وزیر اعظم کی احتساب کے عمل کیلئے مرتب شدہ حکمت عملی قبول نہیں،

وزیر اعظم کی احتساب کے عمل کیلئے مرتب شدہ حکمت عملی قبول نہیں،

احتساب کا عمل موجودہ دور سے شروع ہوکر 1947تک چلایا جائے، کرپشن کے خاتمے اور احتساب کیلئے جلد قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کرینگے، کرپشن فری پاکستان تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے ،احتساب کا مطالبہ پانامہ لیکس تک محدودنہیں پانامہ لیکس وہ حادثہ ہے جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا،وزیر اعظم اور انکے خاندان کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں، حکمران ٹولے کی مسلسل کوشش کے باوجود پانامہ لیکس سے وزیر اعظم اور اسکے خاندان کے نام نہیں نکالے جاسکے،اپوزیشن کی جانب سے احتساب کیلئے متفقہ ٹی او آرزاور حکمت عملی کی سفارشات بھیجے جانے کے بعد گیند حکمرانوں کے کورٹ میں ہوگا امیرجماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق کا پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 مئی۔2016ء ) امیرجماعت اسلامی سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان تحریک اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور یہ تحریک اور احتساب اب پاکستان کے ہر شہری کا نعرہ بن چکا ہے،احتساب کا مطالبہ پانامہ لیکس تک محدودنہیں بلکہ گذشتہ حکومتوں میں جن لوگوں نے ملکی خزانے کو لوٹ کر رقم بیرون ملک منتقل کی ہے ان سب کا احتساب وقت ضرورت ہے،وزیر اعظم کی جانب سے احتساب کے عمل کیلئے مرتب شدہ حکمت عملی قبول نہیں،احتساب کا عمل موجودہ دور سے شروع ہوکر 1947تک چلایا جائے اور جن لوگوں نے اختیارات کو قوم کی دولت لوٹنے کیلئے استعمال کئے ہیں ان سب کا احتساب ہو،پانامہ لیکس وہ حادثہ ہے جس سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاوزیر اعظم اور انکے خاندان کے نام پانامہ لیکس میں شامل ہیں حکمران ٹولے کی جانب سے مسلسل کوشش کے باوجود پانامہ لیکس سے وزیر اعظم اور اسکے خاندان کے نام نہیں نکالے جاسکے،اپوزیشن کی جانب سے احتساب کیلئے متفقہ ٹی او آرزاور حکمت عملی کی سفارشات بھیجے جانے کے بعد گیند حکمرانوں کے کورٹ میں ہوگا کہ وہ معاملے کو بگاڑتے یا سلجھاتے ہیں ،احتساب کا عمل ہر صورت الٹی طرف سے ہی شرو ع کرنا ہوگا،کرپشن روکنے احتساب کیلئے بہت جلد قومی اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کرنے جارہے ہیں اور اس بل کی منظوری کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کا تعاون حاصل کریں گے ۔

وہ جمعرات کو یہاں المرکز الاسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان،جنرل سیکرٹری خیبرپختونخوا عبد الواسع بھی موجود تھے،امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ ہم نے کرپشن فری پاکستان تحریک بھی شروع کی اور احتساب کا مطالبہ کیا اور الحمد للہ ہم نے سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کیا تھا آج بھی فخر کے ساتھ اپنے سابقہ وزراء،ممبران قومی و صوبائی اسمبلی،سینیٹرز حتیٰ کہ مرحوم مئیر کراچی سمیت دیگر مرحوم ممبران کو احتساب کیلئے پیش کرنے کا اعلان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور حکمران ٹولہ حقیقی اور نظر آنے والے احتساب کے حق میں نہیں وہ اگر احتساب کے حق میں ہوتے تو سابقہ حکومتوں سے شروع کرنے کی بجائے اپنے آپ سے احتساب کا عمل شروع کرتے لیکن انہوں نے سارا معاملہ ہی الجھادیا ہے، انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن لیڈر تمام اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پانامہ لیکس کے حوالے سے مشترکہ اور متفقہ ٹی او آرز کی سفارشات بھیجیں گے اگر حکومت نے وہ قبول کیے تو ہم سمجھیں گے کہ حکومت بحران کو ختم کرنا چاہتی ہے لیکن اگر حکومت وہ قبول نہیں کرتی تو ہم سمجھیں گے کہ وہ بحران کو مزید آگے بڑھانا چاہتی ہے اور حکومت اپنے لئے مزید بحرانوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم کرپشن کے خلاف اس تحریک کو مزید مئوثر بنانا چاہتے ہیں اور ہمارا پیش نظر صرف پانامہ لیکس ایک مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارے پیش نظر اس ملک میں مالیاتی کرپشن ،اخلاقی اورانتخابی کرپشن کا خاتمہ بھی ہے انہوں نے کہا کہ خود عدالتی نظام بھی اصلاح چاہتی ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے کرپشن فری پاکستان تحریک کو مزید مئوثر بنانے کیلئے 9مئی کو اسلام آباد میں جماعت کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس طلب کیا ہے تاکہ اس تحریک کو مزید تقویت ملے اور اس تحریک اور نعرے کو گلی کوچوں تک پہنچادیں انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں کرپشن فری پاکستان تحریک کے اگلے مرحلے کا بھی اعلان کریں گے اور ہر شہری کو اس تحریک کا پشتیبان بنائیں گے،انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس میں کرپٹ ٹولے کے چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں اس میں حکومت کے لوگ بھی شامل ہیں اور اپوزیشن کے لوگ بھی شامل ہیں اب پانامہ لیکس میں سب کچھ سامنے آنے کے بعد قوم کا فیصلہ ہی اٹل ہوگا اب چور کی شور میں احتساب کے روکنے اور کرپشن کو چھپانے کا وقت گذر چکا ہے وہ رویش اب تبدیل ہوگئی کہ چور مچائے شور کے نتیجے میں ایک دوسرے کو تحفظ دیا جاسکے اب بے رحمانہ احتساب پر ہی معاملہ ختم ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی بات کی کہ تمام سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کریں اور ان لوگوں کو پارٹیوں سے نکال دیں جن کے دامن پر کرپشن اور مالی بدعنوانی کے داغ ہیں اور ایسے افراد کو سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلی کی ٹکٹیں بھی نہ دیں انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ اب ہمارے اس تحریک کے نتیجے میں اس مخصوص ٹولے کے اسمبلیوں میں پہنچنے کے راستے بند ہوجائینگے،انہوں نے کہا کہ گذشتہ 68سال سے ایک کلب نے ملکی سیاست اور جمہوریت کو یرغمال بنایا ہے اور یہی ٹولہ ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتا چلا آرہا ہے اس سیاسی کلب سے انشاء اللہ ہم ملک و قوم کو نجات دلائینگے،انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں میں ایسے افراد موجود ہیں جن پر کوئی الزام نہیں ہم سیاسی جماعتوں کے ایسے نیک شہرت اور اچھے کردار کے حامل سیاستدانوں کو بھی کرپشن فری پاکستان تحریک کا حصہ بنائنگے انہوں نے کہا کہ ہماری یہ مہم سیاست کیلئے نہیں ہے یہ ایک خوشحال اور اسلامی اور کرپشن سے پاک پاکستان کیلئے ہے اور انشاء اللہ اس تحریک کو اب منطقی انجام تک پہنچائینگے۔

وقت اشاعت : 05/05/2016 - 21:52:43

اپنی رائے کا اظہار کریں