تازہ ترین : 1

نہ مِٹ سکے گا یہ خونِ ناحق

پروفیسر رفعت مظہر:

کَرب کی لہروں پہ سوار، رنج والم میں گُندھا یومِ عاشور آن پہنچا ۔فضائیں سوگوار، سَرسراتی ہواوٴں میں سِسکیوں کی گونج، قلم میں سَکت نہ الفاظ کی وہ سواریاں جِن پر اپنے جذبات کو سوار کرکے کربلا بھیج سکوں۔چودہ صدیاں بیت گئیں لیکن سانحہٴ کربلا پر وقت کی دھول کا ایک ذرہ بھی نہ جم سکا ،یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ابھی کل کی بات ہو کہ خانوادہٴ رسول پر پانی بند کر دیا گیا۔

دریائے فرات بھی حیران وپریشان اورپشیمان کہ اگر اُس کا پانی اہلِ بیت کے لیے نہیں تو پھر یہ خُشک کیوں نہیں ہو جاتا ۔10 محرم کی صبح ،صبحِ بے نور اور شام ،شامِ غریباں۔ ناناﷺ کے دوشِ مبارک پہ سواری کرنے والے حسین ابنِ علی کا سَر جونہی نیزے پر سوار ہوا ،کوفیوں نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ بظاہر یہی نظر آتا تھا کہ طاغوت فتح یاب ہوا اور ابلیسیت کامران ٹھہری لیکن ایسا کبھی ہوا نہ ہوسکتا ہے کہ ”حق“ کی ہار ہو اور ”باطل“کی جیت اسی لیے کوفیوں کے کانوں ،آنکھوں اور دلوں پر لگی جہالت کی مہروں نے اُنہیں آسمانوں سے اترتی فرشتوں کی یہ منادی سُننے ہی نہ دی کہ
شاہ است حسین ،پادشاہ است حسین
دیں است حسین ،دیں پناہ است حسین
سَر داد ،نہ داد دست دَر دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا اِلہ است حسین
حسین کی جیت ہوئی اوریزیدہمیشہ کے لیے لعین ٹھہرا ۔

منصفِ اعلیٰ نے فیصلہ کر دیاکہ”قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے“۔ ابدی حقیقت بھی یہی ہے اور دینِ مبیں کی اصل روح بھی یہی کہ”جابر سلطان کے سامنے کلمہٴ حق کہنا جہاد ہے“۔ حسین ابنِ علی نے نہ صرف کلمہٴ حق کہا بلکہ اُس پر اپنے خون کی مہرِ تصدیق بھی ثبت کر دی۔آپنے فرمایا”جب تم جان لوکہ تم حق پرہو تو پھر جان کی پرواہ کرو نہ مال کی“۔

آپ پر یہ حق پوری طرح عیاں ہوچکا تھا کہ یزیدلعین ہرگز اِس قابل نہیں کہ اُمتِ مسلمہ کی باگ ڈور اُس کے سپرد کردی جائے ۔وہ کسی ذاتی منفعت کے لیے نہیں ،نانا کے دین کو بچانے نکلے تھے ،اسی لیے اُنہوں نے فرمایا”مجھ جیسا کوئی یزید کی بیعت نہیں کر سکتا“۔ یہی وہ ابدی وآفاقی پیغام تھا جسے سیّد ا لشہدا نے اپنے خون سے رقم کیا ۔ یہ خونِ حسین ہی کی دین ہے کہ حسینیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عدل اور یزیدیت جبر کی علامت ٹھہری ۔

نوجوانانِ جنت کے سردار حسین ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے اور ابلیسیت کا علمبردار یزید راندہٴ درگاہ ۔سوال مگر یہ ہے کہ جس دین کو بچانے کے لیے حسین ابنِ علی نے اپنا پورا خاندان قُربان کر دیا، اُس دین کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا؟۔ کیا سانحہٴ کربلا کا سوگ مناکر ہم نے وہ حق ادا کردیاجس کے لیے خانوادہٴ رسول نے اپنے معصوم اور پاکیزہ خون سے کربلا کی ریت کو لہورنگ کیا؟۔

کیا یہ عین حقیقت نہیں کہ یہاں گفتار کے غازی تو لاکھوں کروڑوں لیکن کردار کا غازی ایک بھی نہیں ؟۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہم آرٹیکل 62 اور 63 سے محض اِس لیے خوفزدہ ہیں کہ یہ دینِ مبیں کے عین مطابق ہیں اور اگر سپریم کورٹ نے اِن آرٹیکلز کی اصل روح کے مطابق فیصلہ کر دیا تو ہماری اسمبلیوں میں اُلو بولنے لگیں گے؟۔ کیا قائدِ اعظم نے یہ نہیں کہا تھا کہ اُنہیں زمین کا ایک ایسا ٹکڑا چاہیے جسے وہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر سکیں؟۔

73 کا آئین سَرآنکھوں پر لیکن کوئی بھی مسلمان جس میں ایمان کی رَتی بھررمق بھی باقی ہے وہ اِس آئین کو اُس وقت تک ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوگا ،جب تک اس کی ایک ایک شق قُرآن کے عین مطابق نہ ہو جائے کیونکہ ہمارے نزدیک تو قُرآن ہی مکمل ضابطہٴ حیات ہے ۔ابنِ علی کا درس تو یہی تھا کہ حق کی خاطر جان کی پرواہ کرو نہ مال کی لیکن حق ہے کہاں؟۔

آجکل تو الیکٹرانک میڈیا پر واضح احکاماتِ ربی کا مذاق اُڑایا جاتا ہے ،اسلامی تعزیرات کو وحشت و بَربریت سے تعبیر کیا جاتا ہے ،اسلامی تعلیمات کو رجعت پسندی کہہ کر ٹھکرا دیا جاتا ہے اورملّی جذبہ وجنوں کو ”غیرت بریگیڈ“ کا نام دے کر طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں ۔اِس کے باوجود بھی دعویٰ یہ کہ ہم مسلمان ہیں اور اہلِ بیت کی محبت سے سرشار۔

کیا سانحہٴ کربلا کا درس یہی ہے کہ دین کو فرقوں میں بانٹ کر ایک دوسرے پر ایسے تہمتیں دھری جائیں کہ’خانوادہٴ رسول اور”یارانِ نبی“ دو متحارک گروپوں میں منقسم نظر آنے لگیں؟۔ حقیقت تو یہی ہے کہ
ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی ۔۔۔بو بکر و عمر ، عثمان و علی
ہم مرتبہ ہیں یارانِ نبی ۔۔۔ کچھ فرق نہیں اِن چاروں میں
کیا کوئی بھی شخص اُس وقت تک مسلمان کہلوانے کا دعویٰ کر سکتا ہے جب تک کہ وہ خانوادہٴ رسول کی محبت سے سرشار نہ ہویا یارانِ نبی کی الفت میں گرفتار نہ ہو؟۔

کیا کربلا کی عظیم قربانی کا درس یہی ہے کہ جس کو جی چاہے کافر قرار دے دو؟۔بجائے اِس کے کہ اِس دِن کے تقاضوں کے عین مطابق ہم اتحادویگانگت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ”یومِ عاشور“اکٹھے مِل کر منائیں ،ہمارے ہاں تو یہ رواج سا ہوگیاہے کہ جونہی محرم شروع ہوتا ہے ہم لفظی اور حقیقی تلواریں سونت لیتے ہیں۔حکومت سب کچھ بھلا کر عزاء داروں کی حفاظت میں جُت جاتی ہے اور قومی ہاتھ دُعا کے لیے کہ اللہ تعالیٰ یہ دَس دِن خیریت سے گزار دے لیکن تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود کہیں نہ کہیں ، کوئی نہ کوئی چھوٹا یا بڑا حادثہ رونما ہوہی جاتا ہے ۔

میرا دین تو کسی بھی کلمہ گو کو کافر کہنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے لیکن یہاں تو شیعہ سُنّی کو اور سُنی شیعہ کو بَرملا کافر بھی کہتے اور ایک دوسرے کی جان کے درپے بھی ہوتے ہیں۔ کلمہ گو دونوں ہی اور ختمِ نبوت پر ایمان رکھنے والے بھی۔ تمام انبیاء علیہ اسلام ، آسمانی کُتب ، فرشتوں اور یومِ آخرت پر ایمان لانے والے بھی ،پھر کافر کون ؟۔پھر جلسے جلوسوں پر دہشت گرد حملے کرنے والے کون ؟۔ وہ کون ہیں جو کائنات کی اِس عظیم ترین قُربانی کی اصل روح کو بھلا کر اپنی مرضی کا دین بنائے بیٹھے ہیں؟۔ کیا واقعی وہ مسلمان ہیں؟۔ سچ کہا تھا اقبال نے
یوں تو مرزا بھی ہو ، سیّد بھی ہو ،افغان بھی ہو
تُم سبھی کچھ ہو ، بتاوٴ تومسلمان بھی ہو
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : منگل نومبر
Professor Riffat Mazhar

کالم نگار : پروفیسر رفعت مظہر

رفعت مظہر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، روزنامہ نئی بات اور اُردو پوائنٹ کیلئے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔

پروفیسر رفعت مظہر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے