کے عوام کومایوسی کے سواکچھ نہیں ملا۔بہرحال اب بھی اگرنوازشریف اپنی حکومت کے ذریعے صوبہ ہزارہ اورسرائیکی صوبے کے قیام کے لئے اپناکرداراداکریں تواس سے ،،چوری،،کے بدنماداغ تلے چھپنے کے باوجودملک میں ایک بارپھرنوازشریف کی واہ واہ شروع ہوجائے گی ۔لیکن اگرحکومت کی باقی مدت بھی اپنے حوالے سے سیاہ کوسفیداورسفیدکوکالاکرنے اور،،مجھے کیوں نکالا،،کی گردان میں گزرگئی توپھرنوازشریف اورن لیگ دونوں کانجام بہت براہوگا۔

کیونکہ آئندہ الیکشن میں پھر مسلم لیگ ن کونہ صرف ہزارہ بلکہ جنوبی پنجاب سمیت پورے ملک میں شدیدمشکلات کاسامناکرناپڑے گا۔اس لئے بہترہوگاکہ نوازشریف ،،مجھے کیوں نکالا،،کی وردچھوڑکراپنی حکومت سے پوچھیں کہ صوبہ ہزارہ اورسرائیکی صوبہ ابھی تک کیوں نہیں بنا۔۔؟نوازشریف جب اپنی ذات کوچھوڑکرعوام کی بات کریں گے توپھران کی بات میں بھی وزن ہوگی اورایسے میں عوام بھی پھران کے ساتھ ہوں گے ۔کیونکہ میاں صاحب جب ہزارہ اورسرائیکی عوام کے حقوق کی بات کریں گے توپھرایسے میں وہ اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ ان کی پشت پرہزارہ اورجنوبی پنجاب کے لاکھوں اورکروڑوں لوگ بھی ہوں گے ۔۔اب یہ نوازشریف کی مرضی ہے کہ وہ کس آخری انجام کی طرف بڑھتے ہیں ۔۔؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : بدھ دسمبر
Umer Khan Jozvi

کالم نگار : عمر خان جوزوی

عمر خان جوزوی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے