تازہ ترین : 1

عالمی عدالت انصاف کا کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر حکم امتناعی جاری

میر افسر امان:

بھارتی نیوی کے حاضر سروس ملازم کلبھوشن یادیو بھارتی جاسوس کوپاکستان کے صوبے بلوچستان کی سرزمین پر ہماری سیکورٹی ایجنسیز کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا۔جس نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی ایما اپنے اعترافی ویڈیو بیان میں بلوچستان اور کراچی میں جاسوسی اور بھارت کے مقامی ایجنٹوں کو دہشت گردی کی ٹرینینگ اور فنڈنگ کرنے کو مانا تھا۔

کلبھوشن پر ملٹری کورٹ مارشل کیا گیا۔پاک آرمی ایکٹ ۱۹۵۲ء کے تحت سزا سنائی گئی۔پاکستانی قانون کے مطابق اس کو چالیس دن کے اندر اپیل کا حق بھی دیا گیا تھا۔ اس کو پوری قانونی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ملٹری کورٹ نے اس بھارتی جاسوس کو پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں پھانسی کی سزاسنائی تھی۔ بھارت نے اس پر بڑا واویلا کیا تھا۔ بھارت نے اس کیس کو عالمی عدالت انصاف میں دائر کیا تھا۔

پاکستان نے عالمی عدالت میں موٴقف اختیار کیا کہ کیا کہ اس سزا کو سننے کے لیے ویانا کنونشن کے آرٹیکل نمبر ۳۶ دہشت گردی میں ملوث پر لاگو نہیں ہوتا۔ اس لیے عالمی عدالت اس کیس کو سننے کا اختیار نہیں رکھتی۔ عالمی عدالت نے پاکستان کے اس موٴقف کو تسلیم نہیں کیا اور اپنے عبوری حکم میں کلبھوشن کی موت کی سزاکو روک دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت کی کونسلر رسائی کی درخواست بھی منظور کر لی گئی۔

صاحبو!سب سے پہلے تو اس فیصلہ کی قانونی پوزیشن پر بات کرتے ہیں۔ عالمی عدالت کا یہ فیصلہ صرف سفارش کی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ حکم۔ پاکستان اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔اس سے قبل داخلی سیکورٹی کے بارے میں عالمی عدالت انصاف امریکہ کے خلاف ایسے تین مقدمات کا فیصلہ سنا چکی ہے۔ امریکا نے اپنی داخلی سیکورٹی کو اہمیت دیتے ہوئے عدالت کے ان فیصلوں پر عمل نہیں کیا تھا بلکہ اپنے مقامی قانون کے مطابق اس پر عمل کیا تھا۔

عالمی عدالت انصاف نے یہ مقدمات پیراگوئے،جرمنی اورمیکسیکو کے شہریوں کے بارے میں ۱۹۹۸ اور ۲۰۰۳ء کے دوران سنائے تھے۔اس لیے پاکستان بھی اس کو اپنے داخلی سیکورٹی کے حوالے سے دیکھ کر عمل کرے گا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ عبوری فیصلے میں حکم امتناع کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ نے کہا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار سے متعلق پاکستان ڈیکلریشن جمع کروا چکا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ کلبھوشن کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں۔عدالتی فیصلہ کے بجائے قومی سلامتی کو مدنظررکھا جائے گا۔دوسری طرف بھارت میں اس فیصلہ پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی فتح قرار دینے والا بھارتی میڈیاعدالتی فیصلے کے بعد پاکستان مخالف پروپگنڈے پر اُتر آیا ہے۔ جاسوس کلبھوشن کو بے گناہ قرار دے رہا ہے۔

بھارتی قیادت نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کو بچانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔بھارتی میڈیانے کہا ہے کہ بھارت سلامتی کونسل تک بھی رجوع کر سکتا ہے۔اس سے قبل بھارت کی وزیر خارجہ کہہ چکی ہیں کہ کلبھوشن صرف اپنی ماتا پتا کابیٹانہیں بلکہ بھارت ماتا کا بیٹاہے ہم ہر حالت کلبھوشن کو بچانے کی کوشش کریں گے اور ہر حد عبور کریں گے۔دہشت گرد مودی نے عالمی عدالت انصاف میں کیس لے جانے اور اس فیصلہ پر اپنی وزیر خارجہ کو خراج تحسین پیش کیا اور مبارک باد بھی دی۔

یہ موٴقف تو اپنے شہری کے لیے بھارٹی لیڈروں کا ہے۔ جبکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے آج تک بھارتی حاضر نیوی کے جاسوس کا نام تک بھی نہیں لیا۔ ایک دفعہ نام لیا بھی تو مشیر خارجہ کے ذریعے بیان سامنے آیا تھا کہ مکمل معلومات نہیں ہیں۔اس پر محب وطن حلقوں نے شدید عتراض بھی کیاتھا۔عوام اپوزیشن کے شدید اور مسلسل احتجاج کے بوجود وزیر اعظم نے آج تک کل وقتی وزیر خارجہ نہیں لگایا جس کی وجہ سے پاکستان کو عالمی عدالت میں نقصان پہنچا۔

اگرپاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے حاضر سرو س نیوی کے ملازم کی پاکستان میں جاسوسی کو اُجاگر کیا جاتا تو بھی پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہو تی۔ بھارت تو کھلم کھلا پاکستان کو ہر فورم پرنقصان پہنچا رہا ہے اور ہمارے وزیر اعظم بھارت کے خلاف اپنی زبان تک نہیں کھولتے۔ آلو پیاز کی تجارت ہی کو ترجیی او ل کہتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے ازلی دمشن بھارت کے سجن جندل اسٹیل ٹیکون جو مودی کے بھی دوست ہیں کا ذاتی دوست کے حوالے سے مری میں ا ٓنا اور وزیر اعظم سے ملاقات کرنا بھی محب وطن لوگوں نے محسوس کیا۔

بھارت لائن آکنٹرول پر مسلسل فائرنگ کر کے ہمارے شہریوں کو شہید کر رہا ہے۔افغانسان سے ہمارے ملک میں مسلسل دہشت گردی کی کاروائیاں کروا رہا ہے جس کا ثبوت دہشت گرداحسان اللہ احسان کا نجی ٹی وی انٹرویو زندہ جاوید ثبوت ہے۔ایران بھی بھارت کی بولی بول کر ہماری سرحدوں کے اندر فوجی کاروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ان حالات میں ہمارے وزیر اعظم کا رویہ پاکستانیوں کو سمجھ نہیں آ رہا۔

آج تو نواز کے شدیدمخالف اور ٹانگہ پارٹی کے سربراہ نے طنزیہ انداز میں کہاہے کہ کلبھوشن کے نام لینے سے وزیراعظم وضو ٹوٹ جانے کا خطرہ محسوس کرتے ہیں۔فوج کے سربراہ نے بھی کہا کہ صرف فوج دہشت گردی کا مقابلہ اکیلے نہیں کر سکتی ۔پاکستان کے ہر ادارے کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ فوج سندھ تاس معاہدے،ریکوڈاور دوسرے معاملوں کو بھی دیکھ ر ہی ہے۔

اس بیان سے موجودہ حکومت کی بیڈ ہیڈ منسٹریشن کی طرف اشارہ جاتا ہے۔ویسے تو وزیر اعظم نے اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا ہے مگر بہت دیر کر دی مہربان والا معاملہ ہے۔وزیر مملک مریم اورنگ زیب صاحبہ کہتی ہیں کلبھشن کیس میں ابھی کسی کی ہار اور کسی کی جیت کا فیصلہ نہیں ہوا۔ذمہ دارانہ وپورٹنگ ہونی چاہیے۔اُدھر نامور قانون دانوں نے اپنے رائے دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔

پاکستان کا کیس کمزور ہو گیا۔پاکستان کی کی بڑی سبکی ہوئی ہے۔عمران خانے نے کہا کہ مودی کی پالیسی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہے۔ کلبھوشن جاسوسی میں ملوث رہا ہے۔ عالمی عدالت انصاف سے ایسے ہی فیصلے کی امید تھی۔پیپلز پارٹی کے لیڈر رحمان ملک نے کہا ہے کہ اگر ہم کلبھوشن کا کیس اقوام متحدہ میں اُٹھا چکے ہوتے تو بھارت کر عالمی عدالت انصاف میں جانے کا موقعہ نہ ملتا۔

عدالت نے اپنی مینڈیٹ کی دھجیاں اُڑا دیں۔ پیپلز پارٹی نے کلبھوشن معاملہ پر قومی سلامتی کی میٹنگ بلانے کا مطالبہ بھی کر دیا۔صاحبو! دنیا میں اس وقت جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ چل رہا ہے۔ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ مودی بنگلہ دیش میں اپنے بین الاقوامی جرم کا قرار کر چکا ہے کہ پاکستان کوبھارت نے دوٹکڑے کیا۔

بھارت کا وزیر داخلہ بھی کہہ چکا ہے کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب دس ٹکڑے کریں۔پورے پاکستان میں بھارت دہشت گردی کر اور کروا رہا ہے۔ کیا عالمی عدالت انصاف کے سامنے یہ ساری بات واضع نہیں۔دنیا اور بھارت کو اسلامی اور ایٹمی پاکستان ہر گز ہر گز منظور نہیں۔ اس وقت ہمیں قومی یک جہتی کی ضرورت ہے۔ ملک میں اسلامی نظام ِ حکومت رائج کرنے کی ضرورت ہے اس سے ساری قوم اکھٹی ہو جائے گی۔ مگر نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کو اس کا احساس ہے۔اللہ پاکستان کی حفاظت کرے آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : ہفتہ مئی
Mir Afsar Aman

کالم نگار : میر افسر امان

میر افسر امان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے