بند کریں
اتوار مارچ

”عیدی“

اظہر تھراج :

دنیا بھرمیں سوفٹ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے تو کرپٹ لوگوں نے بھی اس کا خوب فائدہ اٹھایا ہے،انہوں نے ابھی اپنی لوٹ مار کو سوفٹ نام دے دیے ہیں،رشوت کو مٹھائی،خوشی کا نام دے کر جیبیں بھری جاتی ہیں،اب چونکہ عید کا موقع ہے تو یہاں ”عیدی“ جیسے خوبصورت اور خوشی کے کا نام کو بھی اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

خوشیاں سب کا حق ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اخلاقیات قانون کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
رمضان المبارک میں سب نے دیکھا کہ کیسے کیسے ہم عوام کی خدمت کرتے پائے گئے،ہمارے روزے کیسے کمال کے گزرے ہیں،جس کا اندازہ حکمران جماعت کے نمائندوں، کارندوں اورسازندوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔سب چیخ چیخ کراپنی گڈگورننس کا پرچارکرتے رہے،رمضان بازاروں کے دورے کرتے پائے گئے،بڑی محنت کی ہے بیچاروں نے روزانہ مارکیٹوں میں جا کر تصویریں بنوانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

ٹی وی پر تبصرے کرنا اور اپنی حکومت کے گن گانا خالہ جی کا گھر نہیں ہے!!دیہات کی بات چھوڑیں چھوٹے بڑے شہروں میں چیزیں مہنگی تو کیا سستی بھی نہیں ہونے دیں،ہر چیز رمضان سے پہلے جس قیمت پر تھی اسی پر تو بکتی رہی ہے،معیار بھی کیا کمال تھا پیمائش بھی کیا عالمی سٹینڈرڈ کے مطابق تھی۔کلو پاؤ تو پانچ کلو چار سیر۔
عید کا نیا جوڑا بنوانے بازار نکلا تو پہلے کوئی درزی نہ ملا ہر ایک نے ”نو بکنگ “کے بورڈ آویزاں کررکھے تھے،ایک صاحب ملے تو انہوں نے کپڑوں کی قیمت سے زیادہ سلائی کے پیسے مانگ لیے،ایک گھنٹے کی تگ و دو کے بعد ایک اور درزی کے پاس پہنچا جو شکل سے نمازی پرہیزی اور ایماندار نظر آرہا تھا اس نے بھی پہلے تو ناں ناں کی جب دیکھا مرغا ذبح ہونے کو تیار ہے تو اس نے چھری رکھ دی اوردو گنا پیسوں کے عوض جوڑا بنانے کو تیار ہوگیا،جب پوچھا بھائی پیسے زیادہ کیوں لے رہے ہو؟ صاحب فرماتے عید ہے عیدی تو لوں گا۔

مرتا کیا نہ کرتا!
دفتر پہنچا تو وہا ں بھی کئی ”عیدی“ لینے والے موجود تھے،اکاؤنٹس والوں نے جرمانوں کے نام پر بلیڈ مارا تو چھوٹے ملازمین نے صاحب،صاحب کہہ کر جیب کاٹ لی،واپس گھر کی طرف رخت صفر باندھا تو ہمارے محافظوں نے امن اور سکیورٹی کے نام پر ناکہ لگا رکھا تھا وہاں بھی ایسے عیدی وصول کی جارہی تھی جیسے ان کے باپ دادا کی کمائی پروہاں سے گزرنے والوں نے قبضہ جما رکھا ہو۔

زیادہ تر کم عمر ڈرائیوروں کو روکا جارہا تھا جو با آسانی عیدی دینے کو تیار ہوجاتے تھے۔میں تو آیت الکرسی پڑھ کرنکل گیا۔لیکن بھائی کا فون آیا کہ قوم کے محافظوں نے پیسے نہ ہونے پر میرے سمیت جس کو روکا پٹرول نکال لیا ہے،کئیوں نے تو موبائل فون دے کر جان بخشی کروائی،بھائی عید ہے ناں ”عیدی “ تو دینا پڑے گی۔
ٹرانسپورٹرز بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے،مسافروں کو بروقت منزل پر جو پہنچانا ہے،لاہور سے لیہ تک،پنڈی سے کشمیر تک،کراچی سے خیبر تک سب کو ”عیدی“ کے نام پر چونا لگایا گیا۔


اب نائیوں کی باری آئی تو انہوں نے پہلے ہی اوزار تیز کررکھے تھے بال کٹیں نہ کٹیں جیبیں ضرور کٹنی چاہئیں،ہر چیز کے دوگنے ریٹ۔ایسا تو ہونا تھا عید ہے ”عیدی“ تو بنتی ہے۔
عید کاروز تو پھر ”عیدی“ کا دن ہوگا۔
یہ ایسے واقعات ہیں جو ہر ایک انسان کو پیش آئے ہوں گے۔عید کے نام پر عیدی لینے والوں یقیناً یہ نہیں سوچا ہوگا کہ یہ جو شخص ہے اس کے بچے کس حالت میں ہیں،اس نے یہ پیسے کیسے کمائے ہونگے،نہ جانے کتنے پہر پیٹ کاٹ کر اس نے یہ پیسے جمع کیے ہونگے،نہیں،نہیں ایسا کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔

آپ کسی بھی غیرملکی سے پوچھ لیں کہ ایسا کہیں بھی نہیں ہوتا،یہ سب تیرے اور میرے ملک پاکستان میں ہوتا ہے،یہاں عام سے خواص تک سب نے لوٹ مار کو ماٹو بنا لیا ہے۔باقی مذاہب میں جب تہوار آتے ہیں تو روزمرہ کے استعمال کی چیزیں سستی کردی جاتی ہیں،افسوس کہ ہمارے ہاں تو الٹا ہی رواج ہے۔ہمارے گناہ اتنے بڑھ چکے ہیں ہمیں اللہ ہی غفور ورحیم ہے جو بچائے ہوئے ہے۔


سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان سب کاموں کا انجام کیا ہے،ایسے کام کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟تاریخ گواہ ہے کہ قوم عاد کی نافرمانی حد سے بڑھ گئی تو ان پر خوفناک چنگھاڑ کی صورت میں عذاب بھیجا گیا،قوم لوط کی برائیاں عروج پر پہنچیں تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی،سبا قبیلے کے سردار نے آسمان کی طرف تھوکا اور کفر کا اعلان کیاتو اس قبیلے پر سیلاب کی صورت میں عذاب نازل کیا گیا،ابرہہ نے کعبے پر حملے کا ارادہ کیا تو اللہ نے ابابیلوں کا لشکر بھیجا جس نے ابرہہ کے لشکر پر اتنی کنکریاں برسائیں کہ وہ کھائے ہوئے بھس کی مانند ہوگئے۔

اے اللہ کے بندو کہاں تک اپنے رب کی نافرمانی کرو گے اللہ جب پکڑنے پر آتا ہے تو اس کی گرفت سے کوئی خان،کوئی رئیس،کوئی میاں،کوئی جاگیردار،چھوٹے پیٹ والا،بڑے پیٹ والا کوئی بھی نہیں بچ پاتا،کب تک انسانیت کا خون پیتے رہو گے؟یہ زلزلے،یہ طوفان،یہ سیلاب تمھارے لیے وعید ہی تو ہیں تمھارے لیے قدرت کا پیغام ہی تو ہیں،کیونکہ سورہ انعام میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی کو اس بات پر قدرت ہے کہ تم پر عذاب لے کر آئے چاہے اوپر سے،چاہے تمھارے قدموں سے۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-18

کالم نگار     :     اظہر تھراج

اظہر تھراج کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-