بند کریں
جمعہ مئی

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

حافظ ذوہیب طیب :

افسوس کی ساتھ یہ بات لکھنی پڑ رہی ہے کہ بطور مسلمان ہم پوری دنیا میں ذلت وپستی کا شکار ہیں جس کی اہم وجہ ہمارے حکمرانوں کی آپسی لڑائیاں اور عیش و عشرت کے نشے میں مست زندگی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہنستے بستے شہروں کو کھنڈرات بنا نے والے ظالموں کی پشت پر اپنے ہی مہربان دکھائی دیتے ہیں ۔ کچھ حکومتوں کی آپسی لڑائی، لاکھوں افراد کو متاثر کر دیتی ہے ۔

جس کی وجہ سے بہترین زندگی گذارنے والے افراد بے یار ومددگار ٹہرتے ہیں۔ بچوں کو میزائلوں اور بموں سے نشا نہ بنا یا جا تا ہے ۔ گھر، مساجد،سکول اور ہسپتال سب کچھ تباہ کر کے رکھ دیئے جاتے ہیں اور وہاں صرف جو چیز باقی بچتی ہے وہ حسرت و یاس ہے ۔ کچھ ایسا ہی حال ملک شام کا ہے جہاں کے باسی اپنوں کی مہربانیوں کی وجہ سے جس ظلم وستم کا شکار ہیں انہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

جبر کی ایسی ایسی داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ روح کانپ اُٹھے۔ ایسے خوبصورت چہرے والے، معصوم بچوں کو اپنی فرعونیت کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے ، لہولہان کر دیا جا تا ہے کہ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو تا ہے کہ معصوم بچوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ و جابرانہ رویہ اختیار کر نے والے بھلا انسان کیسے ہو سکتے ہیں؟۔ لوگ ضروریات زندگی کی بنیادی چیزوں کو ترس رہے ہیں ۔

روٹی ہے ، کپڑا ہے اور نہ کوئی محفوظ پناہ گاہ۔ ہر طرف قیامت کا سا منظر ہے ۔
ان حالات میں ترکی کے حکمرانوں اور وہاں کی عوام کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے تقریباََ60لاکھ شامی مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی ہے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جا تا ہے جو ترکی کے شہریوں کے ساتھ رواء رکھا جا تا ہے ۔ بہترین علاج، تعلیم اور زندگی گذارنے کے لئے بہترین سہولیات یہاں میسر ہیں۔

حیرت کی بات تو یہ ہے کہ صرف چند لاکھ مہاجرین ،کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ باقی ترکی کے مختلف شہروں میں بسائے گئے ہیں ۔ یعنی ترکیوں نے اپنے دل کے دروازے کھولنے کے ساتھ اپنے گھروں کے دروازے بھی ان مظلوم اہل شام کے لئے کھول دئیے ہیں ۔یعنی ترکی اس وقت مدینہ کے ان ایام کی یاد تازہ کر رہا ہے جب اہل مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ مہاجرین نبی محترم ﷺ کی قیادت میں مدینہ کی جانب سفر کرتے ہیں تو اہل مدینہ کے انصار نے مہاجرین کی ایسی آؤ بھگت کی کہ تاریخ میں ایسی کو ئی مثال نہیں ملتی ۔


قارئین کرام !مجھے یہ جان کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ صرف ترکی ہی نہیں پاکستان سے بھی کئی لوگوں نے اہل شام کی امداد کے لئے اپنے تئیں کوشش کی ہے لیکن اس میں سب سے بڑی جدو جہد اور کوشش کرنے والے کا نام ڈاکٹرآصف محمود جاہ ہے ۔ جن کے بارے میں کالم نگار اسد اللہ غالب نے کیا خوب کہا ہے کہ ادھر جا، ادھر جا، آصف جاہ۔ویسے تو ڈاکٹر آصف جاہ سر کاری افسر ہیں جو اپنی ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دیتے ہیں لیکن حقیقتاََ ان کے اندر ایک ایسی بے چین روح پائی جاتی ہے جو کسی بھی شخص کو تکلیف میں دیکھ کر بے قرار ہو جا تی ہے ۔

اور یوں یہ اُس کے دکھ اور تکالیف کو کم کر نے کی سعی میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ شمالی وزیرسان کے متاثرین ہوں یا شمالی علاقہ جات کے زلزلہ زدگان، تھر میں پیاس کی شدت سے مرتے بچے ہوں یا پنجاب میں سیلاب سے دربدر ہونے والے افراد ، تما م مصروفیات چھوڑ کر دیوانوں کی طرح لوگوں کو آسا نیاں فراہم کر نے کے ساتھ انکا علاج و معالجہ کرنے کی ذمہ داری کا فریضہ ڈاکٹر صاحب بخوبی سر انجام دیتے ہیں ۔

میں ذاتی طور پر اس چیز کا گواہ ہوں کہ ایک دفعہ یوم دفاع کے موقع پر متاثرین وزیرستان کے ساتھ بنوں میں کچھ دن گذانے تھے تومیں ان کے ساتھ تھا۔ یہاں پر بھی ڈاکٹر آصف جاہ ، صبح سے رات لوگوں کے مسائل حل کرتے، ان کا علاج معالجہ کرتے، ان کی ضروریات کو پورا کرتے اور پھر رات میں اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجالانے کے ساتھ اس دن کے تما م معاملات صفحہ قرطاس پر منتقل کرتے جس کے نتیجے میں ان کے ایسے ہر سفر پر پوری ایک کتاب قائین تک پہنچ جاتی ہے ۔


قارئین کرام !حالیہ دنوں میں ترکی میں موجود 60لاکھ شامی مہاجرین کی خدمت کے لئے ڈاکٹر آصف محمود جاہ ترکی گئے ، جہاں لاکھوں روپے کی اشیا ء ضروریہ ان کی خدمت میں پیش کی گئیں اور ان کی داد رسی کرتے ہوئے ان کے دکھوں اور غموں کا مداوا بھی کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کا شامی مہاجرین کی مستقل امداد کا پروگرام ہے جس کے لئے انہوں نے ایک فنڈ مختص کر دیا ہے جس میں وہ لوگ جو شام کے مظلوم بھائیوں کی امداد کر نا چاہتے ہیں،آنکھیں بند کر کے کسٹمز ہیلتھ کئیرسوسائٹی میں اپنے عطیات جمع کراسکتے ہیں یا ڈاکٹر آصف جاہ سے ان کے موبائل نمبر:0333-4242691پر رابطہ کر کے معلومات لے سکتے ہیں ۔

مجھے امید ہے کہ جب تک ڈاکٹر صاحب جیسے درد دل رکھنے والے لوگ ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ، ایک روز وہ صبح ضرور طلو ع ہوگی جب ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی کیونکہ یہ بات طے ہے کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ انشا ء اللہ!!!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2017-05-26

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-