صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم ..
تازہ ترین : 1

صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں اجلاس

وفاق کی طرف سے این ایف سی پر طلب کردہ ورکنگ پیپر جو تیار ہوچکے ہیں مرکز کو بھیجے جائیں،دیگر صوبوں سے بھی رابطے کئے جائیں اور اے پی سی کی تاریخ اور جگہ کا فوری تعین کیا جائے تاکہ مرکز کے پاس مزید تاخیر کا جواز ختم ہو

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 مئی۔2016ء)خیبر پختوپختوا حکومت نے نویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کے ناگزیر اور آئینی تقاضے کی تکمیل میں حد درجہ تاخیر اور صوبے کی مسلسل حق تلفیوں سے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے نیز سندھ و بلوچستان سمیت باقی صوبوں سے مشاورت کیلئے نیا لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے وفاق کو ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ جاری رکھنے کی بجائے نویں این ایف سی ایوارڈ کیلئے اجلاس جلد بلانے اور صوبائی حقوق کی واگزاری یقینی بنانے پر آمادہ کرنے کیلئے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں اجلاس ہو اجس میں نئے ایوارڈ کے بارے میں پیشرفت اور صوبائی حکومت کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ اس ضمن میں سفارشات مرتب کی گئیں اجلاس میں سیکرٹری خزانہ علی رضا بھٹہ، کنسلٹنٹ احتشام الحق اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ پروفیسر محمد ابراہیم خان سمیت کمیشن کے ممبران اور محکمہ خزانہ سے وابستہ سابق سینئر بیورو کریٹس نے بھی شرکت کی اور صوبے کو درپیش مسائل و مشکلات سے اگاہی کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کا کیس موثر انداز میں پیش کرنے کیلئے تجاویز پیش کیں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق کی طرف سے این ایف سی پر طلب کردہ ورکنگ پیپر جو تیار ہوچکے ہیں مرکز کو بھیجے جائیں،دیگر صوبوں سے بھی رابطے کئے جائیں اور اے پی سی کی تاریخ اور جگہ کا فوری تعین کیا جائے تاکہ مرکز کے پاس مزید تاخیر کا جواز ختم ہو مظفر سید ایڈوکیٹ نے ایوارڈ کے سلسلے میں مکمل حمایت پر اجلاس کا شکریہ ادا کیا تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز مالیاتی کمیشن سمیت صوبوں اور عوام کے حقوق کی ادائیگی انکے وسائل اور ضروریات کی بنیاد پر یقینی بنانے کی بجائے ہر معاملے کو مصلحتوں پر قربان کر رہا ہے جو کسی طرح بھی قومی یکجہتی اور ملکی مفاد میں نہیں ایسے میں صوبے کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا بھی ناگزیر ہو گیا ہے جس کیلئے جلد ہی ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات ہونگے افسوس کہ مرکز ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو اگلے سال جاری رکھنے پر تلا ہے حالانکہ یہ ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے قبل کا بنا ہے کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور محکموں کی منتقلی کے بعد صوبے پر مالی بوجھ ہزار گنا بڑھ چکا ہے لگتا ہے کہ چاروں صوبوں کے اتفاق رائے کے باوجود مرکز نئے ایوارڈ کیلئے اجلاس بلانے کی بجائے تاخیری حربے جاری رکھے گاحالانکہ مرکز کا اب 42.5فیصد نہیں بلکہ 20فیصد وسائل پر حق بنتا ہے جو صوبے بخوشی دینے کو تیار ہیں جبکہ باقی 80فیصد وسائل صوبوں کو ملنے چاہئیں واضح رہے کہ ساتویں این ایف سی کے تحت مرکز 42.55، پنجاب 51.74 فیصد، سندھ 24.55فیصد، خیبر پختونخوا 14.62فیصد اور بلوچستان 9.09فیصد فنڈز لے رہا ہے وفاق کے پچھلے این ایف سی اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ صوبائی خودمختاری کے بعد18ویں آئینی ترمیم، نیشنل ایکشن پلان، غیرملکی امداد کے شفاف استعمال کیلئے پائیدار ترقی کے اہداف اور سی پیک کے ممکنہ اثرات کے مطابق ایوارڈ کی تشکیل ہوگی مگر وفاق کی طرف سے کوئی پیشرفت نہ ہو سکی دوسری طرف وفاق کے قرضے 21ارب روپے سے تجاوز کر گئے جو 2008کے مقابلے میں دوچند ہیں اور افراط زر میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے مظفر سید ایڈوکیٹ نے اس بات کو بھی افسوسناک قرار دیا کہ پن بجلی منافع سمیت مرکز کی طرف سے نئے صوبائی بجٹ کیلئے ہمارے گارنٹی شدہ فنڈز 72ارب روپے تاحال ادا نہیں کئے گئے جو بجٹ کا 80فیصد سے زائد وسائل بنتے ہیں وفاق بتائے اب ہم بجٹ کیسے بنائیں جس کیلئے الگ اجلاس طلب کیا جارہا ہے تیل و گیس سیس کی مد میں 29ارب روپے اور 1991 کے پانی تقسیم معاہدے کے تحت 119ارب روپے کی ادائیگی بھی باقی ہے انہوں نے صوبے کے مسائل قومی سطح پر اجاگر کرنے پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی سیاسی بصیرت کو سراہا اور واضح کیا کہ صوبے کی مالیاتی حالت کی بہتری کیلئے ٹھوس اور دور رس اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکے ہیں انہوں نے اس استدلال سے مکمل اتفاق کیا کہ صوبے میں بیروزگاری، افغان مہاجرین و آئی ڈی پیز،دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کی وجہ سے غربت، بیروزگاری اور پسماندگی انتہا کو چھونے لگی ہے جس کا وفاق کو احساس ہونا چاہئے اور اسکی تلافی آئین کے مطابق حقوق کی جلد از جلد ادائیگی سے ممکن ہے ہمارے مالی نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے دہشت گردی کی مد میں فنڈز کے صرف ایک فیصد کی ہمارے صوبے کو فراہمی ہماری کمزور معیشت کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے اور اسے پانچ فیصد کرنا بھی ناگزیر ہو چکاہے اس صوبے کا معاشی استحکام پوری قومی ترقی کا ضامن بنے گا۔

وقت اشاعت : 12/05/2016 - 22:35:04

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں