خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین کے مابین ہاتھاپائی،گالم گلوچ کا تبادلہ
تازہ ترین : 1

خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین کے مابین ہاتھاپائی،گالم گلوچ کا تبادلہ

۔اجلاس کے دوران نگہت اورکزئی بھی اپنے اعصاب پر قابو نہ پاسکیں اور صوبائی حکومت پرکڑی تنقید کی وزیر اعلی کے مشیربرائے اطلاعات مشتاق غنی تمام معاملہ میڈیاکے سامنے گول کرگئے کہاکہ جاوید نسیم نے عمران خان کو گالیاں دیں جس پرارباب جہاندادکو غصہ آگیا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔23 مئی۔2016ء) خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین کے مابین ہاتھاپائی،گالم گلوچ کابھی تبادلہ ہوا۔اپوزیشن بینچوں سے شیم شیم کے نعرے گونج اٹھے۔پیرکے روزخیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر مہرتاج روغانی کے صدارت میں شروع ہوا تو اس دوران پی کے 8کے ضمنی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والے ن لیگ کے ارباب وسیم حیات نے اسمبلی رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا اس موقع پر مسلم لیگ ن کے سردار نلوٹھ، مشتا ق احمد غنی ،اپوزیشن لیڈر لطف الرحمان،سکندر شیر پاؤ اور جعفرشاہ نے وسیم حیات کو پی کے آٹھ کے ضمنی انتخابات جیتنے پر مبارک باد دی۔

اس دوران مسلم لیگ ن کے سردار نلوٹھہ نے محکمہ انتظامی امور کیجانب سے اسمبلی ملازمین کو سول سرونٹس کا درجہ نہ دینے اوران کے لئے سرکاری رہائش کا بندوبست نہ کرنے کے خلاف ایوان میں تحریک التواء پیش کیا جس پر بحث کرتے ہوئے سردار نلوٹھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق چارصوبائی اسمبلیوں،سینٹ اور قومی اسمبلی کے ملازمین سول سرونٹس ہیں اور دیگر ملازمین کی طرح محکمہ اسٹبلشمنٹ انہیں بھی مراعات اور سہولیات فراہم کرے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اس وقت مچھلی بازار بن گیا جب مسلم لیگ ن کی رکن آمنہ سردار کے توجہ دلاؤ نوٹس کے دوران پی ٹی آئی کے دواراکین جاوید نسیم اور ارباب جانداد کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوئی اور گالم گلوچ کا تبادلہ ہوا، اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن بینچوں سے شیم شیم کے نعرے گونج اٹھے،جاوید نسیم نے الزام عائدکیا کہ ارباب جاندار شراب کے نشے میں تھے جبکہ ارباب جاندار کا کہنا تھا کہ جاوید نسیم نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو گالیاں دیں جس پر انہیں غصہ آگیا، تاہم وزیر اعلی کے مشیربرائے اطلاعات مشتاق غنی تمام معاملہ میڈیاکے سامنے گول کرگئے ان کاکہناتھا کہ ارباب جانداد اور جاویدنسیم درمیان پی کے آٹھ میں ہونے والے انتخابات پر بحث ہوئی اور اس دونو ں ارکین اسمبلی کے مابین بحث ہاتھاپائی تک جاپہنچی،۔

اجلاس کے دوران نگہت اورکزئی بھی اپنے اعصاب پر قابو نہ پاسکیں اور صوبائی حکومت پرکڑی تنقید کی جس کے بعد کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کوبدھ کے روزتک ملتوی کردیا۔

وقت اشاعت : 23/05/2016 - 21:29:10

اپنی رائے کا اظہار کریں