تازہ ترین : 1

پاک فوج،اورانڈین کلبھوشن جاسوس

افضل سیال :

پاکستان دنیا میں سب سے بڑی جنگی لحاظ سے ایکٹیو سرحد رکھنے والا ملک ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں ہے۔۔۔۔۔۔!!
پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے۔ جسکے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پرڈپلوئیڈ ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ۔

۔ اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ،بلوچستان میں مداخلت کرتے ہوئے گوادرتک پہنچانا ہے۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب میں پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے۔آپ اندازہ کیجے کہ انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہوگی باقی ہماری فوج امریکن" ایف پاک " ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔

۔۔
امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن پاکستان کے خلاف ( American afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی تھی جس کو اب ڈونلڈ ٹرمپ آگے بڑھا رہے ہیں۔ جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا تھا اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی تھی۔جو اس وقت جاری ہے درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ہے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج قبائیلی علاقوں میں حالت جنگ میں ہے ۔

ہماری فوج کو مختلف محاذ پر تقسیم کرنے پر مجبور کرنا ہی دشمن کی سازش ہے۔۔۔۔
تیسری جنگی ڈاکٹرائن کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اسکو فورتھ یا ففتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے!!
فورتھ جنریشن وار(Fourth-generation war) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوریاں پیدا کی جاتی ہے۔

۔ صوبائیت اور قوم پرستی کو ہوا دے جاتی ہے۔ لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے۔اس پر عمل درآمد کے لیے بہترین ہتھیار ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اورسوشل میڈیا کوبھی استعمال کیا جاتا ہے پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں۔

آپکو یاد ہوگا باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائنگی
اس وقت پاکستان کی حکومت دانستہ یا غیر دانستہ اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی آلہ کار بنی ہوئی ہے جس میں حکومت کے حمایتی عام شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

۔۔یہ واحد جنگ ہے جسکا جواب فوج نہیں دے سکتی۔ فوج اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاک فوج بے شمار قربانیاں دینے کے باوجود اب تک اس جنگ کو ختم نہیں کرسکی اوراسکو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں، علمائے کرام، دانشور اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہر پاکستانی جنگ میں عملی طور پر حصہ لے آپ کے پاس سوشل میڈیا ہے آپ ہر اس چیز کو رد کر دیں جو اسلام، پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو" ۔۔۔۔۔۔ انڈین کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا انحصار بھی ایف پیک اور فورتھ جنریشن وار کی کامیابی پر ہے!
انڈین ایجنٹ کلبھوشن یادیو جسکو ہماری سیکورٹی ایجنسز نے 3مارچ 2016 کو بلوچستان کے باڈر ایریا سے گرفتار کیا،قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا اور انصاف کے تضاضے پورے کرتے ہوئے ملٹری عدالت نے اسے سزا موت سنائی ۔

۔۔۔ انڈین ایجنٹ کلبھوشن یادیو پر آجکل بھارتی میڈیا سیاق و سباق سے ہٹ کرجھوٹا وویلا مچا رہا ہے کہ انٹرنشنل کورٹ آف جسٹس کے حکم اور دباو پراسکی بیوی کو ملنے کی اجازت دی گئی ہے اس پروپیگنڈے میں پاکستانی میڈیا کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔۔۔ "لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے" پاکستان نے نہ کبھی کسی کا دباوکو قبول کیا ہے نہ کرے گا اور نہ ہی انکی طرف سے کوئی ایسا حکم دیا گیا ہے۔

۔۔ پاک فوج نے انسانی ہمدری کے تحت کلبھوشن یادیو کی بیوی کو ملاقات کی اجازت دی ہے جو ایک انتہائی قبل تحسین عمل ہے ۔۔۔ کیونکہ پاکستان کسی انٹرنشنل کورٹ آف جسٹس کے دباو کونہیں مانتا۔۔ لہذا ایسے پروپگینڈا سےانڈین ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے جرم کو چھپایا نہیں جا سکتا،اسکے ہاتھ بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں جسکی سزا اسے ضرور ملے گی ۔۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : بدھ نومبر
Afzal Sayal

کالم نگار : افضل سیال

افضل سیال کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے