حکومت اپنے اعلانات اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام، پیرامیڈیکل سٹاف
تازہ ترین : 1

حکومت اپنے اعلانات اور وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام، پیرامیڈیکل سٹاف

جائز حل طلب مسائل و مطالبات کے حق میں مکمل ہڑتال و مظاہرے

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 مارچ۔2016ء)لیڈی ریڈنگ ہسپتال ،خیبر ٹیچنگ ہسپتال ، حیات آباد میڈیکل کمپلکس اور ضلع پشاور سمیت صوبہ بھر کے تمام ہسپتالوں میں پیرامیڈیکس نے اپنے جائز حل طلب مسائل و مطالبات کے حق میں مکمل ہڑتال کی ، صوبہ بھر سے پیرامیڈیکس جلوسوں کی شکل میں LRHپہنچتے رہے ، بعد ازاں ہزاروں پیرامیڈیکس ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے، صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کیلئے روانہ ہو ئے ،احتجاجی مظاہرے / جلسے سے صوبائی قائدین ، چیئرمین مذاکراتی کمیٹی لقمان گل،مرکزی صدر وصوبائی چیئرمین سراج الدین برکی ، صوبائی سیکرٹری جنرل سید روئیدار شاہ ،قائم مقام صوبائی صدر اسم گل مومند ، ایپکاکے مرکزی صدر اور آل گورنمنٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے صوبائی صدر محمد اسلم خان ،واپڈا ہائیڈرو یونین کے مرکزی چیئرمین اور گرینڈ اینٹی پرائیوٹائزیشن الائنس کے صدر گوہر تاج اور دیگر عہدیداران نے خطاب کر تے ہو ئے موجودہ حکومت کی جانب سے ملازمین کے ساتھ تحقیر آمیز روئیے پر شدید افسوس کا اظہار کیا کیونکہ یہی ملازمین حکومت کا پہیہ چلا رہے ہیں لیکن اسکے باوجو د خاص طور پر چھوٹے ملازمین تمام مراعات سے محروم ہیں ، موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد اب تک پیرامیڈیکس کے ساتھ بے شمار وعدے کئے اور کئی بار اعلانات بھی کئے ،لیکن پیرامیڈیکل سٹاف سمیت تمام لو پیڈ ہیلتھ ایمپلائز ہر قسم کے مراعات سے محروم ہیں، پیرامیڈیکل سٹاف جھوٹے وعدوں پر کب تک یقین کر یگی ، صرف اعلانات سے پیٹ نہیں بھرتا ، موجودہ حکومت میں پیرامیڈیکل سٹاف کی مسلسل حق تلفی ہو رہی ہے حکومت ایک طرف پہلے سے مراعات یافتہ طبقے کو نئے نئے مراعات دینے کی منظوری جبکہ مراعات سے محروم طبقے کیساتھ صرف وعدے کر رہی ہے ، خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز کو انستھیزیا الاؤنس ،نان پریکٹسنگ الاؤنس، ٹیچنگ الاؤنس کے علاوہ ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس جونیئر ڈاکٹرز کو 15000/- روپے اور سینئر ڈاکٹرز کو 10000/- روپے ماہانہ ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جارہا تھا جسکو بڑھا کر ایک لاکھ سے ڈیرھ لاکھ تک کر دیا گیا ہے ،وفاقی حکومت اسلام آباد میں تمام ہیلتھ ایمپلائز کو RUNNING BASIC PAYکے برابر ماہانہ ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جا رہا ہے، اور گریڈ وائز ہیلتھ رسک الاؤنس چار ہزار سے سات ہزار تک مانانہ بھی دیا جا رہا ہے پنجاب میں درجہ چہارم پیرامیڈیکس کو 1500/-روپے ماہانہ فکسڈ دیئے جا رہے ہیں،سول سیکریٹیریٹ میں چیف سیکرٹری سے لیکر چپڑاسی تک تمام ملازمین کو بلاتفریق سیکرٹریٹ الاؤنس دیا جا رہا ہے، جوڈیشری ڈیپارٹمنٹ میں چیف جسٹس سے لیکر نائب قاصد تک تمام ملازمین کو جوڈیشل الاؤنس دیا جا رہا ہے،جیل خانہ کے عملے کو بھی اسی طرح کا الاؤنس دیا جا رہا ہے خیبر پختونخوا کے پیرامیڈیکس ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس پھر بھی محروم ہیں کیا یہ انصاف ہے؟ اور جائز حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے ، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ سروس سٹرکچر /اپ گریڈیشن میں بھی بہت بڑا ظلم کیا گیا اور وزیر اعلیٰ صاحب نے جو وعدہ کیا تھا اسکے برعکس آٹے میں نمک کے برابر اپ گریڈیشن دیدی گئی جس میں سینئر موسٹ پیرامیڈیکس اور اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے حامل پیرامیڈیکس کو بری طرح نظر انداز کیا گیا جس سے انکی محرومی میں مزید اضافہ ہو ا،صوبے کے مختلف اضلاع میں PPHIکے نام سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں دوہرے ایڈمنسٹریشن کا نظام چل رہا ہے اور اس میں ملازمین پس رہے ہیں ،حکومت کی ان دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے پیرامیڈیکس میں شدید بے چینی پھیلی ہو ئی ہے، علاوہ ازیں فروری میں ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کو نسل کے ہڑتال کے باعث صرف غریب ملازمین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بناتے ہو ئے انکے انتقامی طور پر تبادلے کئے گئے جو موجودہ حکومت کی ناانصافی اور عدم مساوات کا کھلا ثبوت ہے حالانکہ صوبہ بھر کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں دیگر فرائض کے علاوہ% 95تشخیصی سہولیا ت پیرامیڈیکس ہی فراہم کر تے ہیں، اور اکثر اوقات حکومت اور دیگر ذمہ داران یہی کہتے ہیں کہ پیرامیڈیکس محکمہ صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،لیکن موجودہ حکومت نے محکمہ صحت کی ریڑ ھ کی ہڈی کو عدم توجہی اور جائز مراعات اور حقوق سے محروم رکھ کر کمزور کر دیا ہے ،حکومت کی اس ناانصافی کی وجہ سے قدرتی طور پر پیرامیڈیکس میں اشتعال پھیل رہا ہے۔

علاوہ ازیں فروری میں ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کو نسل کے ہڑتال کے باعث صرف غریب ملازمین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بناتے ہو ئے انکے انتقامی طور پر تبادلے کئے گئے جو موجودہ حکومت کی ناانصافی اور عدم مساوات کا کھلا ثبوت ہے یہی وجہ ہے کہ صوبہ بھر کے پیرامیڈیکس حکومت کے غیر سنجیدہ روئیے کی وجہ سے احتجاج اور ہڑتال پر مجبور ہیں جو عوام اور مریضوں کیلئے پریشانی کا سبب ہو گا،اسلئے حکومت کو سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے وعدوں کو ایفا کرنا چاہیئے ،تاکہ لوگ ان کے وعدوں کو سنجیدہ لیں اور ان کا اعتبار کر یں ، اگر حکومت سنجیدہ ہو تی تو ہمیں احتجا ج کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

صوبائی قائدین نے حکومت اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پیرامیڈیکس کے مندرجہ بالا مسائل حل کئے جائیں بصورت دیگر اس سے بھی سخت احتجاج پر مجبو ر ہو نگے، اس موقع پر قائدین نے آئیندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کر تے ہو ئے کہا کہ ہم حکومت کی بار بار وعدہ خلافی کے باوجود عوام اور مریضوں کے تکالیف کے پیش نظر ہڑتال کو چند دنوں کیلئے مئوخر کر تے ہو ئے مورخہ 04اپریل بروز پیر سے 08فروری 2016تک صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کے سامنے ڈویژنل صدور کی سربراہی میں احتجاجی کیمپ لگائینگے،جب کے پشاور میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا جائیگا جس میں صبح نو بجے تا تین بجے متعلقہ ڈویژنز کے تمام یونٹس کے عہدیداران دھرنا دینگے،اس دوران صوبہ بھر کے تمام ہسپتالوں کے پیرامیڈیکس علامتی احتجاج کے طور پر اپنے بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندہ کر اپنے جائز مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج جاری رکھینگے۔

اگر اسکے باوجود حکومت نے پیرامیڈیکس کے مسائل کے ح میں سنجیدگی کا مظاہر ہ نہ کیا تو اگلے مذاکراتی کمیٹی کے اگلے اجلاس میں احتجاج اور ہڑتال کا فیصلہ کر کے آئیندہ کے مزید احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائیگا۔خصوصی نوٹ: دوران ہڑتال حسب معمول مریضوں کو ایمرجنسی کو ر فراہم کر ینگے

وقت اشاعت : 29/03/2016 - 22:59:09

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں