فلسفہ شہادت امام حسین

محمد ثقلین رضا:

دس محرم شہیدان کربلا  کے حوالے سے یاد رکھاجانیوالاایک ایسا دن جو حقیقی معنوں میں اسلام کو سربلندی دینے والا دن ثبت ہوا وہ دن جسے اسلام کی نئی زندگی بھی کہاگیا ۔ اس عظیم اور متبرک دن وجہ وجود کائنات شافع یوم جزا‘ امام الانبیا ﷺ کے خاندان نے وہ عظیم قربانی د ی کہ جس کی مثال نہ توکوئی دے سکاہے اورنہ ہی د ے سکے گا۔ آپ ﷺ کے عظیم ترین نواسے‘ سیدا لشہد ا حضرت امام حسین نے صبرورضاکاوہ عملی نمونہ پیش کیا کہ دنیائے کائنات میں وہ نمونہ پھردیکھنے کو نہ ملے گا۔

امام حسین نے اپنی اوراپنے اہل خانہ‘ دوست احباب کی جان قربان کرنا تو گوارہ کرلیا لیکن اپنے نانا کے دین پرآنچ نہ آنے دی۔حضورمکرم ﷺ نے ارشا د فرمایاتھا کہ ”الحسین منی واَنا من الحسین“ (ترجمہ :حسین مجھ سے ہے اورمیں حسین  میں ہوں “مفتیان وعلمائے کرام اس حوالے سے بے شمار حوالات جات کے ساتھ ارشاد فرماتے رہتے ہیں لیکن جو ہم نے اپنے تئیں نتیجہ اخذکیا کہ امام حسین  ‘ امام الانبیاﷺ کے نواسے توتھے لیکن آپ نے امام عالی مقام کو کبھی نواسہ نہیں کہا ہمیشہ بیٹا ہی سمجھااور بیٹا ہی کہا ‘ نہ صرف امام حسین بلکہ امام حسن مجتبیٰ بھی گویانورالعین کی حیثیت رکھتے تھے۔

بہرطور ہم حدیث مبارکہ کاحوالہ دے رہے تھے کہ امام حسین خونی رشتے کے اعتبارسے امام الانبیاﷺ میں سے توہیں لیکن اگلی بات کہ فرمان رسولﷺ کے مطابق ”میں حسین میں سے ہوں“ گویا لطیف بات بن گئی کہ نانا نواسے میں سے کیسے ہوسکتاہے۔ یقینا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہوسکتی ہے لیکن اس میں بھی فلسفہ چھپاہوا ہے اور یہ فلسفہ اس وقت تک سمجھ نہیں آسکتا جب تک کہ میدان کربلا میں رقم کی گئی اس عظیم داستان کو پوری طرح پڑھا اور سمجھانہ جائے۔

بعض مذہبی دانشوروں کے مطابق جو قربانی حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ام محترم حضر ت اسماعیل علیہ السلام سے عارضی طورپر ٹل گئی تھی وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں بھی باقی رہی اورپھر آپ ہی کی اولاد میں سے آپ کے نواسے حضرت امام حسین  پر آکر پوری ہوئی ۔یعنی جو قربانی حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جد امجد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی باقی تھی وہ آپ ﷺ کے نواسے حضرت امام حسین  نے پوری کردی ۔

محققین ‘دانشوروں کاخیال ہے کہ اسی تناظر میں ہی حدیث مبارکہ کادوسرا حصہ دیکھاجانا چاہئے۔
صاحبو! ہم شہادت امام حسین کے واقعات کے حوالے سے لکھنانہیں چاہتے کہ اس دلدوز سانحہ کی بابت اتنی کثرت سے بیا ن کیاجاتا ہے کہ بچہ بچہ اس واقعہ کی اونچ نیچ سے بخوبی آگاہ ہوچکاہے۔ ہم جو آج کہنے جارہے ہیں انہیں سمجھنے کیلئے ذہن کے دروازے کھولناپڑیں گے۔

اول بات یہ کہ عام انسان اور انبیا ‘ رسل کے خوابو ں میں اتنا ہی فرق ہوتاہے جتنا کہ عام آدمی اورانبیا اوررسل کی زندگیوں میں ہوتاہے۔ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ انبیا ‘ رسل اللہ کے چنیدہ بندے ہوتے ہیں انہیں عام انسانوں میں تصورنہیں کیاجاناچاہئے وہ توخالق کائنات نے ہماری کم علمی ‘ نالائقی کو پیش نظررکھ کرانہیں عام انسان کے روپ میں زمین پربھیج دیا تاکہ ہم ان کی عادات واطوار کو ملاحظہ کرکے اپنی اصلاح کرسکیں۔

ہم انہیں دیکھ کرکھانے پینے ‘ پہننے ‘چلنے پھرنے اورکاروبارزندگی چلانے کاڈھنگ سیکھ سکیں ۔ ورنہ انہیں نہ توکسی چیزکی پرواہ ہوتی ہے اورنہ وہ پرواہ کرتے ہیں کہ انبیا ‘رسل خالق کائنات کے حکم کے ہی پابندہوتے ہیں۔ دوئم بات کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبران‘ رسل نے حکم خداوندی کی پاسدار ی کی اورآنیوالی ہر آزمائش پرپورے اترے ۔

ہم نے تاریخ اسلام کا جس حد تک مطالعہ کیا یا پچھلے انبیاء کرام کی زندگی کی بابت پڑھا لیکن ہم نے کہیں ایک جگہ بھی یہ نہیں دیکھاکہ کسی نبی نے اللہ رب اللعالمین سے التجا کی کہ مولا ہم سے یہ امتحان نہ لے۔ حضرت ابراہیم  کی وہ عظیم قربانی کون بھو ل سکتا ہے کہ انہوں نے حکم خداوندی کی تعمیل میں بیٹے کو قربان کرنے کا قصدکرلیا دوسری جانب انہی کی اولاد میں سے آخر ی نبی مکرم ‘جنہیں امام الانبیا ﷺ بھی کہا جاتا ہے کو بھی اپنی زندگی میں میدان کربلا میں پیش آمدہ واقعات لمحہ لمحہ کے اعتبار سے حضرت جبرائیل  نے دکھادئیے تھے۔

آپ ﷺ چاہتے تو اللہ رب اللعالمین سے عرض کرسکتے تھے کہ مولا! میرے نواسے کواس آزمائش سے بچالے‘ لیکن انہوں نے یوں عرض کی ” مولا میرے نواسے کو اس آزمائش میں پورا اتار“ گویا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضورمکرمﷺ بھی جانتے تھے کہ ان کے دین پروہ وقت بھی آئے گاکہ جب اس پرملوکیت کے اثرات نمایاں ہونے لگیں گے ‘ جب جابر فاسق ‘شرابی مسلط ہونے لگیں گے توان کاخاندان پھر سے آگے بڑھ کر اپنی جان قربان کرکے اس دین متین کو ایک بارپھر حیات جاودانی عطاکریگا۔

بہرحال یہ ایک عجب داستان ہے ۔ اس شہادت کا ایک اورفلسفہ یہ بھی ہے کہ جابر فاسق حکمران کی اطاعت کی بجائے جان قربان کرنے کوترجیح دو۔ یہ فعل احسن بھی ہے اور قابل ستائش بھی‘ لیکن ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں چھوٹے بڑے گویا بے شمار یزید موجود ہیں اورہم ان کے سامنے کلمہ حق کہنے کی بجائے بیعت لینا زیادہ سہل سمجھتے ہیں تبھی توآج ہماری حالت یہی ہے۔

دوسری اور اہم بات کہ جب سے امت محمدیﷺ میں قربانی دینے کاجذبہ ختم ہوا ‘زوال ان کا مقدر بنتا چلاگیا۔ہم نے مسلمانوں کے ہاتھ مسلمان شہید کراکے جنت کے وہ جھوٹے خواب تو دکھائے جنہوں نے ہمیں دنیائے عالم میں صرف رسوائی ہی دی ہے لیکن ہم کم سن بچوں کو دین متین کااصل سبق نہ سکھا سکے۔ ہم واقعات کربلا تو بیان کرتے ہیں لیکن فلسفہ شہادت امام حسین  کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ امام عالی مقام نے شہادت تک دو چیزوں کو نہیں چھوڑا‘ ایک نماز اور قرآن․․․․․․․․ ہماری حالت کیا ہے․․․․․․․․․․․․ ہم انہی دونوں چیزوں سے بھاگتے ہیں اورپھر بھی دعویٰ امت محمدی کا ہوتا ہے۔

یقین کریں کہ یہ تو اس التجا کا اثر ہے کہ جب نبیوں کے امام ﷺ نے عرض کی تھی کہ مولادوسری امتوں کی طرح برائیوں‘ بداعمالیوں کے باوجو د میری امت کی شکل وصورت تبدیل نہ کرنا ۔ ورنہ گناہوں ‘ بداعمالیوں کے اعتبار سے ہم نے سابقہ امتوں کوبھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ یہاں یہ بات ضرور عرض کرینگے کہ سانول رائٹرز فورم کے ایک مباحثہ میں معروف صحافی اوردانشور سید ظفر حسین برنی کہہ رہے تھے کہ فلسفہ شہادت امام حسین کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ حضرت امام حسن مجتبیٰ کی زندگی کامطالعہ کیاجائے ۔

یقینا یہ موجودہ دور میں صرف کتابی باتوں پر یقین رکھنے والے لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم نے کربلا کے اس عظیم شہید کی زندگی اورشہادت کو سیاق وسباق کے بغیر پڑھناشروع کردیا ہے۔
حضرت امام حسین کی قربانی نے یقینا اسلام کو تابندگی عطاکی‘ اگر وہ اس وقت یزید کے ہاتھ بیعت کرلیتے تو ان کی زندگی بھی بچ جاتی ‘ ان کی آل اولاد اور رفقا کو بھی ظاہری حیات نصیب ہوجاتی لیکن یہ امر دین متین کو اندھیروں میں لے ڈوبتالیکن آپ نے اپنی ‘ رفقا کی قربانی دیکر کر ان اندھیروں کودور دھکیل دیا۔

یہاں اس امر کی وضاحت ضروری تصورکرتے ہیں کہ حضرت امام حسین کربلا کے میدان میں گئے تورضائے الہٰی کیلئے ‘ اپنے نانا کے دین کوبچانے کیلئے ‘ لیکن وہ مجبور نہ تھے‘ محکوم نہ تھے‘ جب یزیدی لشکر نے آپ اور آپ کے رفقا کیلئے پانی بند کیااورایک رفیق پانی پانی کی صدا بلندکرتے آپ سے عرض کرتے ہیں کہ یاحسین پیاس نے برا حال کردیا آپ نے پاؤں زمین پرمارا اوروہاں سے چشمہ جار ی ہوگیا فرمایا اس دنیا کاپانی پیناچاہو گے یا روز حشر اپنے عظیم نانا کے ہاتھوں حوض کوثرسے پانی پیو گے۔

یقینا وہ مجبور بھی نہ تھے اورمحروم بھی‘ وہ لاچار نہ تھے اورنہ ہی کسی کی مجال تھی کہ آپ  کو بے آسرا کرسکتا ۔ وہ جو خدا وندقدوس کا فرمان عظیم ہے کہ میں ہروقت اپنے پیاروں کے ساتھ رہتاہوں ۔ میدان کربلا کاایک ایک منظر نبی مکرمﷺ اپنی قبر اطہر میں ملاحظہ کررہے تھے‘ آسمان پرنوری فرشتے روتی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے تھے کیا رب اللعالمین کے حکم پر وہ فرشتے میدان کربل میں اتر کرامام حسین کی مدد کو نہ پہنچ سکتے تھے یقینا ایسا ہی تھا تبھی تو ہم کہتے ہیں کہ امام حسین کو بے آسرا نہ کہاجائے کہ وہ توخود اس عظیم ترین نبیﷺ کے نواسے ہیں جو پوری دنیا کاآخری سہارا‘ آسرا ہیں۔

ایسی عظیم شخصیت کیسے بے آسراہوسکتی ہے۔اللہ کریم ہمیں فلسفہ شہادت امام حسین کو سمجھنے کی توفیق عطافرمائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : ہفتہ اکتوبر
Muhammad Saqlain Raza

کالم نگار : محمد ثقلین رضا

محمد ثقلین رضا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے