تازہ ترین : 1

موقع

ندیم تابانی:

26جنوری ہندوستان کا یوم جمہوریت ہے ، 1950میں اس روز ہندوستان کی دستور سازاسمبلی نے نئے آئین کی منظوری دی، یہ دن بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے ، عام چھٹی ہوتی ہے، فوج پریڈ کرتی ہے ، اسلحے کی نمائش کی جاتی ہے ہندوستان کے وزیر اعظم مسٹر موڈی نے گزشتہ سال امریکی دورے کے موقع پر مسٹر اوباما سے یوم جمہوریہ کی خصوصی تقریب میں مہمان خصوصی بننے کی فرمائش کی ، جسے مسٹر اوباما نے کمال محبت سے قبول کیا ، پاکستان اور پاکستانی یقینا کافی جلن کڑھن محسوس کر رہے ہیں اس لیے کہ محبوب رہ نما اوباما دوسری بار رقیب کے گھر جا رہے ہیں اور اس بار تو یوم جمہوریہ پر جب ہندوستان کی افواج پریڈ کریں گی ، اسلحے کی نمائش ہو گی ، گویا پاکستان کا ازلی اور ابدی دشمن دنیا کے سب سے طاقت ور حکم ران کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے ، یہ تو دل جلانے کی باتیں ہیں ، اپنی طبعی مروت کے ہاتھوں مجبور اوباما نے چند مہینے پہلے میاں نواز شریف کو فون کر کے اپنے دورہ ہندوستان کے بارے میں بتایا اور میاں صاحب کے خیالات جاننا چاہا۔


پاکستان اوباما کے دورے میں تو رکاوٹ نہیں بن سکتا ، پاکستان اوباما کو پاکستان بھی نہیں بلا سکتا ، پاکستان یہ بھی نہیں کر سکتا کہ اوباما اس روز ہندوستان سے دوستی کا اظہار نہ کریں یا محبت بیان کرنے میں ہاتھ ذرا ہلکا رکھیں،لیکن پاکستان یہ خواہش ضرور رکھتا ہے کہ اوباما ہندوستان سے اس بابت ضرور بات کریں کہ مسئلہ کشمیر حل کرے ، پاکستان کو نیچا دکھانے اور سازشیں کرنے سے باز رہے ، پاکستان میں مداخلت نہ کرے، یا کم ازکم مسٹر اوباما مسٹر موڈی کے پہلو میں کھڑے ہو کر پاکستان کے خلاف بات نہ کریں ، بتایا جاتا ہے کہ میاں صاحب نے کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ باتیں مسٹر اوباما سے فون پر کر لی تھیں،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان میں ان کو ہندوستان کی شرارتوں اور مداخلت کے ثبوت دیے گئے ہیں۔

لیکن ۔۔۔۔۔
یہ لیکن بہت ٹیڑھا ہے ۔۔۔۔ ایسی ہی کئی رپورٹیں اور مداخلت کے کئی ثبوت ہندوستان نے اوباما کے لیے تیار کر رکھے ہیں، ابھی اوباما ہندستان نہیں پہنچے لیکن انڈیا ٹو ڈے کو دیے گئے انٹرویو میں اوباما نے پاکستانی کوششوں کی کچی کر دی ہے” پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ناقابل قبول ہیں“ ٹھکانے کہاں ہیں، جب کہ پاکستانی حکومت جماعة الدعوہ تک پر پابندی کا اعلان کر چکی ، دیگر تنظیموں کے خلاف تو پہلے ہی پورے زور و شور سے کارروائی ہو رہی ہے ، گرفتاریاں ، پھانسیاں ، مقدمات ، فوجی عدالتیں اور بہت کچھ لیکن اس سب پر امریکا ہی یقین کرنے کو تیار نہیں تو ہندوستان کو کیسے یقین دلائے گا، مسٹر موڈی یقینا اپنا زہر انڈیلنے کی کوشش کریں گے۔


####
”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ “،اور ”دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے“ پاکستان نے نہ تو امید توڑی ہے نہ ہی کوشش ترک کی ہے کہ اوباما چند جملے ایسے بول دیں کہ پاکستانیوں کے دل میں ٹھنڈ پڑ جائے ، لیکن ٹھنڈے موسم کے باوجود تا حال ایسی کسی ٹھنڈ کا امکان نہیں ، البتہ جان کیری اس کوشش میں ضرور ہیں کہ امریکا پاکستان پر ہاتھ ہلکا رکھے ، اور ہندوستان کو ہلکی پھلکی چپت ضرور لگائے جو ہو تو پیار بھری لیکن اس سے موڈی کے شرارتی مزاج پر چوٹ پڑے، جان کیری میاں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو آم کھلانے نہیں آئے تھے، وہ سن گن لینے آئے تھے، جان کیری کا خیال ہے کہ پاکستان کے فوجی جنریل کا دماغ کافی گرم ہے اور میاں نواز شریف کو جنرل ضیا کا شاگرد رشید ہونے کا اعزاز حاصل ہے ، کیا پتا کب دونوں پلٹ جائیں، ہیں دونوں ضدی، بگڑ گئے تو امریکا کو لینے کے دینے پڑسکتے ہیں۔


####
سابق صدر پرویز مشرف شاہ عبد اللہ کے انتقال پر تعزیت اور نئے شاہ سلمان بن عبد العزیز کو مبارک باد دینے سعودیہ جانا چاہتے ہیں، وزارت داخلہ سے باقاعدہ درخواست کر دی گئی ہے، میاں صاحب قریبی ساتھیوں سے مشورے کے بعد فیصلہ کریں گے۔ اس خبر کی روشنی میں بعض واقفان حال کا کہنا ہے پرویز مشرف اور میاں صاحب دونوں کے لیے ایک دوسرے سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے ،پرویز مشرف شاہی خاندان سے ملنے کے بعد وطن واپس نہ آنا چاہیں ، یا آکر پھر جانا چاہیں تو میاں حکومت رکاوٹ نہیں بن سکے گی ،یا نہیں بننا چاہے گی ، کیوں کہ ولی عہد مقرن بن عبد العزیز میاں صاحب کی طرح پرویز مشرف کے بھی کام آسکتے ہیں، میاں صاحب کے کچھ حاشیہ نشین ان کو ڈٹ جانے اور معاملہ عدالت پر ڈالنے کا مشورہ دینے کا سوچ رہے ہیں ،تا ہم کچھ باریک بین ساتھی میاں صاحب کو رائے دے رہے ہیں کہ اس بلا سے جان چھڑائیں۔

جو وسائل اور توانائی پرویز مشرف کی سیکورٹی مقدمات اور ان کے دیگر معاملات پر خرچ ہو رہے ہیں وہ ملک کی ترقی اور مسائل کے حل پر خرچ ہوں گے۔فوج بھی یہی خواہش رکھتی ہے، میاں صاحب فوجی قیادت کا دل جیت سکتے ہیں ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : پیر جنوری
Nadeem Tabani

کالم نگار : ندیم تابانی

ندیم تابانی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے