ٹیکس کا پیسہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں لگانے کیلئے منتقل ہوگا تو خزانہ میں پیسہ ..
تازہ ترین : 1
ٹیکس کا پیسہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں لگانے کیلئے منتقل ہوگا تو خزانہ ..

ٹیکس کا پیسہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں لگانے کیلئے منتقل ہوگا تو خزانہ میں پیسہ کہاں سے آئیگا؟،عمران خان

دس سال کے دوران 200ارب روپے کے درخت غیر قانونی طریقے سے کاٹے گئے، ٹمبر مافیا آف شورکمپنیوں والوں سے بھی گئے گزرے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کا تقریب سے خطاب

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 اپریل۔2016ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹمبر مافیا کو آف شورکمپنیاں رکھنے والوں سے بڑا مجرم قرار دے دیا۔ اگرجنگلات اسی طرح کٹتے رہے تو پاکستان جلد ریگستان بن جائے گاعمران خان نے کہا کہ ٹیکس کا پیسہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں لگانے کے لئے منتقل ہوگا تو خزانہ میں پیسہ کہاں سے آئے گا۔ ٹیکس چوری کرکے غیر قانونی کمپنیاں کھولنا عوام کے ساتھ دشمنی ہے‘ ہر ادارہ کرپشن میں گھیرا ہوا ہے اور حکمران ذاتی عناد کی خاطر چپ ہیں، عوام کے پیسے سے بیرون ممالک کاروبار کرنے کی بات میں نہیں بلکہ بین الاقوامی تحقیقاتی تنظیم کہتی ہے۔

عمران خان کا کہناتھاکہ پچھلے دس سال کے دوران دو سوارب روپے کے درخت غیر قانونی طریقے سے کاٹے گئے ۔ ٹمبر مافیا آف شورکمپنیوں والوں سے بھی گئے گزرے ہیں۔پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاور میں 50ویں کانووکیشن کی گولڈن جوبلی تقریبات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھاکہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کی زد میں آئے ہیں، ان تبدیلی کی روک تھام میں خیبر پختونخوا کا بلین ٹریز منصوبہ مدد گار ثابت ہوگا، جنگلات آگاناآئندہ نسلوں کیلئے مفید ہوگا۔

قیام پاکستان سے بلین ٹری منصوبے تک صرف 64کروڑ درخت لگائے گئے تھے ، تحریک انصاف نے ڈیڑھ سال میں اس سے زیادہ پودے لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارسٹ انسٹی ٹیوٹ پشاور ملک کا واحد ادارہ ہے جو جنگلات اور پودوں وغیر ہ تحقیق کرتی ہے ، شاید پنجاب میں جنگلات لگانے کی ضروت نہیں ہے اس لئے آج تک وہاں ایسا تحقیقی ادارہ قائم نہیں ہوسکا۔بلین ٹری منصوبہ نئی نسل کیلئے ایک منفرد تحفہ ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک‘ وزیرتعلیم عاطف خان ، شہرام ترکئی ، مشیر جنگلات اشتیاق ارمڑ‘ شاہ فرمان اور سیکرٹری فارسٹ نذر حسین بھی موجود تھے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 25/04/2016 - 20:44:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں