عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ نے سرکاری اداروں کو ڈھوک سیداں راولپنڈی میں واقع 108کنال ..
تازہ ترین : 1

عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ نے سرکاری اداروں کو ڈھوک سیداں راولپنڈی میں واقع 108کنال اراضی کی فروخت سے رو ک دیا

مذکورہ اراضی سکول ،کالج ،ہسپتال اور پلے گرائونڈ کیلئے مختص کرنے کے احکامات جار ی،عدالت کی جانب سے کیس کا فیصلہ9سال بعد سناد یا گیا

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جنوری2018ء)عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس فرخ عرفان خان نے سرکاری اداروں کو ڈھوک سیداں راولپنڈی میں واقع 108کنال اراضی کی فروخت سے روکتے ہوئے مذکورہ اراضی سکول ،کالج ،ہسپتال اور پلے گرائونڈ کیلئے مختص کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیںعدالت کی جانب سے کیس کا فیصلہ9سال بعد سنایا گیا ڈھوک سیداں اراضی کیس کا فیصلہ جسٹس فرخ عرفان خان نے پٹیشن کی سماعت کے بعد اکتوبر2017 میں تحریر کیا تھا جسے منگل کے روز یہ فیصلہ جسٹس خالد محمود ملک نے سنا یا عدالت نے اپنے فیصلے میں ڈھوک سیداں اراضی کیس کے فیصلے میں ملٹری اسٹیٹ آفس کو اربوں روپے مالیتی اراضی نیلام یافروخت کر نے سے روک دیا عدالت نے درخواست گزار کی جا نب سے پٹیشن میں اٹھائے گئے تمام نکات منظور کر تے ہوئے حکم دیاہے کہ وزارت دفاع صدر مملکت سے مفاد عامہ میں مذکورہ اراضی سے متعلق منظوری لے کر عدالتی حکم کی تعمیل کرے عدالت نے اراضی کو پبلک پارک ،پلے گراؤنڈ اور ہسپتال سمیت پنجاب حکومت کے ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاحی مقاصد کے استعمال بارے رپورٹ بھی طلب کر لی عدالت میں یہ رٹ شفاف سوسائٹی غازی آبادکے صدر محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی جس میں وزارت دفاع ،متعلقہ ادارے،حکومت پنجاب اورسیکرٹری محکمہ تعلیم پنجاب کو فریق بنا یا گیا تھا درخواست گزار محمد انوار ڈار ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایاکہ انہوں نے علاقہ مکینوں کی جانب سے 16اپریل 2009میں اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ایک درخواست بھجوائی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حلقہ این اے 52اور حلقہ این اے 54کے سنگم پر واقع غازی آباد کے علاقے میں لاکھوں نفوس پر مشتمل گنجان آبادی ہے تاہم علاقہ مکینوں کے لئے سرکاری سکول ،ہسپتال اور نہ ہی کھیل کا میدان موجود ہے جبکہ ڈھوک سیداں میں 108کنال 09مرلہ جگہ موجود ہے جسے علاقہ مکینوں کی ضروریات کے مطابق سکول کالج ہسپتال اور کھیل کے میدان کے لئے مختص کیاجائے بعدازاں اسی درخواست کو راولپنڈی بنچ میں پٹیشن کا حصہ بنایا گیا اور عدالت عالیہ کو بتایاگیا کہ مذکورہ جگہ مختلف سرکاری اداروں کو الاٹ کی جارہی ہے جبکہ اس سے قبل مذکورہ اراضی کی نیلامی کی کوشش بھی کی گئی جس پر شہریوں نے شدید احتجاج بھی کیا تھاانوار ڈار ایڈووکیٹ نے بتایاکہ گزشتہ سماعت پر جسٹس محمد فرخ عرفان خان نے ممبر کالونیز پنجاب کو طلب کر کے معاملے کی وضاحت مانگی تھی اس ضمن میں مختصر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا واضح رہے کہ ڈھوک سیداں میں 108کنال 09مرلہ اراضی پر پنجاب حکومت کے 2 کالجز کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ1 گرلز ڈگری کالج میں کلاسوں کا باقاعدہ اجرا بھی ہو چکا ہے عدالتی فیصلے کے بعد پٹیشنر انوار ڈار ایڈووکیٹ نے کہاکہ عدالتی فیصلہ خوش آئند ہے مذکورہ فیصلے پر عمل در آمد کے بعد لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی کے لئے کھیل کے میدان ،ہسپتال اور پبلک پارک کا مطالبہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ۔

وقت اشاعت : 23/01/2018 - 20:45:05

اس خبر پر آپ کی رائے‎