خیبر پختونخوا حکومت نے مارچ میں ہونے والی مردم شماری پر تحفظات کاا ظہار کردیا
تازہ ترین : 1

خیبر پختونخوا حکومت نے مارچ میں ہونے والی مردم شماری پر تحفظات کاا ظہار کردیا

پشاور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین 10 فروری۔2015ء)خیبر پختونخوا حکومت نے مارچ میں ہونے والی مردم شماری پر تحفظات کاا ظہار کردیا ہے جس کے باعث مارچ میں ہونے والی مردم شماری کے امکانات ختم ہونا شروع ہو گئے ہیں۔رواں سال کے مارچ میں ہونے والی مردم شماری کے لئے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں ایک لاکھ ستر ہزار سینس بلاک بن چکے ہیں ہر بلاک میں شمار کنندہ کے ساتھ ایک فوجی جوان بھی ہو گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مردم شماری سے تعلق گورننگ کونسل اور فنکشل ممبران پر اعتراضات کرتے ہو ئے موقف اختیار کیا ہے کہ چیف سینس کمشنر سمیت چھ اراکین کاتعلق پنجاب سے ہے جب تک تمام صوبوں کو نمائندگی نہیں ملے گی صوبے میں مردم شماری نہیں کی جائیگی صوبے میں آخری مردم شماری اٹھارہ برس قبل 1998میں ہو ئی تھی ۔ ادارہ شماریات کے ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے علاوہ بلوچستان حکومت نے بھی مردم شماری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ مردم شماری کے لئے ساڑھے تین لاکھ سے زائد پاک فوج کے اہلکاروں کے خدمات بھی درکار ہو گی

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/02/2016 - 21:00:55

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں