تازہ ترین : 1

ہم امریکہ سے قرضے کی بجائے ایسی پالیسیاں نہیں لے سکتے؟

حافظ ذوہیب طیب:

کرپشن، حرام خوری اور بد دیانتی ، ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو ہمارے حکمرانوں، سیاستدانوں اور رہنماؤں سے ہوتے عام آدمی کے جسم میں سرایت کر چکی ہیں۔ جس کی نتیجے میں بے سکونی، افرا تفری، بے برکتی اور مختلف اقسام کی بیماریاں، پریشانیاں اور مایوسیاں ہمارا مقدر کر دی گئی ہیں۔ظلم تو یہ ہے کہ یہ لوگ حرام خوری اور کرپشن کو ہم اپنا حق سمجھتے ہوئے انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ کالے دھن کو جمع کر رہے ہوتے ہیں ۔

میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں کہ حرام خوری کے نتیجے میں اللہ نے ان پر ایسا عذاب مسلط کر دیا ہے کہ انہیں حلال رزق کھانے کی توفیق ہی نہیں ہو پاتی۔ حلال کی تنخواہ ان کے ذاتی بنک اکاؤنٹس میں پڑی رہتی ہے یا اسے خیرات کر دیا جاتا ہے جبکہ باقی اخراجات حرام کے پیسوں سے پورے ہو رہے ہوتے ہیں۔
معروف دانشور بانو قدسیہ نے جین میوٹیشن کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا مطلب انسانی جینز میں تبدیلی واقع ہو نا یا ان جینز میں کوئی خرابی پیدا ہو جا نا ہے جس کے نتیجے میں نسلیں ناامیدی اور پاگل پن کا شکار ہوجاتی ہیں، جین میوٹیشن کی سب سے بڑی وجہ حرام خوری ہے ۔

اپنے ارد گرد وقوع ہوتے واقعات کو دیکھتے ہوئے ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمارا معاشرہ بھی تیزی سے جین میوٹیشن کی بیماری میں مبتلا ہو تا جا رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بطور قوم ہم ہمیشہ ایسے لوگوں کو اپنا حکمران منتخب کرتے ہیں جن کا شمار چوروں اور ڈکیتوں کی عالمی فہرست میں صف اول پر ہوتا ہے ۔ ہم ایسے لوگوں کو اپنا ہیرو بناتے ہیں جو کرپشن تو ایک طرف ،قومی خزانے پر اربوں ، کھربوں کے ڈاکے مار کر پھر بھی معصوم اور بے گناہی کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں ۔


قارئین کرام !بطور صحافی ،میرے سامنے روزانہ ہی سر کاری اداروں میں جاری کرپشن اور حرام خوری کی ایسی ایسی داستانیں سامنے آتی ہیں کہ جن پرلکھا جائے تو سیکڑوں کتابیں وجود میںآ سکتی ہیں ۔ بڑے بڑے محکمے تو ایک طرف ، چھوٹے ادارے اور محکموں میں بیٹھے حرام خور، کس بے دردی اور ظالمانہ طریقے سے غریب لوگوں کے خون پسینے کی کمائی، ایسے ایسے طریقے سے کھانے کے بہانے تلاش کرتے ہیں جیسے ان کے باپ کا پیسہ ہو۔

حالیہ دنوں میں ریسکیوموٹر سائیکل ایمبولینس ، جس کا افتتاح خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کیا اور اپنے خظاب کے دوران اس منصوبے کو شفا فیت اور میرٹ پر مبنی منصوبہ قرار دیا، لیکن کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ اس منصوبے کو بھی حرام خوری اور اپنا حصہ حاصل کرنے کی خاطر مشکوک بنا دیا۔ صرف ایک کمپنی ،جس کا مالک متعلقہ محکمے کے ڈائریکٹر جنرل کا قریبی دوست ہے کو ٹھیکہ دیا گیا اور ناقص موٹر سائیکلوں پر انتہائی گھٹیا سامان نصب کرایا گیا۔

یہ صرف ایک محکمے کی بات نہیں ، جس بھی محکمے کی کار کردگی پر نظر دوڑائی جائے وہاں ایسی ہی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔پچھلے ایک سال کی مختلف محکموں کی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میرے سامنے ہے جس کے مطابق لاہور کی صفائی کمپنی نے بھی خرانے پر ہاتھ صاف کئے۔ایل۔ ڈبلیو۔ایم۔سی کے 2015سے 2016کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے دوران 12ارب روپے کی خرد برد کا انکشاف کیا گیا ہے ۔

ریکارڈ کی عدم دستیابی،ٹھیکہ جات میں فراڈ،ڈینگی مہم کے فنڈ میں خرد برد سمیت شہر میں لگائے جانے والے پودوں کی ادائیگیاں بھی بوگس ثابت ہوئی ہیں۔
واسا لاہور میں بھی ایسا ہی فراڈ منظر عام پر آیاہے جہاں دیسی ساختہ موٹروں اور پمپوں پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مونو گرام لگا کرتنصیب کرنے کا انکشاف ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے حرام خوروں کی جیبیں تو بھر رہی ہیں لیکن موٹروں کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو کڑورں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔

صحت کا شعبہ بھی کرپشن اور حرام خوری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔لہذا ایسی صورتحال میں یہ کسی سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہے؟سال 2016-17میں محکمہ پرائمری ہیلتھ کئیر کے ماتحت ہسپتالوں کے لئے 50ادویات کی پراڈکٹ پر 1133فیصد تک مہنگی ادویات خرید کر 2ارب23کروڑ21لاکھ روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔ یہ وہی محکمہ صحت ہے جس کے تحت پنجاب کے بڑے بڑے سر کاری ہسپتال کام کر رہے ہیں اور لاہور کے ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ وہاں صحت کی ضروری سہولیات تو دور کی بات ، آئی۔

سی۔یو میں اضافی بیڈز نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ 4سے 5لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔لوگ علاج کی خاطر دھکے کھاتے نظرآتے ہیں اور حکام بجٹ کا رونا روتے نہیں تھکتے۔
قارئین کرام !گذشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے وزیر صحت ٹوم پرائس کو صرف فضول خرچی کے الزام میں بر طرف کر دیا۔ ٹوم کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ملکی دوروں کے دوران کمرشل فلائٹس کی بجائے چارٹرڈ طیاروں سے سفر کیا۔

یاد رہے ،نکالے جانے سے ایک روز قبل تک وزیر صحت ، ٹرمپ کو منانے کی کوشش کرتے رہے اور اس کے لئے چارٹرڈ فلائٹس کے اخراجات اپنی جیب سے دینے کی پیشکش بھی کی ۔ لیکن ٹرمپ نے وزیر کو خوب جھاڑ پلائی اور کہا کہ آپ کی جانب سے کی گئی عیاشی ، سادگی اپنانے اور فضول خرچی کے خاتمے کے میرے دعوؤں کے منافی ہے۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم صرف کچھ دنوں کے لئے امریکہ سے ہاتھ پھیلائے ،قرضہ کی بھیک مانگنے کی بجائے ایسی پالیسیوں کی بھیک مانگیں جوحرام خوری، کرپشن، فراڈ اور بعض دوسرے طریقے سے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کا علاج کر سکے۔

جو معاشرے میں بڑھتی ہوئی جین میوٹیشن پر قابو پاسکے، جو اینٹی کرپشن، نیب اوراس جیسے دوسرے اداروں کے سر براہوں میں قومی غیرت وحمیت کا جذبہ پروان چڑھا سکے جس کے نتیجے میں ایسے محکموں میں بیٹھے حرام خورں کے خلاف حقیقی معنوں میں کسی کاروائی کا آغاز ہو سکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : بدھ اکتوبر
Hafiz Zohaib Tayyab

کالم نگار : حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے