بشیر حسین جعفری پوری امت اسلامیہ کا اثاثہ تھے‘ مرحوم تعصب کی جھکڑ بندیوں سے آزاد ..
تازہ ترین : 1

بشیر حسین جعفری پوری امت اسلامیہ کا اثاثہ تھے‘ مرحوم تعصب کی جھکڑ بندیوں سے آزاد اور تمام برادریوں کے لیے اعلیٰ نمونہ تھے‘ ان کی روشن کی گئی علم و ادب کی شمع پوری خطے کو منور کر رہی ہے‘ بشیر حسین جعفری نے اپنے قلم کی طاقت اور قوت گویائی سے تحریک آزادی کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں

صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان کا معروف ادیب ، مصنف و دانشور پروفیسر سید بشیر حسین جعفری کی دوسری برسی پر منعقدہ تقریب سے خطاب

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جنوری2018ء) صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بشیر حسین جعفری مرحوم نہ صرف کشمیری اور پاکستانی قوم بلکہ پوری امت اسلامیہ کا اثاثہ تھے۔ مرحوم تعصب کی جھکڑ بندیوں سے آزاد تھے ، اور تمام برادریوں کے لیے اعلیٰ نمونہ تھے ۔ ان کی روشن کی گئی علم و ادب کی شمع پوری خطے کو منور کر رہی ہے۔

انُہوں نے نہ صرف اپنے قلم کی طاقت اور قوت گویائی سے تحریک آزادی کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں بلکہ وہ تحریک آزادی کشمیر میں عملی طور پر بھی شریک ہوئے ۔ ان خیالات کا اظہار صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے معروف ادیب ، مصنف و دانشور پروفیسر سید بشیر حسین جعفری کی دوسری برسی پر ان کی رہائش گاہ گلشن آباد اڈیالہ روڈ پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر ریاست نے بشیر حسین جعفری مرحوم کی لائبریری کا افتتاح کیا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ریاست نے کہا کہ بشیر حسین جعفری مرحوم کی یاد کو عوام کے دلوں میں زندہ رکھنے کے لیے ان کے صاحبزادے شباحت جعفری اور ان کی صاحبزادیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ بشیر حسین جعفری پاکستان اور کشمیر کے ابدی رشتوں کے داعی تھے ، جنہوں نے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے قلمی جہاد کیا۔

آزاد کشمیر سمیت پاکستان بھر میں آج لوگ برادریوں ، قبیلوں اور تفرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ، لیکن بشیر حسین جعفری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی چاہنے والے تمام برادریوں اور قبیلوں میں موجود ہیں ، وہ تمام برادریوں کی پہچان تھے ۔ کشمیر اور پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر یونیورسٹی میں بشیر حسین جعفری مرحوم کی چیئر کے حوالے سے جو تجاویز دی گئی ہیںانہیں آئندہ وائس چانسلر کے اجلاس ، جس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین بھی شریک ہونگے ، اس اجلا س ایجنڈے میں شامل کریں گے۔

باغ وویمن یونیورسٹی کی لائبریری کو بشیر حسین جعفری مرحوم کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز پر جلد عملدرآمد کروائیں گے، اور اس سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال بشیر حسین جعفری مرحوم کی تیسری برسی کشمیر ہائوس کے ملٹی پرپز ہال میں منعقد کی جائے گی، جس کی میزبانی کا شرف ایوان صدر کو حاصل ہو گا۔ صدر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے مجبور و محصور لوگ ہندوستانی ظلم کی ننگی شمشیر وں سے بڑی بے دردی کے ساتھ شکار ہو رہے ہیں ، وہاں کے بچے ، بوڑھے اور خواتین بھارتی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تحریک آزادی کشمیر نازک موڑ پر ہے اس لیے ہم کشمیری جو اس پار آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں ، ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کے محکوم ، مظلوم اور محصور کشمیریوں کی آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں اورہر فرد اپنے اپنے طور پر کردار ادا کرے ۔ بھارت ظلم و بربریت سے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بہادر بہن ، بھائیوں کو برے طریقے سے کچل رہا ہے ، بھارتی فورسز نے انسانی حقوق کو سلب کر رکھا ہے ، کشمیریوں کی منزل ابھی دور ہے اور ہم سب کا فرض ہے کہ ان کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں ، نوجوان نسل ذرائع ابلاغ اور خاص کر سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک آزادی کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

تقریب میں ملک کے ممتاز دانشور ، صحافی ، سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں ممبر کشمیر کونسل عبدالخالق وصی ، ممبر اسمبلی سردار صغیر چغتائی ، سابق ایم ۔ ایل۔ اے محترمہ مہر النساء ، سابق مشیر حکومت سردار عبدا لرازاق ایڈووکیٹ ، بریگیڈئیر ریٹائرڈ اختر ، بریگیڈئیر ریٹائرڈ اکبر ، محترمہ شمیم اشرف و دیگر اصحاب نے شرکت کی۔
وقت اشاعت : 22/01/2018 - 16:12:17

اس خبر پر آپ کی رائے‎