تازہ ترین : 1

لاہور کے ترقیاتی کام

میاں اشفاق انجم:

لاہورمیں ہونے والے ترقیاتی کاموں اوران کی سپیڈکودیکھ کرسندھ، خیبر پختونخوا،بلو چستان کی بالعموم اور پنجاب کی بالخصوص سیاسی جماعتیں گِلا کرتی نظر آتی ہیں۔پورے پنجاب کے کام خادم اعلیٰ صرف لا ہور میں کروارہے ہیں بلا شبہ اس میں شک نہیں لا ہو ر میں درجنوں منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں اوردرجنوں زیرتعمیرہیں کھلی سڑکیں برج اور انڈر پاسز کے حوالے سے کہا جا تا ہے۔

خا دم اعلیٰ نے لا ہور کی بڑھتی ہو ئی بے ہنگم ٹریفک کو سامنے رکھتے ہو ئے آئندہ کئی سا لوں کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے میٹرو بس کے بعد اورنج ٹرین کے منصوبے کی تکمیل کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لاہور کی ٹریفک کا مسئلہ حل ہو جائے گا میرا اور میرے مزید دوستوں کا خیا ل ہے اورنج ٹرین کی تکمیل تک آدھا لاہور ذہنی مریض ہو جا ئے گا لاہور کی حقیقی آبادی کا تعین تو مردم شما ری کے بعد ہو گا البتہ ایک اخبار کی خبر کے مطابق لاہور میں اس وقت گاڑیوں کی تعداد 17لاکھ ہو چکی ہے اور موٹرسائیکلوں کی تعداد70لاکھ موٹر سا ئیکل رکشا اور دیگر رکشوں کی تعداد کا اندازہ خودلگا سکتے ہیں لاہور ٹریفک پولیس لا ہور کے سِگنل سیف سٹی پرو گرام پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے میری ذاتی رائے میں نئے ٹریفک چیف ٹریفک جا م رہنے کی بڑھتی ہوئی شکایت کے بعد خاصے ایکٹیو ہوگئے ہیں چوکوں میں وارڈن کی مو جو دگی ٹر یفک کے بہا ؤ میں پہلے سے بہتر روانز اس بات کی نشا ند ہی کررہی ہے ،لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے لاہور کی ٹریفک بہتر ہو گئی ہے تو غلط ہو گا۔


لا ہو ر کے ان مخصوص مقا ما ت کا ذکر کر لیا ہے جہاں ایک ایک کلو میٹر ٹریفک کی لائنیں معمول بن گئی ہیں 5منٹ کا فا صلہ 55منٹ میں طے ہو رہا ہے اس سے پہلے لاہور فیصل آباد مو ٹروے کا ذکر کرنا ہے جس کو جی ٹی روڈ بنا دیاگیا ہے لاہور اور فیصل آباد موٹروے کے ذریعے سفر عموماً دوگھنٹوں میں مکمل ہو تا تھا اپنی گاڑیوں والے پونے دوگھنٹوں اور بعض ڈیڑھ گھنٹے میں فیصل آبا د سے لاہو ر پہنچ جاتے ہیں۔

روزانہ لاہورآنے والے بھی اسی حساب سے فیصل آباد سے چلتے تھے اور فیصل آباد جانے والے بھی لاہور سے اسی حساب سے ڈائیوو سٹاپ پر پہنچتے تھے۔حکومت نے پنڈی بھٹیاں موٹروے سے فیصل آباد موٹروے کی طرف مڑتے ہی ایک نیا ٹول پلازہ بنا دیا ہے جس کی سمجھ نہیں آرہی لاہور سے چلنے والا ٹول پلا زہ سے کارڈ لیتا تھا اور فیصل آباد پہنچ کر رقم ادا کرتا تھا راستے میں اپنی مرضی سے چائے کھانے کے لیے روکے یا نہ روکے اس کی اپنی مرضی ہو تی تھی اب فیصل آباد موٹروے پر چڑھتے ہی رُکنا پڑتا ہے جہاں کم از کم ہر بس اور کار کو آدھا گھنٹہ لگ رہاہے وہاں ادائیگی کرکے اسے دوبارہ فیصل آباد میں پھر ادائیگی کرنا پڑتی ہے سفر کی تیزی کم وقت میں زیادہ سفر کا خواب چکنا چور کردیا گیا ہے قابل توجہ ایک اور پہلوای ٹیگ،ایم ٹیگ والوں کا حساب کتاب بھی فیصل آباد موٹروے پر چڑھتے ہی ختم ہو جا تا ہے اس سے آگے فیصل آباد پہنچ کر کیش ادا ئیگی کی لا ئن میں لگنا پڑتا ہے اندھیر نگری وقت کی بربادی تک محدود نہیں رہی بلکہ ہے،یہ لاہور سے راولپنڈی اور لاہور سے کالا شاہ کا کو لاہور سے فیصل آباد ٹول ٹیکس ڈبل کر دیا گیا ہے۔

لاہور سے کالا شا ہ کا کے 30روپے ہو تے تھے اب 60روپے کردیئے گئے ہیں لاہور سے فیصل آباد 150روپے ہوتے تھے اب 300روپے کردئیے گئے ہیں یہی حال اسلام آباد اور پشاور تک اور دیگر ٹول پلازوں پر نا فذ کر دیا گیا ہے۔
تحقیقات کرنے پر پتہ چلاکہ ایک اﷲ والے نے سپریم کورٹ سے حکومت کے خلاف حکم امتناعی حاصل کر رکھا تھا جو دو ماہ پہلے ختم ہوا ہے ساتھ ہی حکومت نے گزشتہ سالوں کی کسر نکال دی ہے اور ٹول ٹیکس ڈبل کر دیئے گئے ہیں اب بسوں والے اور کاروں والوں کو ڈبل ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے ٹول پلازوں پر لمبی لائنیں بھی معمول بن گئی ہیں ای ٹیگ اور ایم ٹیگ والوں کی بھی لاہور میں داخل ہونے کے لئے ٹول پلازہ پہ آدھا گھنٹہ رکنا ضروری ہو گیا ہے آدھا گھنٹہ فیصل آباد موٹر وے پر لازمی کر دیا گیا ہے دو گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں تبدیل ہو گیا ہے اصل خواری موٹر وے سے اترنے کے ساتھ ہی نیازی چوک اور بند روڈ میں داخل ہوتے ہی شروع ہوتی ہے پورے لاہور کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرنے والوں کو آج تک لاہور کے نیازی چوک کی منصوبہ بندی کا خیال نہیں آیا۔

علامہ اقبال ٹاؤن سے بابو صابو تک ون وے روڈ کی تعمیر کا خواب بھی مصلحتوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے مون مارکیٹ سے ملتان روڈ تک دورویہ سڑک مکمل ہو گئی ہے آگے گندے نالے پر سڑک شروع نہیں ہو سکی لیاقت چوک سبزہ زار سے ڈبل سڑک موجود ہے موٹر وے کی طرف جاتے ہوئے سیدھا بابو صابو انٹرچینج تک لے جانے کی بجائے سیاسی شخصیت کی زمینوں اور دکانوں کو بچانے کے لئے عجیب و غریب موڑ بنا کر ٹریفک کو ان دیکھی رکاوٹوں کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔


موٹر وے تک جانے والوں کو تو شاید اتنا خوار نہیں ہونا پڑتا جتنا موٹر وے سے اتر کر نیازی چوک کراس کر کے ڈائیوو اڈے تک جانے یا یو ٹرن لے کر سبزہ زار کی طرف آنے والوں کو ہو رہا ہے پتہ نہیں موٹر وے پر اربوں روپے لگانے والوں اور بند روڈ پر کروڑوں روپے لگانے والوں کو نیازی چوک میں انڈر پاس یا برج بنانے کا خیال کیوں نہیں آیا حکومت کو فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے کے لئے موٹر وے لاہور فیصل آباد کے درمیان دو ٹول پلازوں کو ختم کرنا ہوگا اور نیازی چوک میں روزانہ خوار ہونے والے ہزاروں افراد کو خواری سے نکالنے کے لئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی دو دو گھنٹے کا سفر چار چار اور پانچ پانچ گھنٹے میں مکمل ہونے کی رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ کوئی اور محب وطن سپریم کورٹ میں حکم امتناعی کے لئے پہنچ جائے جی ٹی روڈ ، موٹر وے اور رنگ روڈ پر ڈبل کئے گئے ٹول ٹیکس کو واپس لینا ہوگا موقع غنیمت جانتے ہوئے خادم اعلیٰ کی توجہ ان چوکوں کی طرف دلانا ہے جہاں ایک ایک کلومیٹر کی لائنیں معمول بن گئی ہیں وہاں نہ کوئی تجاوزات ہیں اور نہ رکاوٹیں پھر بھی لائنیں لگنا معمول ہے کریم بلاک چوک درد سر بنا ہوا ہے اﷲ اﷲ کرکے اگر کوئی نہر کی طرف جانے کے لئے نکلنے میں کامیاب ہو جائے تو نہر پر چڑھنے کے لئے اسے نہر کے پل کے آگے نہر کی طرف مڑنے کے لئے آدھا گھنٹہ رکنا معمول ہے۔


اگر اس جگہ سے بھی کوئی عزت بچا کر نکل آئے تو جناح ہسپتال چوک میں آدھا گھنٹہ رکنا فرض ہو گیا ہے ٹریفک ذمہ داران کو اس جانب فوری توجہ دینا ہو گی یہی حال بند روڈ پر ہو رہا ہے گلشن راوی کی طرف مڑنے والوں کو آدھا آدھا گھنٹہ خوار ہونا پڑتا ہے وہاں یو ٹرن مصیبت بنا ہوا ہے۔شملہ پہاڑی میں ٹریفک گھنٹوں جام رہتی ہے۔
اس کی طرف بھی توجہ دینا ہو گی وحدت روڈ پر جگہ جگہ کٹ بھی مصیبت بن رہے ہیں فیروز پور روڈ، مسلم ٹاؤن موڑ پر موجود ناجائز تجاوزات اور لٹن روڈ سے ضلع کچہری تک سڑکوں پر پارکنگ سٹینڈ نے بھی عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے خادم اعلیٰ سے درخواست ہے کہ عوام کو خواری سے بچانے کے لئے ٹریفک پلان نئے سرے سے ترتیب دیں رنگ روڈ، جی ٹی روڈ موٹر وے پر لگائے گئے ٹیکسز میں دوگنا اضافہ بھی واپس لیں۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : اتوار فروری
Mian Ashfaq Anjum

کالم نگار : میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے