بند کریں
جمعرات مارچ

خدمت خلق کاجذبہ

عمر خان جوزوی :

ڈی سی ایبٹ آباد کیپٹن (ر) خالد محمود سے میری کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی نہ میں نے ان کو کبھی قریب سے دیکھا۔ سابق اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد اسامہ وڑائچ کی تبدیلی کے بعد تو ڈی سی اور اے سی آفس کے قریب بھی جانے کی نوبت نہیں آئی۔ ویسے بھی بڑے لوگوں سے میں دور رہنے کا عادی ہوں کیونکہ میں کبھی نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی غریب اور مظلوم کی کوئی حق تلفی ہو، نہ صرف ڈی سی،اے سی بلکہ تمام سرکاری افسران ، منتخب ممبران، سینیٹرز، وزراء، مشیر اور بیوروکریٹس کا ایک ایک لمحہ قیمتی اور ان کا ایک ایک منٹ قوم کی امانت ہوتاہے۔

وہ الگ بات ہے کہ ہمارے اکثرسرکاری افسران اورعوامی نمائندوں کوعوامی خدمت سے کوئی سروکار نہیں۔پھربھی میرے نزدیک ان بڑوں کو ایک لمحے کیلئے بھی ڈسٹرب کرنا ملک و قوم سے بہت بڑی زیادتی ہے۔ اس لئے میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ غریب اور مظلوم لوگوں کیلئے دن رات ایک کرنے والوں کو نیک خواہشات کے ساتھ دل میں بسا کر ہمیشہ دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔

سابق ڈی پی او مانسہرہ عبدالغفور آفریدی اور اے سی ایبٹ آباد اسامہ وڑائچ کو میں آج تک نہیں بھولا۔ میرا ان دونوں کے ساتھ تو کوئی خونی رشتہ نہیں لیکن عوام کی خدمت، غریبوں اور مظلوموں کی حقیقی معنوں میں داد رسی کرنے کی وجہ سے میری دعائیں اور نیک تمنائیں آج بھی ان کے ساتھ ہیں۔ اس ملک کا ہر سرکاری افسر ، بیوروکریٹ، سیاستدان، ٹیچر، انجینئر، ڈاکٹر ، پولیس اہلکار، وکیل، ایم این اے اور ایم پی اے جو غریبوں اور مظلوموں کیلئے ظالموں، چوروں اور ڈاکوؤں کے مقابلے میں ڈھال بنے وہ میرا قائد اور لیڈر ہے۔

اسی وجہ سے ڈی سی ایبٹ آباد کے غریبوں اور مظلوموں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے ”نہ جان نہ پہچان میں تیرا مہمان“ کے مصداق میں کیپٹن( ر) خالد محمود کا گرویدا بن چکا ہوں۔ ڈی سی کی وہ کرسی جس تک پہنچنے کے بعد اکثر افسر غفلت کی چادر اوڑھ کر راحت و سکون کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں اور لمبی تان کر برسوں کی تھکاوٹ دور کرتے ہیں۔

لیکن کیپٹن( ر) خالد محمود نے روایتی افسروں سے ہٹ کر ذاتی راحت و سکون اور عیاشی کے موسم کو غریبوں اور مظلوموں کی اشک شوئی پر قربان کر دیا ہے۔ ڈی سی آفس کے وہ دروازے جو غریبوں اور مظلوموں کیلئے بند ہوتے تھے نہ صرف وہ کھول دےئے بلکہ کیپٹن (ر) خالد محمود نے تو اپنے دل کے دروازے بھی غریبوں اور مظلوموں کیلئے وا کردئیے ہیں۔ ایک ایماندار اور کامیاب افسر کی یہ نشانی ہوتی ہے کہ وہ عوام کیلئے ہر وقت حاضر رہتے ہیں۔

چند دن پہلے ایک دوست سے ملاقات ہوئی اس نے اپنا ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ اسے دو دن پہلے ایبٹ آباد کے ایک بڑے طبی ادارے میں ایک رشتہ دار کے ساتھ علاج معالجے کے سلسلے میں جانا پڑا۔ہسپتال میں لساں نواب کی رہائشی خاتون تڑپ رہی تھی لیکن ڈاکٹر اسے بیڈ دینے سے انکاری تھے، اس کے رشتہ دار پریشانی کے عالم میں کبھی ایک ڈاکٹر کے پاس چکر لگاتے تو کبھی دوسرے کے پاس، اس عالم میں کئی گھنٹے بیت گئے مگر ڈاکٹر اس خاتون کوطبی امداددینے کی بجائے ہسپتال سے نکالنے پر بضد تھے۔

بالآخر تھک ہار کر جب اس خاتون کے رشتہ دار مایوسی کے عالم میں ہسپتال کی راہداری میں بیٹھے تو میرے دوست سے یہ منظر دیکھا نہ گیا وہ ان کے پاس پہنچ گیا اور کہا کہ ہسپتال کے ڈائریکٹر سے رابطہ کرو، ڈائریکٹر صاحب کا نمبر بھی دیا لیکن انہوں نے فون ہی نہیں سنا۔ اس سے ان کی مایوسی مزید بڑھی۔ خاتون کے رشتہ داروں نے میرے دوست سے کہا کہ کوئی ایسا بھی ہے جو مشکل کی اس گھڑی میں ہماری مدد کرے۔

۔؟ میرا دوست سوچ میں پڑ گیا کہ کون ہے جو ان کیلئے مسیحا بن سکتا ہے۔۔؟ پھر اس نے اپنا موبائل نکالا اور کہا کہ میں ایک شخص کا نمبر دیتا ہوں اس پورے ضلع میں اگر آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہے تو یہی شخص ہے۔ خاتون کے رشتہ داروں نے اس شخص کا نمبر ملایا اور کہا جناب ہم اس مصیبت میں ہیں ہماری مریضہ کو ہسپتال سے نکالا جارہا ہے، خدارا ہماری مدد کریں ، جذبہ خدمت سے سرشار اس شخص کا یہی جواب آیا کہ آپ انتظار کریں۔

اسی دوران وارڈ میں فون کی گھنٹی بجی اور پھر ڈاکٹروں کی دوڑیں لگ گئیں۔ وہ ڈاکٹر جو اس خاتون کو ہسپتال سے بھگانا چاہتے تھے وہ اسی مریضہ کو رکھنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ اسی دوران ڈی ایم ایس بھی موقع پر پہنچ گئے، خاتون کے رشتہ دار یہ سب کچھ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے اور بے اختیار ان کی جھولی دعاؤں کیلئے اٹھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ خاتون کے رشتہ داروں نے صرف اتنا کہا کہ یہ شخص کسی مسیحا سے کم نہیں، اللہ پاک اسے ہماری زندگی بھی عطا فرمائے۔

۔ یہ شخص کوئی اور نہیں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کیپٹن (ر) خالد محمود ہیں۔ اس طرح کے واقعہ کی مثال شائد آج پورے خیبرپختونخوا میں نہ ملے۔ لوگ تو ڈی سی کو ملنے کو ترستے ہیں، اس کے دروازے کے باہر گھنٹوں انتظار کرتے ہیں مگر آفرین کیپٹن خالد پر جس نے اس رسم کو اس رواج کو توڑ ڈالا جس نے غریب کو محکوم اور افسر کو حاکم بنا رکھا تھا۔ عبدالغفور آفریدی اور اسامہ وڑائچ کے بعد کیپٹن( ر) خالد محمود غریبوں، بے سہاروں اور بے کسوں کیلئے امید کی ایک کرن بن چکے ہیں۔

اللہ کرے کہ امیدوں کا یہ چراغ ایبٹ آباد میں اسی طرح جلتا رہے کیونکہ یہ چراغ جلتا رہے گا توتب ہی مایوسی کے اندھیروں میں روشنی چمکتی رہے گی۔ کیپٹن (ر) خالد محمود، عبدالغفور آفریدی اور اسامہ وڑائچ جیسے ایماندار اور غریبوں کے درد دل رکھنے والے افسر ہی اس ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ہم نے اس ملک میں ایسے ایسے نکمے افسر، احسان فراموش سیاستدان اور غفلت کی چادر اوڑھنے والے بیوروکریٹس دیکھے ہیں جو عوام کی خدمت کیا۔

۔؟غریبوں اور مظلوموں کے قریب تک بھی کبھی نہیں گئے۔ اس ملک میں ایسے کتنے سیاستدان اور سرکاری افسر ہیں جو خدمت خلق کے نام پر ایم این اے، ایم پی اے اور گریڈ 19، 20 کے افسر بنے لیکن آج نہ صرف ان کے موبائل غریبوں کیلئے آف بلکہ ان کے دفاتر اور دلوں کے دروازے بھی غریبوں اور مظلوموں کیلئے مکمل طور پر بند ہیں۔ غریب اور مظلوموں کیلئے گھروں اور دفاتر کے ساتھ اپنے دلوں کے دروازے بند کرنے والے کبھی سکون سے نہیں رہتے۔

غریبوں کی خدمت میں جو مزہ ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں مگر اس کام کیلئے اللہ ہرکسی کونہیں بلکہ کسی کسی کو چنتا ہے۔ اللہ کرے کہ کیپٹن (ر) خالد محمود غریبوں اور مظلوموں کی خدمت کے مشن پرہمیشہ قائم رہے۔ایبٹ آباد کے دیرینہ مسائل حل کرنے کیلئے کیپٹن (ر) خالد نے جو کردار ادا کیا تاریخ اسے کبھی بھلا نہیں سکے گی۔ بدترین ٹریفک جام کا مسئلہ جس طرح ڈی سی ایبٹ آباد حل کررہے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔

ایبٹ آباد کی ترقی کیلئے ان کے دیگر اقدامات بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کے اقدامات پر لکھنا شروع کر دیا جائے تو شائد اس کالم میں ان کا مکمل تذکرہ ممکن نہ ہو گا ۔ ویسے بھی ایبٹ آباد کے باسی اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ 1849ء میں تعینات ہونیوالے میجر جیمز ایبٹ کو آج بھی ہر کوئی عقیدت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ 165 برس بعد اس دھرتی پر جیمز ایبٹ جیسا ڈی سی آیا ہے جس کو ایبٹ آباد کے لوگ ہمیشہ محسن ایبٹ آباد کے نام سے یاد رکھیں گے۔اللہ سے ایک ہی دعاہے کہ ملک بھرکے غریبوں پرچاہے وہ جہاں بھی رہیں ان کے سروں پرکیپٹن (ر)خالدمحمودجیسے ایمانداراوردرددل رکھنے والے افسرکاسایہ ہمیشہ قائم ودائم رہے تاکہ غریبوں پرظلم کی تپش نہ پڑے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-12-11

کالم نگار     :     عمر خان جوزوی

عمر خان جوزوی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-