صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کااجلاس، 22817.981بلین روپے تخمینہ لاگت سے 75پراجیکٹس کی ..
تازہ ترین : 1

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کااجلاس، 22817.981بلین روپے تخمینہ لاگت سے 75پراجیکٹس کی منظوری

اجلاس میں صوبے کی ترقی کے لئے مختلف شعبوں میں 92منصوبوں پر غور و خوض کیا گیا اور اس میں 22817.981بلین روپے کے تخمینالاگت سے 75پراجیکٹس کی منظوری دی گئی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 فروری۔2016ء)صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (PDWP)نے 22817.981بلین روپے تخمینہ لاگت سے 75پراجیکٹس کی منظوری دے دی ہے ۔پی دی ڈبلیو پی کا ایک اجلاس ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی ۔اجلاس میں صوبے کی ترقی کے لئے مختلف شعبوں میں 92منصوبوں پر غور و خوض کیا گیا اور اس میں 22817.981بلین روپے کے تخمینالاگت سے 75پراجیکٹس کی منظوری دی گئی جبکہ 13پراجیکٹس کے ساتھ اختلاف کیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری سکول ایجوکیشن سیکٹر میں منظور شدہ پراجیکٹس میں صوبہ خیبر پختونخوا کے جملہ سکولوں اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں پوزیشن ہولڈر طلباء کے لئے ’’ ستوری د پختون خوا ‘‘ پروگرام کے تحت سکالرشپس کی فراہمی شامل ہے ۔اسی طرح ہائر ایجوکیشن سیکٹر کے منظور شدہ پراجیکٹس میں گورنمنٹ کالج میں بیچلر آف سائنس بلاک کی تعمیر ، اوگی اور مانسہرہ میں گورنمنٹ ڈگری کالجز کا قیام ، الائی بٹگرام اور لوئر تناول ایبٹ آباد میں گرلز ڈگری کالجز کا قیام شامل ہیں ۔

کھیلوں اور سیاحت کے شعبہ میں منظور شدہ اکلوتا پراجیکٹ ، ایبٹ آباد میں بین الاقوامی معیار کے کثیر المقاصد جمنازیم کا قیام ہے ۔ تعمیر کے شعبہ میں جہانگیرہ ، نوشہرہ اور بٹگرام شانگلہ میں سب ڈویژنل کمپلیکس کی ایف ایس ڈیزائن اور تعمیر شامل ہے ۔سڑکوں کے شعبہ میں ضلع ہری پور کے گاؤں خانپور کی داخلی سڑک یونین کونسل سرائے صالح ، شاہ مقصود ، ریحانہ علی خان ، درویش ، پنڈ ہاشم خان ، یونین کونسل جنوبی اورپینڈک(اے)۔

شمالی بائی پاس تا اکبر پورہ اور دیہہ جبہ داؤدزئی ۔پی کے 09تا پی کی 13،(بی) دامن افغانی اور خرکئی کے راستے میاں گجر تا چارسدہ روڈ کی تعمیر اور بحالی اور شکرپورہ روڈ پشاور جلوزئی تا کوٹکی کلاں ، ضلع نوشہرہ روڈ کی تعمیر ، ضلع دیر بالا میں نہاگ درہ (فیز۔ون) کی سڑک کی تعمیر ، ضلع ہری پور میں ڈور ، موہرہ منڈا ،منکیرہ کے اوپر آر سی سی ، پل کی تعمیر ، سرائے صالح تا پنڈ جمال خان روڈ کی بحالی 3.180کلو میٹر طویل شاہ مقصو مائرہ روڈ کی بحالی ۔

ضلع مردان میں مایار تا باچا خان رسائی سڑک بشمول چکارو پل لنک روڈ تا غریب آباد 7.225کلو میٹر طویل صوابی روڈ تا دیر خاطم سڑک کی بحالی اور بہتری 7.650کلو میٹر طویل پیپل چوک تا غازی بابا روڈ کی بحالی اور بہتری ، مینگورہ شہر میں اندرونی لنک روڈ کی مرمتی ، بحالی اور مین مینگورہ لئی کے بائی پاس سے (B)اور کوہستان گٹ سیدو شریف تا مہو بنڑ ضلع سوات ، کالام تا جھیل مہو ڈہنڈ (27کلو میٹر ) ضلع بنوں میں نری خیل تا میریان روڈ کی دوبارہ تعمیر اور بحالی 15کلو میٹر سڑکی ۔

ڈی ڈبلیو ایس ایس سیکٹر میں منظورشدہ پراجیکٹس میں واٹر سپلائی سکیم رسالپور /ضلع نوشہرہ میں واٹر سپلائی سکم رسالپور ، ضلع نوشہرہ مونسپل کمیٹی، ضلع ایبٹ آباد میں ڈسٹرٹی ببیوشن سسٹم کی بحالی ، پی کے 82میں ضلع سوات میں واٹر سپلائی سکیم اور ڈسٹری بیوشن واک ، ضلع سوات کے مختلف علاقوں میں سپلائی سکیمیں شامل ہیں ۔ ضلع کوہاٹ کے یونین کونسلوں بہادر کوٹ ، توغ ون ، توغ ٹو ، دھوڈہ ، بلی ٹنگ ، خرماتو، گمبٹ ، چورلکی ، خوشحال گڑھ اور زیارت شیخ اﷲ داد میں واسپلائی سکیمیں اور ڈسٹری بیوشن سسٹم ۔

ضلع نوشہرہ کی یونین کونسلوں ، جلوزئی اور سپین خاک میں آئی ڈی پیز کے پروگرام کے تحت پی کے 32میں ضلع صوابی میں واٹر سپلائی سکیم اور نکاسی آب کے منصوبے تعمیر کرنا ، ڈسٹری بیوشن سسٹم سمیت واٹر سپلائی پی کے 33-ٹیویلز کی تنصیب ۔ پی کے 25اور پی کے 27 مردان میں واٹر سپلائی سکیمز اور ڈسٹری بیوشن کی تنصیب ، پی کے 88شانگلہ میں واٹر سپلائی سکیمیں اور ڈسٹری بیوشن کا کام پہلے سے موجود اور آبنوشی کے نئے منصوبوں کو ٹھوس شکل دینا ، صوبہ خیبر پختونخوا میں بغیر شمسی توانائی کے ہائی پیڈ سکیمز اور گریوٹی سسٹم ، غیر مستفید دیہات میں اس غرض سے ماسٹر پلاننگ کہ خیبر پختونخوا میں پانی کی سو فیصد کوریج کو یقینی بنایا جا سکے شامل ہیں جبکہ اربن ڈیویلپمنٹ سیکٹر میں منظور شدہ منصوبوں میں رنگ روڈ (جنوبی سیکشن ) پشاور پر زکوڑی فلائی اوور تا حیات آباد ٹول پلازہ سروس روڈز کی تعمیر ، موجودہ جمرود روڈ کو کشادہ کرکے اس کی حالت بہتر بنانا ، تمبوانو موڑ تا حیات آباد میں داخل ہونے کے پہلے مقام تک خزانہ کے سیکٹر میں صرف ایک منصوبہ کی منظوری دی گئی ہے جو فنانس ڈیپارٹمنٹ میں ریفارمز مانیٹرنگ یونٹ ‘‘۔

اسی طرح ریلیف اور بحالی کے سیکٹر میں منظور کئے جانے والے پراجیکس میں اضلاع سوت و کوہاٹ میں خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس (1122)کا قیام جولائی ، اگست 2015ء میں بالائی چترال میں 33سکیمیں ) سیلاب سے متاثر واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی، لوئر چترال 44سکیمیں صحت کے شعبہ میں منظور شدہ پراجیکٹس میں نوشہرہ میڈیکل کالج (فیزون ) کا قیام اور اضاخیل ضلع پشاور کے بنیادی مرکز صحت کا درجہ بڑھاکر دیہی مرکز صحت کرنا سماجی بہبود کے شعبہ میں صرف ایک منصوبہ ماڈل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹ چلڈرن ( زمونگ کور) کی ناساپہ پایان فلیٹس میں قیام کی منظوری دی گئی ۔

آبپاشی کے شعبہ میں منظور شدہ پراجیکٹس میں ضلع صوابی میں بدری نالہ کے بائیں کنارے گاؤں او رپنج پیر مدرسہ کے ساتھ ساتھ سیلاب سے حفاظتی پشتوں کی تعمیر ، جوغورکورو شوغور ضلع چترال میں 1000ملین روپے کی لاگت سے سیلاب سے حفاظتی بند طوطہ کان ، خادار میرخیل میں زرعی اراضی اور دیہی آبادی کو سیلاب سے بچانے کے لئے 6.00ملین روپے کی لاگت سے حفاظی پشتوں اور بند7.00ملین روپے کی لاگت سے ضلع مردان کے علاقہ طورو میں بشمول نکاسی آب کلیرنس زرعی اراضی ، قبرستانوں کے حفاظت کے لئے پہلے سے موجود فلڈ پروٹیکشن کے کام میں توسیع ۔

کلپانی نالہ پر واقع دیہی آبادی بائیں کنارے کے حفاظی پشتو ں کی توسیع ۔7.00ملین روپے کی لاگت سے ساول ڈھیر بکرائے خپہ مردان میں سیلاب سے حفاظتی کام ۔ 10ملین روپے کی لاگت سے ضلع بنوں کے دریائے کرم کے بائیں کنارے پہلے سے موجود تربیتی کاموں کی بحالی اور حالت کو بہتر بنانا 55+000تا 85-000آر ڈی سے ڈیرہ اسماعیل خان میں مارجینل بند کی حالت بہتر بنانا ( 10ملین روپے ) سے ضلع ڈی آئی خان کے نالہ تکواڑہ میں دیہہ پارک کی حفاظت کے لئے سیلاب سے حفاظی بند کی تعمیر (25ملین روپے)سے ایف پی ڈبلیو نزد ملک پور گاؤں مانسہرہ دریائے چک کالام پور ، ہری پور ، جموں غازی ایریا ہری پور 70ملین روپے سے ۔

ضلع نوشہرہ میں دریائے کابل کے بائیں کنارے خویشگی تا نوشہرہ کلاں فلڈپروٹیکشن کی تعمیر ۔ ضلع بنوں میں فلڈ پروٹیکشن بند تعمیر کرکے اس کی حالت کی بہتر بنانا ، پٹرول روڈ اور آبپاشی چینلز ۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں نہروں کے ساتھ ساتھ واقع سڑکوں کا درجہ بڑھانا ۔ ضلع نوشہرہ میں پہاڑی مقامات میں سیلاب سے حفاظتی انتظامات کے اقدامات ضلع ہری پور میں گٹ دالن ڈیم کی تعمیر ، صوبہ خیبر پختونخوا میں فلڈ میٹی گیشن کی تعمیر اور ضلع پشاور میں بندری نالہ کی مرمت ۔

محکمہ داخلہ کے سیکٹر میں صرف ایک پراجیکٹ کی منظوری دی گئی جو ڈسٹرکٹ جیل سوات کی دوبارہ مرمت ہے خیبر پختونخوا پولیس کے لئے ترقیاتی فنڈ اور ماڈل پولیس سٹیشن کا قیام ، باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے متصل علاقہ میں ہمہ گیر سکیورٹی کے لئے رورل ڈویژن اور کنٹونمنٹ میں واچ عادرز کی تعمیر شامل ہے ۔ہاؤسنگ کے شعبہ میں صرف ایک پراجیکٹ کی منظوری دی گئی جو پشاور ہاؤسنگ اتھارٹی کے لئے حیات آباد میں دفتر کی تعمیر ہے ۔

صنعتوں کے شعبہ میں فنی تعلیم کی ترقی کے لئے ون لائنر فراہمی برائے ترقی و بہتری حالت ہے ۔ گدون امازی کی صنعتی بستی کی حالت کو بہتر بنانا ، بحالی اور جدت طرازی ۔ پیسکو کی مالی معاونت سے انڈسٹریل اسٹیٹ حطار میں کے وی 132گرڈ سٹیشن کی تعمیر ۔ معدنیات کی ترقی کے شعبہ میں صرف ایک پراجیکٹ کی منظوری دی گئی جو مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں محفوظ تخمینہ برائے معدنیات اور اقتصادی ترقی کا مطالعہ ہے سائنس ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹر میں صرف ایک پراجیکٹ کی منظوری دی گئی جو صوبہ خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں شمسی نظام کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ لیبارٹریز کاقیام ہے۔

\\\\\\\

وقت اشاعت : 10/02/2016 - 22:05:38

اپنی رائے کا اظہار کریں