ہم مثبت اور تعمیری سیاست کے قائل ہیں اسلئے پختونوں کو باوقار قوموں کی صفوں میں ..
تازہ ترین : 1

ہم مثبت اور تعمیری سیاست کے قائل ہیں اسلئے پختونوں کو باوقار قوموں کی صفوں میں دیکھنا چاہتے ہیں ،سکندر حیات خان

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 فروری۔2016ء)قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین وسینئر صوبائی وزیر سکندر حیات خان شیرپاؤنے کہا کہ پختون خطہ اور پختونوں کو امن،ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے عملی جدوجہد کی جائے گی ۔انھوں نے کہا کہ ہم مثبت اور تعمیری سیاست کے قائل ہیں اور پختونوں کو باوقار قوموں کی صفوں میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے گاؤں بکیانہ یونین کونسل کانگڑہ شبقدر ضلع چارسدہ میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اے این پی کے سرکردہ کارکنوں الیاس خان،جواداﷲ،معتبر خان،عطاء محمد،اختر خان،حنیف خان،محتاج اﷲ،فصیح اﷲ،اقبال خان،ثناء اﷲ،عمران خان،زربادشاہ،نور خان،بختیار خان،خان باچہ،ضمیر گل،حضرت خان،سید کریم،نعیم خان اور حسین اﷲ نے اپنے ساتھیوں اور خاندانوں سمیت قومی وطن پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

سکندر شیرپاؤ نے کہا کہ ہم پختونوں کا حق اور تحفظ چاہتے ہیں اور اس ضمن میں قومی وطن پارٹی کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔انھوں نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کو پورا حصہ دینے اور دہشت گردی کی وجہ سے متاثرہ معاشی و اقتصادی حالات کی بہتری کیلئے خیبر پختونخوا کو بھرپور توجہ دینے کاوفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو گزشتہ کئی دہائیوں سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے ۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے صوبے کو انتہائی نقصان پہنچا ،کاروبار اور عوام سمیت صوبے کی معیشت اورصنعتی زونز بھی شدید متاثر ہوئے۔انھوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ وسائل سے مالا مال ہے اور صوبہ اس وقت بجلی ،گیس اور پٹرولیم مصنوعات وافر مقدار میں پیدا کررہا ہے اور اس کے ثمرات سے عوام کو مستفید کرنے کیلئے صوبائی حکومت کی تگ و دو جاری ہے۔

انھوں نے بجلی خالص منافع پرلگے قد غن کے خاتمہ کو صوبائی حکومت کا ایک اہم کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبے کے معاشی مشکلات پر قابو پایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ آج جو لوگ اس ضمن میں بے جا تنقید کر رہے ہیں انھوں نے اپنے دور حکومت میں اس طرف توجہ کیوں نہیں دی ۔انھوں نے کہا کہ پچھلی صوبائی حکومت نے بجلی خالص منافع سمیت صوبے کے اہم مسائل پر چشم پوشی اختیار کی اور ان پر توجہ دینے کی بجائے صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھائے اور بجلی بحران پر بھرپور توجہ دے کر اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے۔

وقت اشاعت : 27/02/2016 - 18:51:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں