بند کریں
منگل مارچ

لیاقت شاہ کی برأت اور کشمیریوں کے سوالات!

صریر خالد :

اب جبکہ قومی تفتیشی ایجنسی یا ”این آئی اے“نے دلی پولس کی جانب سے ”خونخوار دہشت گرد“کے بطور پیش کئے گئے لیاقت شاہ کو سبھی الزامات سے بری کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مذکورہ کو ناحق ہی ایک بڑے کیس میں پھنسایا گیا تھاشاہ نے راحت کی سانس لی ہے۔لیکن انتہائی مصائب و مشکلات سے گذارے گئے لیاقت شاہ کو برأت دینے سے اِس اہم معاملے کا فیصلہ ہو گیا ہے کیا؟اور کیا الزامات سے برأت کی شکل میں اُسے واقعی انصاف ملا ہے؟۔

یہ اور اِس طرح کے کئی سوالات کے ساتھ ساتھ سوال یہ بھی ہے کہ کیا کئی ڈرامائی موڈلے کر لیاقت کی برأت پر رُکے اِس معاملینے اُن سبھی معاملات پر نظرِ ثانی کی ضرورت اُجاگر نہیں کی ہے کہ جن کے لئے خود دِلی پولس تمغوں اور ترقیوں کی سوغات تو سمیٹ چُکی ہے لیکن ملزمین کے یہ نالے کوکسی نے نہ سُنے کہ وہ بے گناہ ہیں…!
لیاقت شاہ حالانکہ گرفتاری کے چند ماہ بعد ہی ضمانت پر رہا ہو چکے تھے تاہم اُن پر دِلی میں دہشت گردی کرنے کا اِرادہ رکھنے اور اِس طرح کے دیگر سنگین اِلزامات برقرار تھے۔

پھر پہلے سے مشکوک لیاقت شاہ کی گرفتاری کا معاملہ این آئی اے کے یہاں زیرِ تفتیش بھی تھا اور ظاہر ہے کہ تفتیش کا کوئی بھی نتیجہ سامنے آسکتا تھا۔تاہم گذشتہ سنیچر کو ایجنسی نے ا،س معاملے سے متعلق پہلی چارج شیٹ دائر کرتے ہوئے نہ صرف یہ ا،نکشاف کیا کہ لیاقت شاہ بے گناہ رہے ہیں بلکہ یہ بھی کہ مذکورہ کو پھنسانے کے لئے ایک مخبر کے ساتھ ملکر دِلی پولس کے کئی افسروں اور اہلکاروں نے سازش رچی ہے۔

این آئی اے کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لیاقت شاہ سے جو ہتھیار بر آمد کئے جانے کا دعویٰ دِلی پولس نے کیا تھا وہ در اصل خود دِلی پولس نے ہی اُس ہوٹل میں رکھوایا تھا کہ جہاں لیاقت شاہ کی نشاندہی پر ا،سکی ضبطی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ایجنسی نے اپنی تحقیقات میں پایا ہے کہ دِلی پولس کی سپیشل سیل کی لودھی کالونی بارکوں میں گذشتہ آٹھ سال سے مقیم صابرخان پٹھان نامی مدھیہ پردیش کے ایک مخبر کی مدد سے دِلی پولس نے لیاقت شاہ کو بلی چڑھانے کی سازش رچی تھی تاہم خان کو زیرِ تبصرہ معاملے کے این اے آئی کے زیرِ تحقیقات آنے کے بعد سے ہی لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔

ایجنسی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اگرچہ معاملے کی تحقیقات اب بھی جاری ہے لیکن ا،تنا صاف ہو گیا ہے کہ لیاقت شاہ کوئی دہشت گردی کرنے کے اِرادے سے دِلی نہیں آرہا تھا بلکہ مرکزی سرکار کے اشتراک سے چلائی جارہی جموں و کشمیر سرکار کی ایک باز آبادکاری کی سکیم کے تحت پاکستان سے نیپال کے راستے گھر لوٹ رہا تھا ۔چارج شیٹ میں آرمز ایکٹ کی دفعہ 25(1-A)اور25(1-B)اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت پولس کے مخبر کے خلاف معاملہ بنایا گیا ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولس کی رینک کے ایک اور انسپکٹر سطح کے دو افسروں سمیت قریب نو پولس اہلکاروں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جو ایک بے گناہ کو پھنسانے کے اِس جُرم میں ملوث رہے ہیں۔

ابھی تک جو کچھ اِس تحقیقات سے متعلق معلوم ہو سکا ہے اُسکے مطابق این آئی اے نے مرکزی وزارتِ داخلہ کو رپورٹ روانہ کر دی ہے جس میں خاطی پولس افسروں اور اہلکاروں کے لئے سزا کی سفارش کی گئی ہے۔
لیاقت شاہ ایک ایسا کشمیری شخص ہے کہ جو برسوں پہلے پاکستان چلا گیا تھا اور دو سال قبل جموں و کشمیر سرکار کی اجازت سے واپس لوٹ رہا تھاکہ نیپال سرحد پر دِلی پولس کے ہتھے چڑھ گیا۔

بد نصیبلیاقت شاہ کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی بتاتے ہوئے دِلی پولس نے 20/مارچ 2013ءء کودعویٰ کیا کہ ِاس نے اُتر پردیش میں ہند -نیپال سرحد کے قریب ایک مشتبہ شخص کو پکڑ لیا ہے جسکے بارے میں پوچھ تاچھ کے دوران معلوم ہوا ہے کہ وہ حزب المجاہدین کا ایک جنگجو ہے اور راجدھانی دلی میں فدائی حملوں کے منصوبے کے ساتھ داخل ہونے جا رہا تھا۔اِتنا ہی نہیں بلکہ اس گرفتاری کے اگلے دن دلی پولس نے فلمی انداز میں پُرانی دِلی کے ایک گیسٹ ہاوس پر چھاپہ مارا اور دعویٰ کیا کہ یہاں کے ایک کمرہ سے کچھ اسلحہ اور گولہ بارود اور دِلی شہر کا نقشہ بر آمد کیا گیا ہے۔

پولس نے دعویٰ کیا کہ کمرہ جس شخص نے کرایہ پر لیا تھا وہ در اصل لیاقت شاہ کے ساتھ فدائی حملے میں حصہ لینے والا تھا اور اِس ہوٹل میں خودد لیاقت کا ہی انتظار کر رہا تھا۔پولس نے تاہم کہا کہ مشتبہ شخص نے ہوٹل میں سامان چھوڑا تھا اور پھر وہ واپس نہیں لوٹا ۔دِلی پولس نے مذکورہ شخص کے گیسٹ ہاوس میں داخلہ لینے سے متعلق اِس گیسٹ ہاوس کے سی سی ٹی وی کیمرہ کی ایک ریکارڈنگ جاری کی تاہم اس میں مذکورہ شخص کا حُلیہ یا اِسکا چہرہ قابلِ شناخت حد تک دکھائی نہیں دیتا تھا۔

اِسکے علاوہ دِلی پولس نے اپنی دعویداری کو کچھ مزید مظبوط کرنے کیلئے مذکورہ شخص کا ایک عکس بھی جاری کر دیاتھا جو پولس نے اپنے ”اسکچ ایکسپرٹ“سے تیار کر وایاتھا۔
حالانکہ دِلی پولس کی یہ دعویداری اپنے آپ میں کئی نقائص لئے ہوئے تھی اِسلئے اِس پر شروع سے ہی شک ہوتا رہا لیکن لیاقت شاہ ،جو شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کیباشندہ ہیں،کے لواحقین نے جب یہ دعویٰ کیا کہ وہ خود جموں و کشمیر سرکار کی مدد سے پاکستان سے لوٹ رہا تھا تو پہلے سے موجود شکوک اور بھی گہرے ہوگئے۔

لیاقت کے بھائی سید کرامت نے دِلی پولس کی دعویداری کو جھٹلاتے ہوئے کہاتھا”میرا بھائی 18/سال پہلے پاکستان گیا تھا تاہم اس نے کبھی کشمیر میں کسی جنگجوئیانہ کارروائی میں حصہ نہیں لیا ہے،وہ تو گھر لوٹ کر پولس کے سامنے سرنڈر کرنے آرہا تھا تاکہ اپنی عام زندگی گذار سکے“۔کرامت کا کہنا تھا کہ ایک طرف سرکار جنگجوئیانہ تربیت کے لئے سرحد پار جا چکے افراد کو واپس آنے کے لئے کہتی ہے اور دوسری جانب اِنہیں جھوٹے معاملات میں پھنسایا جاتا ہے۔


لیاقت شاہ کے کسی زمانے میں جنگجو ہونے کی حقیقت سے کسی کو اِنکار نہیں ہے لیکن گرفتاری کے وقت نہ وہ پاکستان میں ہی کسی جنگجوئیانہ سرگرمی کے ساتھ وابستہ رہیہیں اور نہ ہی سرحد کے اِس پار آکر وہ کوئی جنگجوئیانہ محاذ سنبھالنے کی کوشش میں تھے جیسا کہ جموں و کشمیر کی پولس اور سرکار نے بھی بر ملا طور اعتراف کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت علی شاہ عرف کاکا خان سال 1992ءء میں اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کیلئے پاکستان چلے گئیتھے اور اپریل 1993ءء میں حد بندی لکیرپار کر کے کشمیر لوٹ آئے ۔

اِن ذرائع کا کہنا ہے کہ لیاقت نے 1997ء ء تک حزب المجاہدین کے لئے کام کیا لیکن کسی بڑی واردات میں اِنکے ملوث ہونے کا پولس کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اگرچہ دیگر سینکڑوں لوگوں کی طرح اِنکے خلاف پولس کے پاس ایک ”عام“ایف آئی آر درج ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق 1997ءء میں لیاقت چُپکے سے واپس پاکستان کی جانب بھاگ گئے مگر اب کے اُنہوں نے وہاں کسی تربیتی کیمپ میں ڈھیرہ جمانے کی بجائے اپنے آبائی علاقہ کی ہی ایک بیوہ کے ساتھ شادی رچائی اور محنت مزدوری کر کے نجی زندگی گذارنا شروع کی۔

ایک طرف دیارِ غیر میں اُنکا گذارہ مشکل سے ہو رہا تھا اور دوسری جانب لیاقت کو جموں و کشمیر سرکار کی ہتھیار چھوڑ کر پاکستان سے گھر لوٹنے پر آمادہ جنگجووٴں کی باز آبادکاری سے متعلق پالیسی کا علم ہوا اور دل میں مچل رہی گھر لوٹنے کی تمنا نے ارادے کی شکل اختیار کی۔اِس متنازعہ سابق جنگجو کے بھائی کا کہنا ہے”بھائی نے کئی بار کہا کہ وہ گھر آنا چاہتا ہے جسکے بعد ہم نے مقامی پولس کے ساتھ رابطہ کیا اور ضابطے کے مطابق درخواست جمع کرائی جسکی منظوری کی اطلاع ملنے کے بعد ہی ہم نے لیاقت کو اطلاع دی،پولس کو تو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ لیاقت نے کب اور کس راستے سے رکتِ سفر باندھا تھا“۔

کپوارہ کی پولیس نے لیاقت کے گھر والوں کی اِس دعویداری کی تصدیق کی ہے کہ ُانہوں نے سابق جنگجووٴں کی باز آباد کاری پالیسی کے تحت ایک درخواست دی تھی جسے منظورکیا گیا تھا۔ اِس سلسلے میں ڈی ایس پی ہیڈ کواٹر کپوارہ سجاد خالق بٹ کا یہ بیان ریکارڈ میں ہے” فائل نمبر74/میں مذکورہ شخص کے اہل خانہ کی جانب سے دی گئی درخواست موجود ہے جسے حکومتی باز آباد پالیسی کے تحت منظور بھی کیا گیاہے“۔


لیاقت کے ،پہلے سے طے ،سرنڈراور مشروط گھر واپسی سے متعلق جموں و کشمیر پولس کے پاس موجود درخواست اور اسکی پیشگی منظوری ایسی واحد چیز نہیں تھی کہ جسکی بنیاد پر،اب کے،دلی پولس کی ”کامیابی“مشکوک ہوگئی تھی بلکہ خود اِسکے غبارے میں اِتنے سُراخ تھے کہ جنکے رہتے ہوئے اِس غبارے کا ہوا میں اُڑنا نا ممکن ہو گیاتھا۔چناچہعالمی سہارا نے اِس معاملے کی ابتداء میں ہی کچھ سوالات یوں اُٹھائے تھے:
اگر لیاقت شاہ کو جنوری میں منعقدہ حزب المجاہدین کی ایک میٹنگ میں دِلی میں فدائی حملے کا کام ملا تھاتو پھر یہ افضلگورو کی پھانسی کا بدلہ کیسے ہو سکتا تھا جیسا کہ دِلی پولس کا دعویٰ ہے۔

آخر جنگجووٴں کو ایک مہینہ قبل ہندوستانی وزارتِ داخلہ کے انتہائی رازدارانہ آپریشن تھری اسٹار کے بارے میں ایسی معلومات کہاں سے ملتیں کہ وہ دلی میں ایک فدائی حملے کی منصوبہ بندی بھی کرتے؟
دِلی پولس کا کہنا ہے کہ لیاقت کو دلی میں حملوں کے لئے ایسی جگہوں کے انتخاب کرنا تھا کہ جہاں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکتا تھا،لیکن سوال ہے کہ جو شخص اٹھارہ سال سے دلی تو کیا خود کشمیر کے حدودِ اربہ سے نا واقف ہو اُسے ہر سال اپنا حلیہ بدلتی دلی کے بارے میں کونسی ماہرانہ شناسائی تھی کہ اُنہیں فدائی حملے جیسی حساس کارروائی کے لئے جگہوں کے انتخاب کا کام سونپا جاتا؟
اگر ،دِلی پولس کے بقول،پُرانی دِلی کے ایک گیسٹ ہاوس میں موجود جنگجو لیاقت کے منتظر تھا تو پھر وہ20/تاریخ کو ہی اچانک گیسٹ ہاوس چھوڑ کر فرار کیوں ہو گیاجبکہ لیاقت کو ویسے بھی 21/تاریخ کو دِلی پہنچنا تھا۔

اور پھر یہ بھی کہ وہ شخص دِلی پولس کے بقول اسکے ہاتھ لگنے والا اسلحے کی صورت میں اپنے پیچھے سُراغ کیوں چھوڑ گیا؟
جموں و کشمیر میں درجنوں بار فدائی حملے دیکھتے ہوئے ہم نے اندازہ لگا یا تھا کہ اِس طرح کے حملوں میں شریک ہونے والے لڑاکووٴں کے پاس کتنی بھاری مقدار میں اسلحہ ہوتا ہے تو کیا دِلی جیسے بڑے شہر میں پلان کئے گئے حملے میں،جو بین الاقوامی سطح کی خبر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا،شریک ہونے جارہے ”فدائی“محض ایک رائفل اور تین ہتھ گولے لیکر جارہے تھے؟
اگر دِلی پولس کو اِتنی بڑی کامیابی ملی تھی اور اسے لیاقت کے دِلی میں موجود ہتھیار بند ساتھی کے بارے میں بھی معلوم پڑا تھا تو اسنے جموں و کشمیر پولس یا آئی بی سے رابطے کر کے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ کہیں ان ایجنسیوں کے پاس اس معاملے سے متعلق مزید اطلاعات تو نہیں ہیں؟
دِلی پولس کی جاری کردہ مختصر ویڈیو فوٹیج میں دِکھائے گئے شخص کا چہرہ کیوں نہیں دِکھتا ہے کیا ہوٹل میں داخل ہوتے وقت اُسے معلوم تھا کہ اُسکا ویڈیو بنایا جا رہا ہے؟اور پھر جو ٹوپی(پیک کیپ)پہنے اُسے دکھایا گیا ہے اگلے دن لیاقت کو میڈیا کے سامنے پیش کئے جانے کے وقت اُسنے بھی وہی ٹوپی پہن رکھی تھی،ایک حساس اور خطرناک مشن پر جانے والے دو گوریلا آخر ایک جیسی ٹوپی پہننے کا جوکھم کیونکر اُٹھائیں گے؟
اب جبکہ لیاقت شاہ کی بے گُناہی ثابت ہو گئی ہے مذکورہ بالا سوالات بھی بر محل ثابت ہوئے ہیں کہ این اے آئی کی تفتیش سے متعلق ابھی تک معلوم ہو پانے والی تفصیلات کے مطابق ایجنسی نے کم و بیش اِنہی نکات کے اِرد گرد گھوم کر ایک سنسنی خیزسازش کا بھانڈا پھوڑا ہے ۔

تاہم این آئی اے کی تحقیقات نے بعض نئے سوالات کھڑا کئے ہیں جیسے یہ کہ شاہ کو پھنسانے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا گیا تھا وہ کہاں سے دستیاب ہوا تھا؟یہ بھی کہ اگر د،لی پولس کے اُسوقت کے کمشنر نے شاہ کو گرفتار کرنے والی ٹیم کا دفاع کیا تھا تو کیا کمشنر خود بھی ا،س سازش میں ملوث رہے ہیں؟کیا ملوث پائے گئے افسروں یا اہلکاروں کے خلاف با جابطہ معاملہ درج کرکے اِس پورے معاملے کے نئے پہلووٴں کی جانچ نہیں ہونی چاہیئے اور کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اِس سے قبل دِلی پولس کی جو دعویداریاں رہی ہیں اُن میں ملزم دِکھائے جانے والے بھی لیاقت شاہ کی ہی طرح بے گناہ ہوں۔


خود لیاقت شاہ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ میری طرح کتنے ہی بد نصیب حالات کا شکار ہو گئے ہوں۔اُنکا کہنا ہے”گو میری گرفتاری پہلے سے اپنے اندر ایسے واضح سوالات رکھتی تھی کہ جنکے جواب فوری تلاش کئے جاتے تو مجھے وہ سب نہیں کھونا پڑتا کہ جو میں نے کھویا ہے“۔وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ اُنہیں برأت ملنے پر زبردست خوش ہیں تاہم اِس دوران اُنہیں بہت بڑی قیمت چُکانا پڑی ہے جسکا اُنہیں ہمیشہ کے لئے ملال رہے گا۔

لولاب کے اپنے آبائی گاوٴں میں مشکلات کے باوجود زندگی کی ایک نئی شروعات کے لئے کوشاں لیاقت شاہ کا کہنا ہے”میری رہائی کی لڑائی لڑنے کے لئے میرے خاندان کو بہت کچھ کھونا پڑا ہے ،مجھے دس کنال زمین بیچنا پڑی ہے اور اِس سب سے بڑھکر مجھے بیوی کی موت سے بڑا دھچکا لگا ہے کہ جنہیں مجھے ٹیلی ویژن پر دِلی پولس کی حراست میں دیکھ کر دِل کا دورہ پڑا اور وہ فوت ہو گئیں“۔

لیاقت شاہ کا کہنا ہے کہ این آئی اے نے کچھ لوازمات پورا کرنے کے لئے اُنہیں ایک بار پھر دِلی بُلایا ہے اور اِس واسطے اُنہوں نے اپنا بیل اور گائے فروخت کر کے زادِ راہ کا اِنتظام کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں اپنے ساتھ اِنصاف ہوتے تب لگے گا کہ جب اُنہیں سازش کا شکار کرنے والے پولس والوں کو سزا ملے گی۔اُنکا کہنا ہے”مجھے وہ سب واپس تو ملے گا کہ جو مجھ سے چِھن چُکا ہے لیکن اِتنا ضرور ہے کہ مجھے پھنسانے والوں کو سزا ملنے سے تسلی ضرور ہو جائے گی“۔


کئی سال گذر گئے ہیں کہ جب سے دِلی پولس کسی بھی بڑے مذہبی تہوار یا ملکی آئین کے تحت منائے جانے والے خصوصی ایام(26جنوری یا15اگست ) سے کچھ قبل یا ان مواقع کے آس پاس بڑی ”دہشت گردانہ سازشوں کو بے نقاب“ کر کے اِن میں شامل رہنے والے ”دہشت گردوں“ کو گرفتار کرتی ہے۔ٹھیک اُسی طرح کہ جس طرح بیشتر گھروں میں تہواروں کے مواقع پر مرغ،مچھلی یا اس طرح کی دیگر اشیاء کا اہتمام کیا جاتا ہے یا پھر جس طرح مسلمانوں کے یہاں بکرہ عید پر قربانی کے جانور کا اہتمام رہتا ہے۔

حالانکہ دِلی پولس کی جانب سے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے جاتے رہے افراد کی اکثریت کے بارے میں وقت وقت پر یہ باتیں سامنے آتی رہی ہیں کہ ِانکے مجرم ہونے کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں لیکن اِن باتوں سے نہ ہی دلی پولس اپنی ”روایتی کامیابی“سے ”چُوکنے“لگی اور نہ ہی اسے اِسکی ”کامیابیوں“کے لئے شاباشی دینے والوں نے ہی کبھی اِس سلسلے میں کوئی کھوج بین کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔

چناچہ پُر اسرارکامیابیوں سے متعلق سوال و جواب کے کسی عرق ریز سلسلہ کا سامنا کئے بغیر شاباشی پاتی رہی دِلی پولس نے اپنی ”کامیابیوں“کی ”روایت“کو بر قرار رکھا ہوا ہے ۔اندازہ ہے کہ ابھی تک خود جموں و کشمیر کے کتنے ہی بد نصیب اِس طرح کی سازشوں کا شکار ہوکر تہار اور دوسری جیلوں کی کال کوٹھریوں میں اپنی اُٹھتی جوانیوں کو لاچار بُڑھاپے کی نذر ہوتے دیکھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جیسا کہ سرینگر شہر کے سولنہ علاقہ کے غلام قادر دار کا کہنا ہے کہ جن کے بیٹے طارق احمد ڈار کو دِلی پولس نے 2005ء میں راجدھانی میں ہوئے بم دھماکوں میں ملوث بتا کر گرفتار کر لیا تھا۔کئی عارضوں میں مبتلا بوڑھے باپ کا کہنا ہے”لیاقت شاہ کے معاملے نے ایک بار پھر اِس بات کی ضرورت اُجاگر کی ہے کہ دِلی پولس کی اب تک کی سبھی دعویداریوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے“۔

وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ دس سال سے اُنکے بیٹے پر عائد ایک بھی الزام ثابت نہیں ہو پایا ہے لیکن اِسکے باوجود بھی وہ تہار جیل میں پڑا ہوا ہے۔تہار جیل میں ہی بند ایک اور کشمیری نوجوان رفیق احمد شاہ کی والدہ کہتی ہیں”کشمیر یونیورسٹی جیسے معتبر ادارے نے لکھ کے دیا ہے کہ دھماکوں کے دِن میرا بیٹے معمول کی طرح اپنی کلاس میں موجود تھا لیکن اِسکے باوجود اُسے پھنسایا گیا اور دس سال ہوئے وہ جیل میں بند پڑا ہے“۔

وہ کہتی ہیں کہ لیاقت شاہ کے معاملے کی ہی طرح اُنکے بچوں کی گرفتاریوں میں بھی ایسے سوالات ہیں کہ جنکے جواب تلاش کئے جائیں تو نہ جانے کتنے ہی بے گناہوں کی کال کوٹھریوں کے دروازے اُنکے گھروں کی جانب کھل جائیں گے۔
کیا اربابِ اختیار مذکورہ بالا سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کے لئے این آئی اے جیسی ایجنسیوں کو اختیار دینگی اور کیا ”بریکنگ نیوز“کے بھوکے میڈیا اِدارے اپنی جانب سے کسی تحقیق و تنقید کے بغیر اِنتہائی سنسنی کے ساتھ خبریں نہ چلانے کا سبق سیکھیں گی۔

یاد رہے کہ لیاقت شاہ کی گرفتاری کی خبر کو لیکر میڈیا نے کوئی سوال اُٹھائے بغیردِلی پولس کی یوں پیٹھ تھپتھپائی تھی کہ جیسے ایک مشتبہ حملہ آور کو نہیں پکڑا گیا تھا بلکہ اٹم بم کو پھٹنے سے ایک ساعت قبل ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔
لیاقت شاہ کے معاملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے ساتھ ساتھ اُن میڈیا اِداروں کی بھی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے ، جو دِلی پولس یا ایسے اِداروں کی دعویداری پر سوال نہ اُٹھانے کی غیر صحت مندانہ روش اِختیار کر چکے تھے ،کہ وہ سبھی مشکوک دعویداریوں پر سوال بھی اُٹھائیں اور اُنکی تحقیقات کرانے پر بھی زور دے۔

گو لیاقت شاہ کی قسمت تھی کہ اُنکے معاملے کی تحقیقات ہو پائی ورنہ کپوارہ ضلع کے ہی عمران کرمانی نامی ہوائی جہازوں کے انجینئر اور اننت ناگ ضلع کے ایک سیول انجینئر فاروق خان کے ساتھ ہوئیں ناانصافی بھی توجہ کی طالب ہیں۔دونوں کو بالترتیب پانچ سال اور بیس سال کا طویل عرصہ ہندوستان کی مختلف جیلوں میں گذارنا پڑا ہے جسکے بعد عدالت نے اُنہیں بے گناہ پاتے ہوئے باعزت بری کر دیا ہے۔اِن سبھی کی بے گناہی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت نے گویا اِنکے ساتھ انصاف تو کیا ہے لیکن کیا یہ انصاف تب تک انصاف کہلایا بھی جا سکتا ہے کہ جب تک نہ اِنکی زندگی کے بہترین ماہ و سال کو برباد کرکے اپنے لئے ترقی کے راستے بنانے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے…؟(بشکریہ عالمی سہارا،دلی)
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-02-05

کالم نگار     :     صریر خالد

صریر خالد ایک معروف کشمیری قلمکار ہیں۔سرینگر میں مقیم صریر خالد سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں

صریر خالد کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-