کے پی کے کے محکمہ صحت کے پچانوے فیصد لوگ ہمارے اصلاحاتی پروگرام کے ساتھ ہیں، عوام ..
تازہ ترین : 1
کے پی کے کے محکمہ صحت کے پچانوے فیصد لوگ ہمارے اصلاحاتی پروگرام کے ساتھ ..

کے پی کے کے محکمہ صحت کے پچانوے فیصد لوگ ہمارے اصلاحاتی پروگرام کے ساتھ ہیں، عوام سے اداروں کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی میڈیا سے گفتگو

پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔09 فروری 2016ء): پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاﺅس میں اجلاس ہوا۔ جس میں عمران خان نے ہڑتالی ڈاکٹر کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی بنیادی صحت کی سہولیات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔مریضوں کا علاج کرنے والوں کے لیے اسپتالوں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق بات ہی نہیں کی۔نجکاری کی ڈیلز ن لیگ کی تاریخ ہیں۔ ہم کے پی کے کے اسپتالوں کی نجکاری نہیں کر رہے اصلاحات لے کر آ رہے ہیں، بڑی منصوبہ بندی کے تحت دو مختلف ایشوز کو ملایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی ممکنہ نجکاری اور پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کے دوران فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

پی آئی اے کے پر امن ملازمین پر گولیاں بر سائی گئیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے پر تین سو ارب کا قرضہ ہے کون سی کمپنی ادا کرے گی۔پی آئی اے بہترین ائیر لائن تھی جسے سفارشات اور سیاسی مداخلت کے سبب تباہ کیا گیا۔ بتایا جائے کہ پی آئی اے کی نجکاری کیوں کی جا رہی ہے؟؟ انہوںنے کہا کہ کے پی کے کے اسپتالوں کی نجکاری نہیں اصلاحات کر رہے ہیں۔

ہم پاکستان کے اسپتالوں کی حالت بہتر کر کے ریفارمز لا رہے ہیں۔جس کے لیے ڈاکٹرز کے ساتھ میٹنگز سمیت ورکشاپس بھی کروائی گئیں جس میں انہیں نجکاری کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا۔عمران خان نے کہا کہ چھ ارب روپے سرکاری اسپتالوں کی بہتری کے لیے ڈالا گیا لیکن مینجمنٹ ٹھیک نہیں کریں گے تب تک نظام بھی ٹھیک نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتالوں کی اصلاحات پی ٹی آئی کے 2013ءکے منشور میں شامل ہے۔

اسپتالوں میں اصلاحات کو پرائیویٹائزیشن نہیں کہا جا سکتا ۔حکومت نے بھی کے پی کے کی اصلاحات کی تائید کی ۔ا نہوں نے کہا کہ کے پی کے کے محکمہ صحت کے پچانوے فیصد لوگ حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کے ساتھ ہیں۔اسی طرح کالجز کو بھی بہتر کر رہے ہیں پرائیویٹ نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے سوال کیا کہ جو ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں کیا وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسپتالوں میں لے کر جائیں گے۔

چند ڈاکٹرز اپنی نجی پریکٹس اور مفاد کے لیے حکومت کی مخالفت کر رہے ہیں۔لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے۔عوام سے وعدہ کیا تھا کہ سر کاری اسپتالوں کی حالت کو بہترکیا جائے گا۔اور اس وعدے کو ہم ہر صورت پورا کریں گے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی تک ڈاکٹر کے احتجاج میں پولیس کا استعمال نہیں کیا ، ہم نے ابھی تک بات چیت سے ہی کام لیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ امیر مقام نے اسپتالوں میں جا کر ڈاکٹرز کو اُکسا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویر خٹک کو کہوں گا کہ امیر مقام کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں۔کیونکہ کچھ لوگ جان بوجھ کر اسپتالوں میںکنفیوژن پیدا کر رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ہم سیاسی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے خو د مختار بورڈ بنا رہے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 09/02/2016 - 14:36:56

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں