بند کریں
اتوار فروری

لہو لہو لاہور : کون ذمہ دار ہے؟

حافظ ذوہیب طیب :

کیا لکھوں ، کیسے لکھوں ، معصوم اور بے گناہ لوگوں کی موت کا نوحہ کیسے لکھوں، وہ جن کا کوئی بھی قصور نہ تھا ۔ وہ جو محبت اور امن کے سوداگر تھے ، وہ جو دشمنوں کے خلاف سینہ تان کے فرنٹ لائن پر کھڑے ہوتے تھے، وہ جو بیسیوں خواہشات اپنے سینے میں سجائے مستقبل کے روشن ہونے کی امید آنکھوں میں لئے تھے، ایسے اجلے لوگ ایک دفعہ پھر دہشت گردوں کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔

ایسا دلخراش واقعہ، کربناک مناظر اور کٹے جلے جسم روح میں اضطراب کا زہر گھول رہے تھے ۔ شہید ہونے والوں کے لواحقین کی چیخ و پکار، یتیم بچے جو اپنی آنکھوں میں انتظار کی روشنی سجائے اب بھی اپنے باپ کا انتظار کر رہے ہیں وہ جنہوں نے آج ہی کھلونوں کی فر مائش کی اور ا نکے باپ نے بھی ان کی ننھی خواہشات کو پورا کر نے کا وعدہ کیا، ظالموں نے انہیں اتنی بھی مہلت نہ دی کہ وہ اپنے بچوں کے معصومانہ وعدے کو ہی پورا کر دیتے ۔

ایسے تمام واقعات کو سن اور دیکھ کر دل پھٹ رہا ہے ۔
قارئین !پیشگی الرٹ کے باوجود شہر لاہور میں ہولناک دہشت گردی نے ایک دفعہ پھر زندہ دلان لاہور کو خون کے آنسو رلا دیا ہے۔ جس میں لاہورکے ڈی۔آئی۔جی ٹریفک اور پیارے دوست کیپٹین مبین اور ایس۔ایس۔پی آپریشنز لاہور زاہد محمود گوندل سمیت 15افراد شہید ہوئے اور 90کے قریب زخمی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مال روڈ پر کیمسٹ اینڈڈرگ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے افراد ، ڈرگ ایکٹ کے خلاف دھرنا دئیے ہوئے تھے جوصوبائی وزیر محکمہ پرائمری ہیلتھ کئیر کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے شدت اختیار کر تا چلا گیا ۔

اس صورتحال کو کنٹرول کر نے کے لئے اور پہلے سے موجود دہشت گردی کی اطلاع کی روشنی میں کیپٹن مبین ،یہاں موجودد لوگوں کی منتیں کرتے رہے کہ وہ یہ جگہ چھوڑ کر ٹریفک کے لئے راستہ بحال کریں ۔یہ حسا س جگہ ہے اور یہاں دہشت گردی ہو سکتی ہے ۔ لیکن حکومتی وزیر کی بد معاشی اور ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کسی نے ان کی ایک نہ سُنی اور تھوڑی دیر بعد ہی ایک زور دار خود کش دھماکے نے سب کچھ اجاڑ کے رکھ دیا۔


صرف لاہور ہی نہیں بلکہ چند گھنٹوں میں پاکستان کے مختلف شہروں میں تین دھماکے ، پشاور اور فاٹا میں ججوں کی گاڑی اور سیکورٹی اہلکاروں پر خود کش حملے ، اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ دشمن ایک دفعہ پھر پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن ہو تا اور اس کی پھلتی پھولتی معیشت کو دیکھتے ہوئے اپنے حواس کھو بیٹھا ہے اور ایسے بھونڈے طریقوں پر اتر آیا ہے جس کی وجہ سے کئی سالوں سے قابو ہوادہشت گردی کا جن بے قابو ہو تا جا رہا ہے ۔

دہشت گردی کے خلاف کمزور حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ایک دفعہ پھر مواقع میسر آئے کہ وہ اپنے پلید عزائم کی تکمیل میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔
قارئین کرام ! ہمیں یہ تسلیم کر نا ہو گا کہ سانحہ پشاور کے بعد جنرل راحیل شریف کی طرف سے شروع ہوئے ،ضرب عضب کی روشنی میں دہشت گردوں پر ایسے کاری وار کئے گئے اور ایسا غضب ڈھایا گیا کہ انہیں کہیں چھپنے کی جگہ میسر نہ آئی۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی کا تسلسل تھا کہ اس دوران کئی سالوں سے جاری دہشت گردی کی ہولناک وارداتیں بالکل ختم ہو کر رہ گئیں ۔جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایسی کامیا بیاں حاصل ہو ئیں جس کی وجہ سے پاکستان، عظیم سے عظیم تر سفر پر گامزن ہوا ۔ لیکن افسوس کہ ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنرل راحیل شریف والی پالیسی کمزور ہوتی جا رہی ہے ۔

حکمرانوں سے کیا شکوہ؟یہ تو پہلے بھی آئیں، بائیں ، شا ئیں کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر وقت کو دھکا لگاتے رہے ہیں اور اب پانامہ کیس کو ایشو بنا کر اپنی ذمہ داریوں دوسروں کے اوپر ڈال کر معزز قرار پاتے ہیں ۔
لاہور میں ہونے والے خود کش دھماکے میں ایک دفعہ پھر افغا نستان کے ملوث ہونے کی اطلاعات اور دوسری جانب، حکومت کا غیر قانونی افغانیوں کو مزید مہلت دینے کا فیصلہ ، نیشنل ایکشن پلان کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر نا ہے اور پھر حادثے سے دو روز قبل ہی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی طرف سے چیف سیکریٹری پنجاب کو مراسلہ میں دہشتگرد حملوں کا الرٹ جاری کرتے ہوئے سیکورٹی انتظامات مزید سخت کر نے کی سفارش کی تھی ۔

اس سے قبل بھی پچھلے ایک مہینے میں نیکٹا کی جانب سے کوئی 4سے زیادہ الرٹ جاری ہوئے لیکن حکمران اپنے شاہانہ پروٹوکول کے مزے لوٹتے اور قانون نافذ کر نے والے ادارے اس فرض کی انجام دہی میں مصروف رہے ۔
قارئین محترم ! سانحہ لاہوراور پورے ملک میں ،ایک دفعہ پھرسے شروع کی جانے والی دہشت گردی ، دہشت گردوں کی طرف سے ایک پیغام ہے ۔ اگر ہم اب بھی اسے ”ایزی“ لیتے ہوئے یونہی ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹہراتے رہے تو کچھ بعید نہیں کہ پچھلے تین سالوں کی شدید محنت اکارت چلی جائے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی اور سیاسی قیادت اس ناسور کے خلاف متحد ہو کر ایک دفعہ پھر سے نیشنل ایکشن پلان بنائے اور ضرب عضب جیسا آپریشن ڈیزائن کر تے ہوئے دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2017-02-18

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-