تازہ ترین : 1

ابوجہل کون ؟؟؟

پروفیسر رفعت مظہر:

عمربِن ہشام مشرکینِ مکّہ کاسردار تھا۔مشرکین کے تمام قبائل میں اُسے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھااورمشرکینِ مکّہ اُسے ابوالحکم یعنی دانائی کا باپ کہہ کر پکارتے تھے۔میرے آقاﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ عمر بن خطاب اور عمر بن ہشام،دونوں میں سے کسی ایک کو مسلمان کر دے۔آقاﷺ کی دُعا قبول ہوئی اورحضرت عمربن خطاب دائرہٴ اسلام میں داخل ہوئے لیکن یہ سعادت عمربن ہشام کے حصّے میں نہ آئی اوروہ ہمیشہ کے لیے ابوجہل یعنی جہالت کاباپ قرارپایا۔

اب بھی یہ عالم ہے کہ اگرکسی شخص کو ابوجہل کہہ کر پکاراجائے تووہ مرنے مارنے پر تل جاتاہے۔۔۔۔عشقِ عمران میں ڈوبے ایک محترم لکھاری کا خیال ہے کہ پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایسے ابوجہل اتنی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ گلوبادشاہ کی حکومت چاہے تو وہ اُنہیں برآمد بھی کر سکتی ہے۔یہ فیصلہ وقت پر چھوڑ دیجئے کہ ابوجہل کون ہیں،وہ جو موجودہ حالات میں دھرنوں کی سیاست کوملک وقوم کے لیے زہرِہلاہل سمجھتے ہیں یا وہ جو ایک ایسے شخص کو”کُرسی“تک پہچانے کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں جسے صرف اقتدار کی ہوس ہے ۔

جس نے نعرہ تو یہ لگایاکہ اُس کی جماعت میں صرف باکردار لوگ ہی شامل ہو سکتے ہیں لیکن اپنے دائیں بائیں ایسے لوگوں کو اکٹھا کر لیاجن کے خلاف بقول شخصے انقلاب آناچاہیے ،جس نے پاکستان میں ایک ایسا سیاسی کلچر متعارف کرایا جس کی بنیادہی انا،ضد اور ٹکراوٴ ہے، جس نے غیرپارلیمانی اور بازاری زبان کوسیاست کا حصّہ بنا کر اُسے آلودہ کردیااورجسے سچ بولنے کی سرے سے عادت ہی نہیں۔

یہ سیاسی کلچرملک کے لیے بہتر ہے نہ قوم کے لیے، عمران خاں کے لیے بہتر ہے نہ اُن کے مدح سراوٴں کے لیے ۔
بلاخوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ تحریکِ انصاف کا 28 اکتوبرکا جلسہ متاثرکُن تھالیکن یہ لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہر گزنہیں تھا۔یہ ایسا ہی سفید جھوٹ ہے جیسا ڈی چوک اسلام آباد میں ہر روز اُس وقت بولا جاتا ہے جب پانچ چھ ہزار کے مجمعے کو”انسانوں کا سمندر“کہہ دیاجاتا ہے ۔

اِس جلسے کو لاہورکی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ قرار دینے والے لکھاری یا تومرضِ نسیان میں مبتلاء ہیں یا پھر” بغضِ نوازلیگ“میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ سچائی لکھتے ہوئے اُن کے ہاتھوں پر رعشہ طاری ہو جاتا ہے۔بینظیربھٹو کا استقبالی جلوس اِس سے کہیں بڑا تھا اور حضرت مولانا مودودی جب امریکہ سے علاج کرواکر وطن لوٹے تو جلوس کا ایک سرا لاہور ایئرپورٹ اور دوسرا اچھرہ اُن کی رہائش گاہ تک پہنچ چکا تھا ۔

یہ غالباََ 1974ء کی بات ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ اُس وقت لاہور کی آبادی کروڑوں میں نہیں،چند لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔دور مَت جایئے،اسی مینارِ پاکستان کے سائے تلے علامہ طاہرالقادری نے جوجلسہ کیا تھا وہ خاں صاحب کے جلسے سے کہیں بڑا تھا۔ویسے بھی برِصغیر کی تاریخ تو یہی بتلاتی ہے کہ جلسے جلوسوں اور دھرنوں سے ووٹ نہیں ملاکرتے ۔1970ء کی الیکشن مہم میں جماعتِ اسلامی کے شوکتِ اسلام کے جلسے اور ریلیاں دیکھ کر حیرت گُم ہوجاتی تھی لیکن انتخابات میں بازی لے گئے بھٹومرحوم اور جماعتِ اسلامی کی جھولی خالی رہ گئی۔

عطاء اللہ شاہ بخاری کہاکرتے تھے کہ لوگ جوق دَرجوق اُن کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں لیکن ووٹ جناح کودے آتے ہیں۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خاں صاحب قائدِاعظم کے جانشیں ہیں لیکن ”چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک“۔حضرت قائدِاعظم کو اُن کے ڈاکٹر اُن کی بیماری کے بارے میں کھُل کر بتا چکے تھے لیکن پاکستان بنانے کی لگن میں اُنہوں نے اپنی بیماری کی بھی کوئی پرواہ نہ کی اور یہی نہیں بلکہ اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کوبھی اپنی بیماری کے بارے میں کسی کوبتلانے سے سختی سے منع کردیا۔

اُنہوں نے پاکستان حاصل کیا اور پھر سال سوا سال بعدہی اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔جبکہ دوسری طرف محترم عمران خاں کے ایک دھرنے نے ہی اُن کی شخصیت کا ایک ایک پرت کوکھول کے رکھ دیا۔سونامیے اسلام آبادکی سڑکوں پر بے یارومددگار”رُلتے“ رہے اور خاں صاحب اپنے بنی گالہ کے محل میں استراحت فرماتے رہے۔ قائدِاعظم کے بارے میں اُن کے دشمن بھی تسلیم کرتے تھے کہ اُنہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولالیکن محترم خاں صاحب نے گزشتہ پچاس دنوں میں اتنے یوٹرن لیے اور اتنے جھوٹ بولے کہ حساب رکھنا مشکل۔

صرف چند کاغذات کو ہوا میں لہرا دینے سے جھوٹ توسچ میں نہیں بدل سکتا البتہ جُزوقتی یقین کیا جاسکتا ہے لیکن جب سچائی سامنے آتی ہے تو پھر لوگوں کا ردِعمل بھی انتہائی خوفناک ہوتاہے۔ خاں صاحب نے آج تک جتنے بھی دعوے کیے ہیں اُن میں سے کسی ایک کا ثبوت بھی نہ تووہ خود پیش کر سکے اور نہ ہی اُن کے قصیدہ گو۔ ایسے لکھاریوں کے بارے میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کردے تاکہ وہ اپنی”ابوجہلانہ“روش ترک کرکے راہِ راست اختیارکر سکیں اوراُس شخص کے دست و بازو بننے سے گریز کریں جس کی ہوسِ اقتدارنے اُسے ”ہیرو“سے ”زیرو“ بنا کے رکھ دیا۔


آجکل”گو نواز گو“کا بہت شور ہے ۔یقیناََ جس نے بھی یہ نعرہ ایجاد کیا وہ دِل کی گہرائیوں سے میاں نوازشریف کا حامی ہوگا۔عقل کے اندھے ”سونامیوں“کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ گونوازگو کا مطلب ”قدم بڑھاوٴ نوازشریف“ہے اور یقیناََ جولوگ پاکستان کو معاشی طور پر اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں ،یہ نعرہ اُن کے دِل کی آواز ہے اِس لیے اکابرینِ نوازلیگ کو اِس نعرے پرتِلملانے کی بجائے مُسکرانا چاہیے البتہ یہ گُلو، بِلو،تومی ،پومی اورتوفی بَٹ والا معاملہ ذرا مختلف ہے۔

پتہ نہیں اِن ”بٹوں“کو کیا ہوا ہے کہ جہاں کہیں سونامیوں کو دیکھتے ہیں ،یہ اپنا ”پھینٹی پروگرام“شروع کر دیتے ہیں حالانکہ ہم تو بیچارے سونامیوں کو مظلوم سمجھتے ہیں کیونکہ یہ تو خوابوں خیالوں میں اپنے آپ کوپورے ملک کے بادشاہ بلکہ شہنشاہ سمجھ بیٹھے تھے لیکن جب عالمِ آب وگِل میں واپس آئے تو پتہ چلاکہ ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سُنا افسانہ تھا“۔

اب توماشاء اللہ تحریکِ انصاف کے پاس بھی ایک ایسا” بَٹ“موجود ہے جو اِن سارے بَٹوں پر بھاری ہے ۔نام اُس کا ہے ڈی جے بَٹ اور اُس کے بغیر خاں صاحب کے سارے جلسے روکھے پھیکے اور پھسپھسے لگنے لگتے ہیں ۔وہ دو دِن کے لیے جیل کیا گیا خاں صاحب کے دھرنے کی ساری رونقیں بھی ساتھ ہی لے گیا۔شکر ہے کہ اُسے رہائی ملی اور سونامیوں کے چہرے بھی خوشی سے دمکنے لگے ،یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں کویہ رہائی بُری طرح کھٹکنے لگی۔

در اصل یہ وہی لوگ ہیں جو قوم کے نونہالوں کوناچتے گاتے دیکھ نہیں سکتے ۔ اسی لیے تومحترم عمران خاں کے ایک مدح سَرانے ایسے لکھاریوں کو لفافہ یافتہ میڈیا کے کارندوں ،مراسیوں،ڈوم ڈھاریوں،بھانڈوں، کفش برداروں اور قصیدہ نگاروں کے نام سے یاد کیاہے اور درست یاد کیا ہے کیونکہ ماڈرن معاشروں میں یہی کچھ توہوتا ہے جو خاں صاحب کے جلسوں میں ہورہا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com
وقت اشاعت : پیر اکتوبر
Professor Riffat Mazhar

کالم نگار : پروفیسر رفعت مظہر

رفعت مظہر شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں، روزنامہ نئی بات اور اُردو پوائنٹ کیلئے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔

پروفیسر رفعت مظہر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے۔

کالم نگار سے رابطے کیلئے نیچے دئیے گئے فارم کو پر کیجئے