کسی بھی ایمر جنسی یا قدرتی آفات سے نمٹنے میں ہلال احمر کاانتہائی اہم کردار رہا ..
تازہ ترین : 1

کسی بھی ایمر جنسی یا قدرتی آفات سے نمٹنے میں ہلال احمر کاانتہائی اہم کردار رہا ہے،محمدعاطف

اگر ہلال احمر تعلیم کے شعبے میں بھی اپنی خدمات کو وسعت دے تو سونے پہ سہاگہ ہو گا،وزیرتعلیم خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 مارچ۔2016ء)خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے بلاشبہ قومی اور بین الاقوامی سطح پرکسی بھی ایمر جنسی یا قدرتی آفات سے نمٹنے میں ہلال احمر کاانتہائی اہم کردار رہا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں قوم کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔اگر ہلال احمر تعلیم کے شعبے میں بھی اپنی خدمات کو وسعت دے تو سونے پہ سہاگہ ہو گا اوراس کے ملک کی ترقی و خوشحالی پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں ہلال احمر پاکستان (خیبرپختونخوا برانچ) کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔اس موقع پر دوسروں کے علاوہ سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم افضل لطیف ،ایڈیشنل سیکرٹری قیصر عالم ،ہلال احمر پاکستان (خیبرپختونخوا برانچ) کے بورڈ ممبران سابق صوبائی وزیر حاجی محمد جاوید ،خالد سلطان خواجہ ،نواز خان ،انعام اﷲ خان ،صوبائی سیکرٹری سید علی حسن اورصوبائی پروگرام آفیسرواصف خان بھی موجود تھے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ صوبائی حکومت ہلال احمر پاکستان کے ساتھ ہے اور اس کی انسانیت کے لئے بے لوث خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے انہوں نے ہلال احمرکوحکومت کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کی تمام تر توجہ سرکاری سکولوں کی بہتری اور تعلیم سے محروم بچوں پر ہے کیونکہ جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی اور ہر بچہ زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہو گا ترقی و خوشحالی کا تصور بھی نہیں کیاجا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑ ا المیہ سکول نہ جانے والے لاکھوں بچے ہیں جنہیں سکول لاناایک بڑا چیلنج ہے لہذاایسے بچوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کے لئے حکومت کا گھرگھر سروے کرنے کا پروگرام ہے۔عاطف خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں شعبہ تعلیم پچھلی حکومتوں کی ترجیح ہی نہیں رہی اور سیاسی اور ذاتی پسند و نا پسند پر تعلیمی ادارے بنائے گئے اور میرٹ کو پامال کرکے اپنے چہیتوں کو بھرتی کیاگیا جس کی وجہ سے تعلیم کا شعبہ ترقی کی بجائے روبہ زوال رہاتاہم موجودہ حکو مت نے برسراقتدار آتے ہی تعلیم سمیت ہر شعبے میں اصلاحات کا آغاز کیا۔

شعبہ تعلیم کے لئے ملک کی تاریخ میں پہلی بار سب سے زیادہ یعنی بجٹ کا 28فیصد مختص کیا اورموجودہ سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کاپلان بنایاجس پر پیرنٹس ٹیچرز کونسل کے ذریعے عملدرآمد جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پرائمری سکول اب 2کی بجائے 6کمروں مشتمل ہونگے اور اس میں پرنسپل آفس اور سٹاف روم کے علاوہ بچوں کے لئے پلے ایر یا بھی لازمی ہونگے جبکہ موجودہ 10ہزار پرائمر ی سکولوں میں بھی بنیادی سہولیات سمیت پلے ایریاز بھی تعمیر ہوں گے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ خواتین کل آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہیں لیکن ان کے لئے سکولوں کی تعمیر کا کوٹہ صرف 35فیصد تھا جسے موجودہ حکومت نے بڑھاکر 70فیصد کردیاہے اسی طرح پرائمر ی سطح کے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لئے ڈرائنگ کونئی تعلیمی سال سے متعارف کرایا جارہاہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 09/03/2016 - 17:27:25

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں