جب تک وفاقی و صوبائی حکومتیں کاروباری طبقے کو درپیش تمام مسائل حل نہیں کرلیتیں ..
تازہ ترین : 1

جب تک وفاقی و صوبائی حکومتیں کاروباری طبقے کو درپیش تمام مسائل حل نہیں کرلیتیں تب تک کاروبار اور صنعت کی ترقی ممکن نہیں،فواد اسحاق

خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کے مسائل پنجاب ،سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں سے یکسر مختلف ہیں ،صوبے کا سب بڑا مسئلہ امن و امان کی ابتر صورتحال ہے،صدر خیبرپختونخوا چیمبر

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔21 مارچ۔2016ء)خیبر پختونخوا چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ذوالفقار علی خان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور صنعتوں کی ترقی کو امن و امان کی بحالی ٗ ٹیکس نظام میں بہتری ٗ بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی اور معاشی و تجارتی پالیسیوں میں استحکام سے مشروط کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں کاروباری طبقے کو درپیش تمام مسائل حل نہیں کرلیتیں تب تک کاروبار اور صنعت کی ترقی ممکن نہیں ۔

خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ ہے اس کی معاشی بحالی کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ان کے ماتحت محکموں کو آگے بڑھ کر بزنس کمیونٹی کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ڈومیسٹک کامرس ونگ اسلام آباد عتیق الرحمان سے چیمبر ہاؤس میں بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پر چیمبر کے نائب صدر شجاع محمد ٗ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پشاور کے ڈائریکٹر نعمان بشیر ٗ ڈائریکٹر جی جی آئی پی نوید مسعود ٗ ایگزیکٹو ممبران عبدالجلیل جان ٗ صادق امین ٗ راشد اقبال اور ضیاء الحق سرحدی ٗ خان گل اعوان ٗ عابد اﷲ یوسفزئی اور اکبر شیراز سمیت دیگر ممبران بھی موجود تھے ۔ خیبر پختونخوا چیمبر کے صدر ذوالفقار علی خان نے ڈی جی ڈومیسٹک کامرس ونگ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کے مسائل پنجاب اور سندھ سمیت ملک کے دیگر صوبوں سے یکسر مختلف ہیں اور اس صوبے کا سب بڑا مسئلہ امن و امان کی ابتر صورتحال ہے جس کی وجہ سے یہاں کے تاجر اور سرمایہ کار اپنا سرمایہ دیگر صوبوں میں منتقل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک بزنس کمیونٹی کے جان و مال کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا اور ٹیکس نظام میں اصلاحات ٗ ٹیکس ری فنڈز اور بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی سمیت دیگر سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں تب تک اس صوبے کی بزنس کمیونٹی صنعت و تجارت کے شعبے کو ترقی نہیں دے سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں جدید سہولیات سے آراستہ ڈرائی پورٹ ٗ ایکسپو سنٹر اور دیگر تجارتی منصوبے خیبر پختونخوا چیمبر اور یہاں کی بزنس کمیونٹی کے دیرینہ مطالبات ہیں لیکن تاحال انہیں عملی جامعہ نہیں پہنایا جاسکا ۔

انہوں نے کہا کہ سٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2012-15ء میں ڈومیسٹک کامرس پر سٹڈی کے لئے سروے اُس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک صوبوں بالخصوص خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا۔انہوں نے تاجروں ٗ ایکسپورٹروں اور سرمایہ کاروں کے تحفظات کا تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس صوبے کو قدرتی وسائل سے مالا مال کررکھا ہے تاہم جب تک لوکل بزنس کمیونٹی اور چھوٹے کاروباری طبقے کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تب تک کسی قسم کی سفارشا ت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔

ڈی جی ڈومیسٹک کامرس ونگ عتیق الرحمان نے خیبر پختونخوا چیمبر کے صدر ذوالفقار علی خان کے تحفظات سے اتفاق کیا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ان کے حل کیلئے وزارت تجارت کے ماتحت مختلف محکموں کے سامنے یہ معاملات اٹھائیں گے اور خیبر پختونخوا چیمبر کی سفارشات کو عملی جامعہ پہنایا جائے گا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 21/03/2016 - 21:29:31

اپنی رائے کا اظہار کریں