بند کریں
جمعہ مئی

Thinking out of the box

صاحبزادہ آصف رضا میانہ :

ہمارے موجودہ انفرادی اور اجتماعی مسائل کی جہاں بہت ساری دیگر وجوہات ہیں وہیں ان میں سے ایک اہم اور بنیادی وجہ اُس پُرامید، مثبت اور غیر معمولی سوچ کا ناپید ہونا ہے جسے مہذب دنیا اور معاشروں میں "Thinking out of the box" کہتے ہیں۔ انسانی کاوشیں کسی بھی درپیش مسائلے کے حل کیلئے مروجہ تمام طریقوں سے بار آور ثابت نہ ہوسکیں تو شعور کی دہلیز کے اس پار سوچ کے نئے جزیروں تک رسائی اور اس سے مسائل کا حل "Thinking out of the box" کہلاتا ہے۔

یہ تخلیقی اور مثبت سوچ انسانوں، معاشروں اور ملکوں میں کس طرح انقلاب پیدا کرسکتی ہے اس کی صرف ایک مثال دیکھنے کیلئے آپ فرنیچر کے انٹرنیشنل برانڈ "IKEA" کی تاریخ کو سامنے رکھیں۔
"IKEA" کے بانی انگوار کمپرڈ سویڈن کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے۔ کمپرڈ کو سکول میں اچھی کارکردگی پر والدین سے چھوٹی سی رقم بطور تحفہ میں ملی تو اس نے اسے کہیں اور خرچ کرنے کی بجائے اپنا چھوٹا سا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا۔

شروع کو کچھ عرصہ اس نے گھریلو عام استعمال کی ماچسیں فروخت کیں۔ 17 سالہ کمپرڈ نے پھر اپنے گاؤں کے نام کے ابتدائی حروف ملاکر "IKEA" کمپنی بنائی اور اگلے 5سال تصویروں کے فریم فروخت کیے۔ 1943ء میں ایک چھوٹے سے گاؤں سے ایک چھوٹا سا کاروبار کرنے والو نوجوان کمپرڈ فرنیچر فروخت کرنے لگا یہاں تک کہ 1956ء کا ایک خوشگوار واقعہ "IKEA" کمپنی کی تاریخ میں رونما ہوا جس نے اس کمپنی کو چھوٹے موٹے عام گھریلو فرنیچر بنانے والی کمپنی سے بزنس اور شہرت کی بلندیون تک پہنچادیا۔

واقعہ یوں ہوا کہ "IKEA" کے ایک ڈیزائنر گلیز لنگڈرن کو تین پاوٴں والی ایک میز کا آرڈر ملا جو اسے گاہک کے گھر پہنچانا تھا مگر جلد ہی گلیز کو احساس ہوا کہ تین پاؤں والی یہ میز اس کی چھوٹی سی کار میں پوری نہیں آسکتی۔ اب اس کے پاس دو آپشن تھے یا تو وہ میز کا آرڈر کینسل کردیتا اور میز وہیں چھوڑ دیتا یا پھر کار کی چھت پر باندھ کے لے جاتا۔

آرڈر کینسل کرتا، ایک نئی چھوٹی کمپنی کیلئے نقصان دہ تھا اور چھت پر باندھ کر لے جانا خطرناک بھی تھا اور دوران سفر میز کے گر جانے اور ٹوٹنے کا بھی اندیشہ تھا۔ گلیز کے ذہن میں تیسرا انوکھا آئیڈیا آیا۔ اس نے میز کی ٹانگون خو آرے سے کانٹا، گاڑی میں ڈالا اور گاہک کے گھر جا کر میز سے جوڑ کر مکمل میز گاہک کے حوالے کردی۔ گلیز نے یہ واقعہ "IKEA" کمپنی کے مالک کمپرڈ کو بتایا۔

یورپ میں گھر چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں اور خواب گاہیں عمومی طور پر گھر کے بالائی حصے میں ہوتی ہیں۔ جہاں مکمل فرنیچر کو تنگ سیڑھیوں سے لے جانا بہت مشکل عمل ہوتا تھا۔ "IKEA" کے مالک کمپرڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر وہ مکمل فرنیچر کی بجائے فرنیچ رکے حصے الگ الگ کر کے بنائے اور ہر گاہک ان کو خود اپنے گھر میں بآسانی لے جا کر وہیں جوڑ کر فرنیچ رمکمل کرے تو یہ آئیڈیا اس کی سیل بھی بڑھائے گا اور اسے کاروباری مسابقت میں بھی آگے لے جائے گا۔

یوں "IKEA" نے فرنیچر کو الگ الگ حصوں میں بنانا اور الگ الگ چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں بیچنا شروع کیا جسے گاہک بآسانی اپنی کاروں میں لے جاتے اور ایک عام چھوٹی سے چابی سے گھر میں اپنی سہولت سے جوڑلیتے۔ "IKEA" نے اس فرنیچر کو Flatpack سیریز کا نام دیا۔ اور وہ فرنیچر جسے لانے لے جانے میں بیسیوں افراد کی ضرورت پڑتی تھی، چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں چھوٹٰ چھوٹی کاروں میں یورپ کے گھروں میں بیچنے لگا۔

فرنیچر کا الگ الگ حصوں میں بیچنے کا یہ آئیڈیا اس قدر پاپولر ہوا کہ اسے فرنیچر کی دنیا میں Flatpack انقلاب کا نام دیا گیا۔ممکن ہے بعض لوگوں کو یہ کہانی اور آئیڈیا معمولی لگے کیونکہ ہم سب یہ سب کچھ اپنے سامنے دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ اگر آپ "IKEA" کی تاریخ کی یہ پوری فلم اپنے ذہن میں ریوائنڈ کر کے دیکھیں کہ اگر آج سے 74سال پہلے گلیز لینگڈرن کو میز لے جانے میں دشواری نہ ہوتی اور وہ میز کے حصے الگ الگ کر کے نہ لے جاتا اور وہ یہ آئیڈیا سوچنے کی بجائے ہمت ہار جاتا تو آض کیا صورتحال ہوتی۔

آج فرنیچر سے لے کر کنسٹرکشن کے بیشتر شعبے، انڈسٹری، ہوابازی اور دیگر بیسیوں صنعتوں میں کہیں نہ کہیں گلیز لینگڈرن کا یہ آئیڈیا صبح شام ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کے مسائل حل کرتا ہے اور ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ صرف ایک آئیڈیا اور صرف ایک "Thinking out of the box" نے جہاں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں سہولت پیدا کردی وہیں "IKEA" کو دولت اور شہرت سے مالا مال کردیا۔

سویڈن کے ایک چھوٹے سے قصبے کے گیراج سے شروع ہونے والی اس کمپنی کے آج پوری دنیا میں 392 سٹورز ہیں اور ایک لاکھ تراسی ہزار سیلز میں ہیں۔ یہ کمپنی ہر سال 35.1اورب یورو کی پراڈکٹس فروخت کرتی ہے اور کمپنی کے بانی انگوار کی دولت کا اندازہ تقریباََ 43.2 لگایا گیا ہے۔
آج مغرب جس "Thinking out of the box" پر عمل پیرا ہے اور جس تدبر اور تفکر پر عمل پیرا ہے وہ دراصل اسلام کی میراث ہے۔

اسلام دراصل وہ آفاقی دین متین ہے جو سب سے زیادہ تدبر، تفکر، سوچ اور کائنات میں تفکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن کریم میں جابجا اسی تفکر اور تدبر کا حکم ہے اور یہ قرآن کا اسلوب ہی ہے جو انسان کو اپنی پیدائش سے لے کر مرنے اور اپنے گردو پیش دیکھنے، مشاہدہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ سورة الانفال کی آیت نمبر 22 میں اللہ جل شانہ نے ان لوگوں کو تمام مخلوق سے بدتر اور گونگے بہرے کہا جو اپنی سوچ کا استعمال نہیں کرتے۔

سورة آل عمران کی آیت 190 میں اللہ جل شانہ نے فرمایا: ”زمین و آسمان کی تخلیق اور دن رات کے بدلنے میں نشانیاں ہیں ان کیلئے جو سمجھتے ہیں۔“ سورة الرحمن میں اللہ جل شانہ نے اپنی ساری نعمتوں اور نوازشات کا ذکر کر کے ان کو گنوا کر پھر انسان کے شعور اور تدبر کو جھنجھوڑا کہ اب بتاؤ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ یہ اسی قرآنی اسلوب اور تدبر تفکر کے احکام الٰہی کا اثر تھا کہ مسلمان سب سے زیادہ باشعور، مدبر اور فہم و فراست کی عملی تصویر تھے۔

سن 5 ہجری میں جب اہل یہود اور مکّہ کے عرب قبائل نے مدینہ پر حملہ آور ہونے کا پلان بنایا تو مسلمان وسائل اور تعداد میں کم تھے۔ پھر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مدینہ کے گرد دفاعی حِصار کیلئے خندق کھودی جائے گی۔ اس سے قبل شہروں، قلعوں اور آبادیوں کی حفاظت کیلئے مضبوط فیصلوں کا رواج تھا مگر یہاں وقت اور وسائل کی کمی تھی تع پھر تاریخ میں پہلی بار باقاعدہ طور پر کسی شہر کی حفاظت اور حملہ آور وں سے بچاؤ کیلئے خندق کھودی گئی اور یوں یہ جنگ تاریخ انسانی میں ”غزوہ خندق“ کے نام سے امر ہوگئی۔

قسطنطنیہ جسے فتح کرنے والے کیلئے آپ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔ اس کی فتح کیلئے سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ کے بادشاہ کو پیغام بھیجا مگر اس نے اسلام کی دعوت کو رد کردیاتو سلطان محمد ثانی نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ آبنائے یاسفورس کے اس پار قسطنطنیہ کا مرکزی قلعہ تھا جبکہ دفاع کیلئے سمندر میں زنجیروں کو ڈال کر سمندری جہازوں کی آمدورفت بند کی گئی تھی۔

سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ پر حملے کیلئے انوکھی ترکیب سوچی۔ سمندری پانی میں زنجیریں اور اس کے پار مضبوط قلعہ تو دوسری طرف غیر ہموار خشکی اور چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔ سلطان محمد ثانی نے لکڑی کے بڑے بڑے تختے بنوا کر ان پر جانوروں کی چربی اور تیل ڈال کر تختوں کو چکنا بنایا اور پھر جانوروں کی مدد سے اپنے 70 جہازوں کو ان چکنے تختوں سے گھسیٹ کر شہر میں داخل کردیا۔

اس ناقابل یقین حکمتِ عملی پر ترک عوام سکتہ میں آگئے اور دنیاء عرب کی تاریخ میں سلطان محمد ثانی کی یہ جنگی حکمت عملی مثال بن گئی اور پھر تاریخ نے سلطان محمد ثانی کو سلطان محمد فاتح کا نام دیا جس کی فہم تدبر اور جنگی حکمت عملی سے قسطنطنیہ فتح ہوا۔
ہمارا المیہ ایک یہ بھی ہے کہ ہماریہاں اسی "Thinking out of the box" تفکر، تدبر کی کمی ہے۔

ہمارے مسائل اقتصادی ہوں، معاشرتی ہوں یا انفرادی ہمارے ہاں فہم تدبر اور تفکر اور اسی "Thinking out of the box" کی کمی شدت سے محسوس کی جاسکتی ہے۔ پوری دنیا سمندر کے کنارے پانی کو پینے کے قابل بنارہی ہے جبکہ ہمارا سب سے بڑا شہر کراچی سمندر کے کنارے اور کراچی کے شہرے سمندر کرانے بھی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ دنیا بجلی کو تاروں کی ترسیل سے آزاد کرنے جارہی ہے اور عنقریب بجلی بھی وائرلیس ہوجائے گی جبکہ ہمارے ہاں آج کے دور میں بھی بجلی نایاب ہے۔

پوری دنیا ”ایتھانول اور میتھا نول“ جیسے مصنوعی ایندھن بنارہی ہے اور ہم ابھی بھی ڈیزل اور پیٹرول سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ پوری دنیا میں کچرے کو ری سائیکل کرنے اور باقی کچرے کو لینڈفل سائٹ میں دبا کر گھریلوں استعمال کی میتھین گیس بنانے کا کام عروج پر ہے جبکہ ہمارے بڑے سے بڑے شہر کراچی سے لے کر عام چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کی کوئی سوچ اور فکر موجود نہیں ہے۔

ادویات کی تیاری سے لے کر انسانی اعضاء کی پیوندکاری ہو، مصنوعی اعضاء، میڈیسن کا شعبہ، جدت اور ترقی کی معراج کو چھورہا ہے مگر ہمارے ہاں دوائی لیتے ہوئے یہ اطمینان نہیں ہوتا کہ اص بھی ہے یا نقل۔ آج بھی دل کے مریض جنہوں نے دو اڑھائی لاکھ روپے ادا کر کے”اسٹنٹ“ لگوئے تھے وہ بھی پریشان ہیں کہ اسٹنٹ اصلی بھی تھے یا نقلی۔ ہالینڈ میں اب ایسی سڑکیں اور اسفالٹ بنایا جارہا ہے جو سڑک کی ازخود مرمت کرے گا اور اس کی توڑ پھوڑ خودبخود ہموار سڑک میں بدل جائے گی مگر ہمارے ہاں تیار پُل سجدہ ریز ہورہے ہیں۔


ان سب میں اخلاقی گراوٹ، دیانت داری کا ناپید ہونا اپنی جگہ دراصل اس "Thinking out of the box" کی کمی بنیادی وجہ ہے جو محدود وسائل اور محدود انسانی وسائل کے باوجود مسائل کا اس خوبصورتی سے حل نکالتی ہے کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ مثبت اور غیر معمولی تعمیری سوچ "Thinking out of the box" ہمارے ہاں نایاب ہے۔ سوچ کے زاویے اس قدر محودد ہیں کہ مسائل کے انبار کے باوجود پالیسی سازوں کے پاس غور فکر اور تدبر اور نئے حل تلاش کرنے اور اپنے محدود وسائل میں ان مسائل کو سمیٹنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی استعداد، لیکن یہ بھی ایک نوشتہءِ دیوار ہے کہ جب تخلیقی سوچ زوال پزیر ہوجائے اور انسانی ذہن بانجھ ہوجائیں تو وسائل کی ریل پیل بھی انہیں مہذب اور باوقار قوموں کی سف میں نہیں لاسکتی۔

انسانی شعور اور ذہن انسان کو اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کرنا ہے نہ کہ مال و دولت اور وسائل کے انبار۔
کاش یہی حقیقت ہم تسلیم کرلیں!!!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2017-05-21

کالم نگار     :     صاحبزادہ آصف رضا میانہ

صاحبزادہ آصف رضا میانہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-