بند کریں
جمعرات مارچ

عیدالفطریا عیدمحکوماں ہجوم مومنین!

میر افسر امان :

اس سال۲۰۱۵ء میں مسلمان عید الفطر پر امن طریقے سے کیسے منائیں جبکہ ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے گئے ہیں۔ ہمارے ملک میں حکمرانوں کے غلط اقدام کی وجہ سے ضرب ِعضب فوجی آپریشن جاری ہے۔ کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریش جاری ہے۔ الطاف حسین صاحب کی فوج کے خلاف تقریروں کی وجہ سے حالات بہت خرابی کی طرف جا رہے ہیں حکومت پاکستان نے برطانیہ کو خط لکھ دیا ہے۔

اس تقریر کے خلاف ملک میں ۱۰۰/ سے زائد مقدمات الطاف حسین کے خلاف قائم ہو چکے ہیں۔ ایم کیو ایم کے تین درجن سے زیادہ راہنماؤں پر بھی مقدمات قائم ہو چکے ہیں ان کو ملک سے باہر جانے پر پابندی کا بھی کہہ دیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی لوگوں کو فنڈنگ کے لیے کرپشن کرنے والے گورنمنٹ ملازمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان گرفتاریوں زرداری صاحب بھی فوج کے خلاف برس پڑے ۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے فلموں میں سلطان راہی کی زبان بول رہے ہیں پھر بچ بچا کر ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔عید کی خوشیوں کے موقعے پر پچھلے سال کی طرح آئی پی ڈیز کیمپوں میں ہی عید الفطر منائیں گے۔ ہمارے سیاست دانوں اپنے ہی لوگوں سے فوج کو الجھا دیا گیا ہے اپنے ہی ملک کے اندر دس لاکھ سے زائد مسلمان مہاجر بنا دیے گئے ہیں وہ اچانک آپریشن کی وجہ سے اپنے ضروری سامان بھی ساتھ نہ لا سکے ان کے بچے، بوڑھے اور عورتیں بے یار و مدد گار کیمپوں میں یا اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پڑے ہیں بنوں شہر کی جتنی آبادی ہے اس سے دو گناہ مہاجر اس میں رہائیش پذیر ہو گئے ہیں ضروریات زندگی ملنا مشل ہو گئیں ہیں۔

حکومت کی طرف سے امداد لینے والوں کی قطاریں دیکھ کر دل آنسو بہا رہا ہے۔ ان کارمضان کا مہینہ کیسے گزرا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اب حکومت کے مطابق سارا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کر لیا گیا اس لیے حکومت کو چاہیے کہ لوگوں کو واپس اپنے گھروں میں جانے دے تاکہ وہ عید الفطر اپنے گھروں میں منا سکیں مگر یہ رفطار بہت ہی روست روی کا شکار رہی ہے ۔

پچھلے دنوں ہماری بہادر فوج کے سپہ سالار نے وزیر خزانہ اسحق صاحب سے ملاقات کی تھی جس میں آئی پی ڈیز کے ان کے گھروں میں واپسی اور اخراجات کے متعلق بات چیت ہوئی مگر ابھی تک مکمل واپسی اور بحالی کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ فلسطین کے اندر یہودیوں نے ظلم و ستم جاری کیا ہوا ہے۔ عراق کے اندر امریکا کے پھیلائے ہوئے جال کے تحت مسلمان مسلمان سے اپنے حقوق کے نام پر لڑ رہے ہیں ۔

شام میں بشار کی شعیہ اقلیتی حکومت کے خلاف ایک عرصہ سے جنگ ہو رہی ہے لاکھوں مسلمان شہید ہو چکے ہیں لاکھوں مہاجر بنا دیے گئے ہیں۔ کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی گئی آئے دن جعلی مقابوں کے نام پر کشمیریوں کو بھارت کی فوج شہید کر رہی ہے۔نواز شریف صاحب نے بھارت سے مذاکرات میں کشمیر پر بات چیت نہ کر کے کشمیریوں کو خفا کر دیا ہے۔ برما میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں سے زبردستی روزے تڑوائے گئے۔ یہی حال چین کا ہے وہاں مسلمانوں کو رمضان میں عبادات سے جبراً روک دیا گیا ہے۔ غرض دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جا رہا ہے عوام تو اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں مگر امریکی پٹھو مسلم حکمران اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر رہے۔دنیا میں یہودی کنٹرولڈ میڈیا نے الٹا مسلمانوں کو دہشت گرد مشہور کر دیا ہے۔

رمضان کے مقدس بابرکت مہینے کو ددلت کی ہوس اور مغربی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے میڈیا کے مالکان نے کھیل تماشہ بنا دیا ہے۔ اِن حالات میں پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی عید الفطر آئی ہے۔ مسلمان عیدالفطر رمضان کے روزوں کے بعد شکرانے کے طور پر مناتے ہیں۔ اس موقعے پر عید گاہوں اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں مسلمان۲/ رکعت نماز ادا کرتے ہیں ۔

اپنے غریب مسلمان بھائیوں میں فطرانے کے پیسے تقسیم کرتے ہیں تاکہ وہ اور ان کے بچے بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔رمضان میں مسلمان اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اپنے گناہوں کو معاف کرانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں طاق راتوں میں لیلة القدر کی تلاش میں مصروف رہتے ہیں اللہ نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ روزوں کا ثواب میں خود دوں گا باقی نیکیوں کے لیے اجر تو ۷۰/ گنا تک کہا گیا ہے مگر رمضان میں اللہ نے اَجر خود دینے کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تو بے حساب دیتا ہے پھر بھی اس کے خزانے میں کمی نہیں ہوتی اِس لیے مسلمان رمضان میں خوب دل لگا کر عبادت کرتے ہیں۔

قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں زیادہ سے زیاد ہ نوافل ادا کرتے ہیں راتوں کو جاگ کر تہجد پڑھتے ہیں نفلی عبادت تراویح کے لیے مساجد ماشاء اللہ بھر جاتی ہیں جس میں قرآن کے حافظ صاحبان قرآن شریف سناتے ہیں انفرادی طور پر ہر مسلمان قرآن شریف کی تلاوت کرتاہے مساجد میں قرآن کی تلاوت کی آواز سن کر بے ساختہ دل اللہ کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ بچے،جوان،بوڑھے عورتیں قرآن شریف کی تلاوت کرتے ہیں ہر طرف نیکیوں کی ایک بہار ہوتی ہے ہر سال یہ ایک قسم کا تربیتی کورس جو ہر رمضان کے مہینے میں ہوتا ہے پوری دنیا میں مسلمانوں کی بستیوں میں نیکیوں کی بہار کا موسم ہوتا ہے شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا عشرہ عذا ب ِجہنم سے نجات کا ہے۔

اسلام کے جتنے بھی خوشی کے تہوار ہوتے ہیں وہ ایک پُرقار سنجیدہ اُمتِ مسلمہ کے شا یان شان ہیں مسلمان اُس روز عید گاہوں اور شہر کی بڑی بڑی مساجد میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ دو رکعت نماز عیدالفطر ادا کرتے ہیں اللہ کے سامنے عاجزی سے گڑ گڑا کے دعائیں مانگتے ہیں کہ اے اللہ رمضان کے مقدس مہینے میں اگر عبادت میں کچھ کمی رہ گئی ہے تو معاف کر دی جائے اے اللہ تو بڑا معاف کرنے والا ہے ایک دوسرے کوعیدالفطر کی مبارک باد دیتے ہیں روزوں کی مقبولیت کے لیے ایک دوسرے کو دعائیں دیتے ہیں نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے مل کر معاف کرنے کی درخواست کرتے ہیں ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں اپنے اور رشتہ داروں کے بچوں میں عیدی تقسیم کرتے ہیں لذیذ قسم کی سویاں اور دل پسند کھانے کھاتے ہیں محبت،اخوت اور الفت کا موسم ہوتا ہے بچے، نوجوان،بوڑھے نئے کپڑے پہنتے ہیں ایک دوسرے میں تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے پوری اسلامی دنیا کے ملکوں میں امت ِمسلمہ کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان ایک جیسا پُر وقار سنجیدہ عیدالفطر کا دن مناتے ہیں یہ سارے کام اگر کسی نے کر لیے ہیں تو وہ خوش قسمت ہے ورنہ جیسے اوپر ذکر کیا گیا ہے دنیا میں ہر جگہ مسلمان مشکل میں مبتلا ہیں۔


قارئین !وہ امتِ مسلمہ جسے اللہ نے خیر امت بنایا ہے جو درمیانے راستے پر چلنے والی ہے۔ اس امت کو فریضہ شہادتِ حق کے لیے اُٹھایا گیا ہے۔ یہ دنیا کی دوسری قوموں پر شہادت کا فریضہ ادا کرے گی۔ یہ امت امر با المعروف و نہی المنکر پر عمل کرے گی۔ نیکی کے کاموں میں تعاون اور بُرائی کے کاموں سے منع کرے گی۔ مگراسلام پر عمل نہ کرے کی وجہ سے امت خود پریشانیوں میں غرق ہے۔

جب تک۵۷/ سے زائد اسلامی ملک اپنی”مسلم اقوام متحدہ“نہیں بناتے اُس وقت تک اس امت کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ دنیا کی ایک تہائی آبادی،زرخیز علاقے،معدنیات سے ملا مال،تیل کے وافر زخائر،ایک اللہ اور ایک رسول کو ماننے والی امتِ مسلمہ کو اپنے اتحاد کے لیے عملی اقدام اُٹھانا چاہیے۔ پھر صحیح عید الفطرہو گی ورنہ عید محکوماں ہجوم مومنین ہے۔اللہ سے دعاہے کہ وہ اس مشکل کو آسان کر دے اور مسلمان اپنے مقام پر فائز ہو جائیں آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-18

کالم نگار     :     میر افسر امان

میر افسر امان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-