جب بھی پشتو موسیقی کی بات ہوگی تو فضل ربی استاد کا نام ضرور یادر رکھا جائیگا نثارمحمد ..
تازہ ترین : 1

جب بھی پشتو موسیقی کی بات ہوگی تو فضل ربی استاد کا نام ضرور یادر رکھا جائیگا نثارمحمد خان اباسین یوسفزئی و دیگر

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28 مارچ۔2016ء) پشتو موسیقی کے فوک گلوکار فضل ربی استاد فوک موسیقی کے بادشاہ تھے اور جب تک پشتو موسیقی کی بات ہوگی تو فضل ربی استاد کا نام ضرور یادر رکھا جائیگا استاد فضل ربی کے ہم سے بچھڑے گیارہ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اپنی آواز کی بدولت وہ آج بھی ہم موجود ہیں استاد فضل ربی کے گائے ہوئے نغمے چالیس سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی مقبول ہیں ن خیالات کا اظہار محکمہ ثقافت کے تعاون سے لاسونہ ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام مردان پریس کلب میں فضل ربی استاد کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر نثار محمد خان، نامور ادیب اباسین یوسفزئی صدارتی ایوارڈ یافتہ موسیقار نذیر گل استاد، قسیم گل استاد، رباب استاد گلاب خیل محبوب باچا، فضل وہاب درد ، عرفان کمال اور اکبر ہوتی نے کیا۔

انہوں نے کہا کہ فضل ربی استاد اپنے دور کے انتہائی شہرت یافتہ گلوکار تھے اور انہوں نے پشتو فوک موسیقی کو نئی جہت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لاسونہ ویلفیئر نے یہ ایک اچھا قدم اٹھایا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ فضل ربی استاد کے گائے ہوئے گیتوں کو محفوظ کیا جائے اور نوجوان نسل کو اس سے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے چاہئے مقررین نے کہا کہ فضل ربی استاد ستار کے سروں کو چھیڑنے کے ساتھ ساتھ وہ دوستوں کی محفلوں میں ایک مخصوص انداز میں ٹپے گایا کرتے 1961 میں فضل ربی اور ریڈیو کے درمیان باقاعدہ رشتہ استوار ہو گیا ہر چند کو اپنی روایات سے اس طرح بغاوت کرنا مشکل تھا لیکن مرحوم فضل ربی اپنی دھن کے پکے تھے اس لئے جوں جوں ان کے نغمے نشر ہوتے رے ان کے چاہنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔

استاد فضل ربی بنیادی طور پر لوک گائیک تھے انہوں نے پشتو ٹپے کو اپنے مخصوص انداز سے گا کر اسے مقبولیت کی معراج تک پہنچا دیا اور یوں دیہی علاقوں میں اس کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ان دنوں ریڈیو پاکستان پشاور کے پروگرام براہ راست نشر ہوتے تھے نوجوان، بوڑھے، خواتین سب کو فضل ربی کے ٹپوں کا انتظار رہتا تھا استاد فضل ربی کے مطابق لوگ اس کو ایک نظر دیکھنے کے لئے دور دراز علاقوں سے آیا کرتے تھے کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ خواتین نے تندوروں میں لگی روٹیاں چھوڑ کر ریڈیو سے کان لگائے اور جب پتہ چلتا تو سب کچھ جل چکا ہو تا تھا۔

مقررین نے کہا کہ استاد فضل ربی کے گائے ہوئے نغمے چالیس سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی مقبول ہیں۔ استاد فضل ربی کے اکثر نغموں میں آنکھوں کے موضوع پر ٹپے شامل ہوتے تھے۔ انہوں نے ملک کے طول و عرض میں اپنی آواز سے لوگوں کے جذبات کی بھر پور ترجمانی کی ایک اچھے فن کار کے ساتھ ساتھ استاد فضل ربی ایک انتہائی مشفق دوست اور اپنی روایات پر مرمٹنے والے انسان تھے وہ مہمانوں کو نعمت سمجھتے تھے۔

استاد فضل ربی کو آخر دم تک3000سے زیادہ ٹپے زبانی یاد تھے۔وہ خوش آواز ہونے کے ساتھ خوش نویس بھی تھے اس لئے اپنے تمام نغموں اور ٹپوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھے ہوئے تھے۔ لیکن اپنی آواز کا جو اثاثہ وہ اپنی قوم کو دے گئے وہ انہیں ہمیشہ زندگی رکھے گا۔یاد رہے کہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی، پہلی نشست میں فضل ربی استاد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد دوسری نشست موسیقی کا اہتمام کیا گیا جس میں فضل ربی استاد کے برخوردار عرفان کمال اور ممتاز گلوکار فضل وہاب درد نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 28/03/2016 - 18:28:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں